Friday, 27 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Amer Abbas
  4. Sabr Ka Imtihan

Sabr Ka Imtihan

صبر کا امتحان

وہ اتوار کا دن بھی کسی عام چھٹی والے دن کی طرح شروع ہوا تھا مگر وقت کی یہ عادت ہے کہ وہ بعض دنوں کو ہمیشہ کے لیے تلخ یاد بنا دیتا ہے۔ کمرے میں خاموشی تھی، دیوار پر لگے کلاک کی ٹک ٹک ایسے سنائی دے رہی تھی جیسے وقت خود گواہی دے رہا ہو۔ دادا جی چارپائی پر نیم دراز تھے، چہرے پر عمر بھر کی تھکن زدہ جھریاں اور آنکھوں میں وہ کہانیاں جو لفظوں کی محتاج نہیں ہوتیں۔ اچانک اُن کی آواز ابھری۔۔ بھاری، دھیمی، کانپتی ہوئی اور شکستہ۔۔

"پتر، ہون ہمت جواب دے گئی اے"۔

یہ کوئی شکوہ نہیں تھا، یہ عمر کے طویل سفر کا خلاصہ تھا۔ ہم عموماً لمبی عمر کو نعمت سمجھتے ہیں، دعاؤں میں مانگتے ہیں، بزرگوں کے لیے کہتے ہیں: "اللہ لمبی عمر دے"۔ مگر ہم شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ لمبی عمر صرف سانسوں کی طویل روانی کا نام نہیں، یہ جدائیوں کا طویل حساب بھی ہے۔ دوسری صورت میں طویل عمر زندگی کا خراج صدمات کی صورت میں لیتی ہے۔ دادا جی کی آنکھوں میں تیرتا ہوا پانی اسی حساب کا بوجھ تھا۔ انہوں نے ایک ایک کرکے وہ نام گنوائے جو اب صرف یادوں میں زندہ تھے۔۔ دادا جی کے دونوں مرحوم بھائی۔۔ دونوں مرحوم جوان داماد، ایک مرحوم جوان بیٹی۔۔ دو مرحوم جوان بیٹے اور ہر نام کے ساتھ ان کی آواز کچھ اور بوجھل ہوتی گئی جیسے ہر یاد سینے پر رکھا ایک اور پتھر ہو۔

لمبی عمر انسان کو یہ کرب دیتی ہے کہ وہ جنازوں کو کندھا دینے کا عادی ہو جاتا ہے۔ پہلے دوست جاتے ہیں، پھر ہم عمر، پھر اپنے سے چھوٹے اور آخر میں۔۔ اپنے بچے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں فطرت کا ترتیب نامہ الٹ جاتا ہے۔ باپ بیٹے کو دفن کرتا ہے، ماں اپنے جگر کے ٹکڑے کو مٹی کے حوالے کرتی ہے اور عمر باقی رہ جاتی ہے۔۔ ادھوری، زخمی، خاموش۔

روزمرہ زندگی میں اس کا عکس ہم جگہ جگہ دیکھتے ہیں۔ محلے کے اُس بزرگ کو دیکھ لیجیے جو ہر کچھ دنوں کے بعد قبرستان کا رخ کرتا ہے کیونکہ وہاں اس کے اپنے سوئے ہیں۔ اُس بوڑھی ماں کو دیکھ لیجیے جو بچوں کے شور سے نہیں، خاموشی سے ڈرتی ہے کیونکہ خاموشی اسے اُن بیٹوں کی یاد دلاتی ہے جو اب نہیں رہے۔ لمبی عمر بعض اوقات یادوں کا ایسا بوجھ بن جاتی ہے جسے نہ اتارا جا سکتا ہے، نہ بانٹا جا سکتا ہے۔

دادا جی کے الفاظ۔۔ "کیا ایسا جینا آسان ہے؟"۔۔ اصل میں ایک سوال نہیں، ایک سچ ہے۔ وہ سچ جسے ہم جوانی میں سمجھ نہیں پاتے۔ ہم سمجھتے ہیں وقت سب زخم بھر دیتا ہے، مگر کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ گہرے ہو جاتے ہیں۔ ہر نئی صبح ایک نئی جدائی کی یاد لے آتی ہے اور ہر رات انسان اپنے ہی دل کے ملبے پر لیٹ جاتا ہے۔

لمبی عمر یقیناً اللہ کی عطا ہے مگر یہ عطا صبر کا امتحان بھی ہے۔ یہ انسان کو مضبوط بناتی ہے مگر اس مضبوطی کی قیمت آنسوؤں اور اپنوں کی جدائی سے ادا ہوتی ہے۔ دادا جی جیسے لوگ ہمیں یہ سبق دے جاتے ہیں کہ زندگی کی اصل دعا صرف لمبی عمر نہیں بلکہ ایسی عمر ہے جس میں جدائیوں کا بوجھ اٹھانے کی ہمت بھی عطا ہو۔ کیونکہ بعض اوقات سب سے بڑا دکھ مر جانا نہیں ہوتا۔۔ بلکہ زندہ رہ جانا ہوتا ہے، اُن سب کے بغیر جن کے ساتھ جینے کی عادت ہو چکی ہو۔ اگر یقین نہیں ہے تو اپنے قریبی کسی بزرک سے پوچھیں۔۔

Check Also

Sabr Ka Imtihan

By Amer Abbas