Kameene Doctors
کمینے ڈاکٹرز

مجھے تو پاکستان میڈیکل کاؤنسل اور ان کے ترتیب کردہ کورس ورک کی بھی سمجھ نہیں آتی کہ یہ ڈاکٹرز کو سوائے اناٹمی، فزیالوجی یا ایسی پیچیدہ ٹرمینالوجی والے سبجیکٹ پڑھانے کے ساتھ بنیادی اخلاقیات، انسانیت اور خوف خدا بھی پڑھاتے ہیں کہ نہیں۔ یا پھر یہ صرف ایک ایسے انسان بناتے ہیں جو بنیادی طور پر بے حس ہوتے ہیں۔
کیونکہ ماسوائے چند ایک ڈاکٹرز کے باقی سب انتہائی بے حس اور گھٹیا برتاؤ رکھنے والے رہے ہیں۔ انہیں یہ نہیں علم کہ مریض کے سامنے کیا بات کرنی ہے۔ کیونکہ جب بچہ پنجاب نیورو سائنس میں داخل کروایا تھا تو ایک دن ایک ینگ ڈاکٹر اس کے پاس آ کر بچے کے والدین کو یہ کہہ رہا تھا کہ یہ تو مر جائے گا، اس کی موت واقع ہونے والی ہے۔ مطلب آپ مریض کا یوں حوصلہ توڑنے والی بات کیسے کر سکتے ہیں؟ اتنا فضول شخص کون ہو سکتا ہے؟ پھر ہر دوسرے دن مریض کے والدین کو کسی بھی سوال پر جھڑکنا اور ان سے اس بات پر دشمنی پالنا کہ یہ بات پوچھنے کی ہمت کیسے کر لی ہے؟ عجیب گھٹیا پن ہے۔
اس سب کو ہم بھول سکتے تھے لیکن اس سے بھی گھٹیا بات یہ ہوئی کہ ڈاکٹر کو عصر کے وقت مریض کو چیک کرنے کا کہا کہ بچہ پیشاب نہیں کر رہا کوئی تو خرابی ہوگی اور وہ ینگ ڈاکٹر رات گیارہ بجے فقط اس کی موت کنفرم کرنے آیا تھا۔ اس دوران اُس نے بات ان سنی کر دی۔
اور موت کے بعد بھی بطور انسان آپ معذرت کرتے ہیں، ایک رسمی جملہ ہی سہی لیکن آپ بولتے تو ہیں نا، لیکن اُس کمینے شخص نے بس یہ کہا کہ آپ کا بچہ فوت ہوگیا ہے اور پھر جب بچے کے والد نے گلہ کیا کہ آپ نے چھ گھنٹے سے بچہ نہیں دیکھا ہے تو وہ کمینہ اور اس کا دوست ہنس کر کسی اور کام میں مصروف ہو گئے۔
چلیں میڈیکل سائنس نا ہی سہی، اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انسانی جان کی حرمت ہے یہ اہم چیز ہے۔ اس کے نقصان کا ازالہ نہیں ہوسکتا، اسلام نا سہی بنیادی انسانی اخلاقیات بھی یہی بتاتی ہیں۔ لیکن دو ڈاکٹرز تھے دونوں نے نا ہی معذرت کی اور نا ہی افسوس کا اظہار کیا بلکہ ہنس کر آگے چل دئیے۔ بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ انہوں نے مریض کی موت پر شکر ادا کیا کہ ایک ٹینشن سے جان چھوٹی ہے اب کسی اور کو بستر دے کر اپنی یس بنائیں گے۔
بھئی ایسی انسانیت کی خدمت پر تف کہ آپ افسوس کا ایک جملہ بھی کہنے کی ہمت اور صلاحیت نا رکھتے ہوں۔ کیا فائدہ اتنی لمبے القابات کا کہ میں ڈاکٹر فلاں ایف سی پی ایس اور فلاں ڈھمکاں ہوں۔
یہ برتاؤ دیکھ کر مزید مایوسی ہوئی اور اب بھی کوئی ڈاکٹر یہ بہانہ بنا کر پیش کرے گا کہ ورک لوڈ ہوتا ہے۔ جبکہ اگر انہی ڈاکٹروں کو تین ہزار پرائیویٹ پریکٹس پر دیں تو یہ ورک لوڈ بھول جاتے ہیں۔ کوئی بنیادی اخلاقیات، انسانیت یا پھر خدمت خلق کا جذبہ ہی نہیں ہے۔ بس تنخواہ پوری کرنی ہے۔ پیسہ کمانا ہے۔ گھر اور کوٹھی بنانی ہے۔
اور پھر یہ کہتے ہیں کہ ہمیں انسانیت کا خادم کہیں، ہزار میں سے دس کو نکال کر سب ہی ایک جیسے ہیں۔

