Wednesday, 14 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Zahra Javed
  4. Risk Lena Zindagi Ki Zaroorat Kyun Hai?

Risk Lena Zindagi Ki Zaroorat Kyun Hai?

رسک لینا زندگی کی ضرورت کیوں ہے؟

رسک لینا پڑتا ہے، کیونکہ حالات کبھی بھی ایک جیسے نہیں رہتے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ وقت مسلسل آگے بڑھتا رہتا ہے اور جو انسان وقت کے ساتھ قدم نہیں ملاتا، وہ آہستہ آہستہ پیچھے رہ جاتا ہے۔

اگر آج آپ رسک لینے سے گھبرا رہے ہیں تو یاد رکھیے کہ جو قدم آج نہیں اٹھایا جاتا، وہ کل ایک بڑی مجبوری بن جاتا ہے۔ پیچھے رہ جانے والوں کے لیے صرف منزلیں ہی دور نہیں ہوتیں بلکہ ان کا وقت بھی بڑی مشکل سے گزرتا ہے۔

منزل تک پہنچنے کے لیے صرف خواہش کافی نہیں ہوتی، بلکہ پہلا قدم اٹھانا ضروری ہوتا ہے۔ جس طرح بغیر ایندھن کے آگ نہیں جلتی، اسی طرح بغیر کوشش کے کامیابی کا سفر بھی شروع نہیں ہوتا۔

زندگی کے کچھ راستے واقعی انجان ہوتے ہیں۔ ان راستوں پر چلتے ہوئے دل میں خوف پیدا ہوتا ہے، ذہن سوالات سے بھر جاتا ہے، مگر یاد رکھیے کہ یہی انجان راستے انسان کو زندگی کے سب سے قیمتی سبق سکھاتے ہیں، ایسے سبق جو کتابوں میں نہیں ملتے۔

ڈر انسان کی زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ ہر انسان کے دل میں کسی نہ کسی چیز کا خوف ضرور ہوتا ہے، کیونکہ یہ قدرت کا نظام ہے کہ جہاں امید ہو، وہاں خوف بھی ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن اصل کامیابی ڈر سے بھاگنے میں نہیں بلکہ ڈر کو سمجھنے اور اسے صحیح جگہ استعمال کرنے میں ہے۔ اگر ڈر کو درست سمت میں استعمال کیا جائے تو وہ کمزوری نہیں رہتا بلکہ انسان کی طاقت بن جاتا ہے۔

جیسے پیچھے رہ جانے کا خوف انسان کو آگے بڑھنے پر مجبور کرتا ہے، خود کو ناکارہ بنا دینے کا ڈر محنت کی طرف لے جاتا ہے، اپنی صلاحیتیں ضائع ہو جانے کا خوف انسان کو بہتر بنانے کی کوشش پر آمادہ کرتا ہے۔ یہ وہ خوف ہیں جو اگر قابو میں ہوں تو انسان کو رکنے نہیں دیتے بلکہ ہر دن بہتر بننے کا حوصلہ دیتے ہیں۔

مگر اپنے خوف کی خاطر کام چھوڑ دینے سے نہ تو خوف کم ہوتا ہے اور نہ ہی حالات کی سختی ختم ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، جب انسان محنت کی سختی سے بھاگتا ہے تو وہ وقت کی سختی میں آ جاتا ہے۔

یہ ایک سچ ہے کہ محنت کی مشقت وقتی ہوتی ہے، مگر وقت کی مار طویل اور تکلیف دہ ہوتی ہے۔ وقت کے ہاتھوں زندگی برباد ہو جانا سب سے بڑا نقصان ہے، کیونکہ ضائع ہونے والا وقت نہ واپس آتا ہے اور نہ ہی دوبارہ موقع دیتا ہے۔

اسی لیے عقل مندی اسی میں ہے کہ انسان اپنے خوف کے باوجود قدم اٹھائے، کیونکہ محنت سے بچنے والا انسان بالآخر وقت کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔

Check Also

Jamhuriat Se Na Khush America Ki Agli Chaal Ki Muntazir Dunya

By Nusrat Javed