Khamosh Cheekhain, University Ke Talba Aur Zehni Dabao
خاموش چیخیں، یونیورسٹی کے طلبہ اور ذہنی دباؤ
آج کی یونیورسٹی محض تعلیم کا مرکز نہیں رہی۔ آخر کیوں ہر دوسرے دن کسی نہ کسی یونیورسٹی طالبِ علم کی خودکشی کی خبر سامنے آتی ہے؟ کیا واقعی یونیورسٹیوں میں ڈپریشن جیسے مسائل اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ روز کوئی نہ کوئی افسوس ناک واقعہ ہمیں جھنجھوڑ دیتا ہے؟
ذرا ٹھہریے، اس سے پہلے کہ ہم کسی ایک ادارے یا نظام کو ذمہ دار ٹھہرائیں، ہمیں اپنی روزمرہ زندگی پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ کیا ہم خود کسی ذہنی دباؤ کا شکار تو نہیں؟ یا ہمارا کوئی معمول ہمیں آہستہ آہستہ اس طرف لے تو نہیں جا رہا؟ اپنی طرزِ زندگی کا جائزہ لیجیے اور دیکھیے کہ آیا آپ کا روزمرہ معمول ایک صحت مند زندگی کو فروغ دے رہا ہے یا نہیں۔
آج کا طالبِ علم تعلیم کی بجائے نمبرز کی دوڑ میں ہے، کیونکہ یہ ذمہ داری اس پر معاشرے نے ڈال دی ہے۔ اگر اس کے اچھے نمبر نہ آئیں تو نوکری کیسے ملے گی؟ نوکری نہ ملی تو گھر کی ذمہ داری کیسے اٹھائے گا؟ اور اگر ذمہ داری نہ اٹھا سکا تو اتنی پڑھائی کا کیا فائدہ؟ آخر اتنے پیسے زیادہ خرچ کرنے کا کیا فائدہ؟
یہ سوچ طلبہ کے ذہن پر مسلسل دباؤ ڈالتی ہے اور انہیں تنہائی، بے سکونی اور اضطراب کی طرف دھکیلتی ہے۔ چاہے آپ طالبِ علم ہوں، ملازمت پیشہ ہوں، گھریلو خاتون ہوں یا بے روزگار، اپنے وقت کا حساب ضرور لگائیں۔ غور کریں کہ آپ کا زیادہ تر وقت کن سرگرمیوں میں صرف ہوتا ہے۔
اگر آپ کا وقت ان کاموں میں گزرتا ہے جو آپ کو خوشی کے ساتھ قلبی سکون بھی فراہم کرتے ہیں، تو یقیناً آپ کسی ذہنی بیماری کو فروغ نہیں دے رہے۔ لیکن اگر آپ کا زیادہ وقت ان مصروفیات میں صرف ہو رہا ہے جو مثبت سوچ کے بجائے احساسِ کمتری اور منفی خیالات کو جنم دیتی ہیں، تو یہ لمحۂ فکریہ ہے۔
انسان یکدم ڈپریشن جیسی بیماری کا شکار نہیں ہوتا۔ کبھی زندگی کے کچھ واقعات اسے ذہنی طور پر پریشان کر دیتے ہیں اور کبھی کبھار یہ بیماری انسان کی اپنی طرزِ زندگی کا نتیجہ بھی ہوتی ہے۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ جب ہم موبائل فون پر دوسروں کی زندگیوں کو دیکھتے ہیں، جو بظاہر بہت خوش اور مکمل نظر آتی ہیں، تو وہی لوگ خودکشی کیوں کر لیتے ہیں؟
اس کی ایک بڑی وجہ دکھاوا ہے۔ آج ہر شخص خود کو وہ ظاہر کرتا ہے جو وہ حقیقت میں ہوتا ہی نہیں۔ اس کی سوچ صرف بظاہر خوش نظر آنے، اچھا دکھنے اور دوسروں سے مختلف لگنے تک محدود ہو جاتی ہے۔ لوگوں کو متاثر کرتے کرتے وہ اپنی اصل پہچان کھو بیٹھتا ہے اور پھر ذہنی دباؤ اور بے سکونی اس کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔ حالانکہ اصل پہچان تو وہ ہوتی ہے جسے کسی بیرونی توثیق کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آپ جو ہیں، وہی آپ کی اصل قدر ہے۔ آپ کیا ہیں، اس کا فیصلہ کوئی اور ہرگز نہیں کر سکتا۔
یقین جانیے، آپ کی ذات آپ کے لیے ہر شخص سے پہلے ہونی چاہیے، تب ہی آپ اپنی اہمیت کو سمجھ سکیں گے۔ مگر افسوس، آج سوشل میڈیا اس قدر پھیل چکا ہے کہ اس کے بغیر ہم احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اگر کوئی ہم سے پوچھ لے کہ کیا آپ کا انسٹاگرام یا فیس بک اکاؤنٹ ہے، تو "نہیں " کہتے ہوئے ہمیں جھجک محسوس ہوتی ہے، حالانکہ یہ تو فخر کی بات ہونی چاہیے کہ ہم وقت ضائع کرنے والی چیزوں سے دور ہیں۔
آج کی نوجوان نسل بھی اسی احساسِ کمتری کا شکار ہو رہی ہے۔ یونیورسٹی کے وہ ماحول جہاں انہیں پروران کرنا تھا، وہاں وہ موازنہ اور مقابلے کی دوڑ میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ لیکن یہ سب ہماری اپنی غلطیوں کا نتیجہ بھی ہے۔ آج ہر شخص آگے بڑھنے کی دوڑ میں اتنا مصروف ہے کہ اس کے پاس اپنی فیملی کے لیے وقت ہی نہیں۔ جب گھر سے بچوں کو توجہ نہ ملے تو وہ باہر کی دنیا کو اپنا سمجھ لیتے ہیں اور پھر یا تو اپنی پہچان کھو بیٹھتے ہیں یا کسی ذہنی بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں۔
آج انسانوں میں آہستہ آہستہ انسانیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ طلبہ اساتذہ کو عزت نہیں دیتے اور اساتذہ طلبہ کی اصلاح نہیں کرتے۔ اس کا انجام معاشرتی بے ترتیبی اور تباہی کی صورت میں نکلتا ہے۔ مگر یہ مسئلہ آج بھی حل ہو سکتا ہے، بشرطیکہ ہم اپنے حصے کا کردار ادا کریں اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم اپنی زندگی کی اہمیت کو سمجھیں اور دوسروں کے احساسات کا خیال رکھنا سیکھیں، خاموش چیخیں سنائی نہیں دیتیں، مگر ان کا انجام مجموعی آواز میں سنائی دیتا ہے۔

