Thursday, 01 December 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Syed Mehdi Bukhari

Lahore Airport Par Security Tait Hai

لاہور ائیرپورٹ پر سیکیورٹی "ٹیٹ" ہے۔ اے این ایف کے پھرتیلے جوان ہر جوان کو لپک لپک کر روک رہے ہیں اور سامان کی پھولا پھالی کر رہے ہیں۔ میری جانب ایک چیتا لپکا اور مجھے اے این ایف کے کاؤنٹر پر بھیج دیا۔ بیگ میں باسمتی چاول کلو کے تین پیک، دال مسور، دال مونگ اور دادڑ مرچ کے پیکٹ تھے۔ استنبول میں ایک پاکستانی دوست نے ریکوئسٹ کی تھی کہ آتے ہوئے لے آنا یہاں نہ باسمتی اچھا ملتا ہے نہ مرچ دالیں۔

جوان نے بیگ کھولا اور کھولتے ہی بولا "کدھر جا رہے ہیں؟ حالانکہ یہ اس کا کام نہیں تھا، مگر ہوتا ہے یہاں جس کا جو کام نہیں وہ وہی کرتا ہے۔ میں نے کہا "ترکی" اگلا سوال آیا " وزٹ پر؟ میں نے کہا جی ہاں۔ پھر سوال آیا "یہ چاول اور دالیں وزٹ پر لے جانے کی کیا ضرورت تھی؟ اب کے میں نے سوچا اس کے غیر متعلقہ سوالات کے غیر متعلقہ جواب دینا ہی بہتر ہے۔

میں نے ہنستے ہوئے کہا "یار، ڈنکی کا پروگرام ہے آگے" اس نے الرٹ ہو کر مجھے گھورا اور بولا "کدھر کا؟ میں نے ہنستے ہوئے کہا "یونان" اس نے رازداری سے قدرے ہولے فرمایا"کتنے میں ڈن ہوا ہے؟ میں نے ہولے سے کہا"تیس لاکھ" اس نے مزید قریب ہوتے کہا " بندہ اعتبار والا ہے؟ میں نے اس کے مزید قریب ہو کر کہا" ایکدم کھرا بندہ ہے" اس نے موبائل نکالا" اپنا واٹس ایپ نمبر دیں۔

چھوٹے بھائی کا کام ہے۔ آپ سے رابطہ کروں گا" میں نے نمبر نوٹ کروا کے کہا "رابطہ تیس اکتوبر کے بعد کرنا تب تک میں یونان پہنچ جاؤں گا پھر تفصیل سے بتاؤں گا" اس نے بیگ بند کر کے میرے حوالے یوں پیار سے کیا، جیسے میں اس کا کسٹمر ہوں۔ تیس اکتوبر کو واپس آ کر اس کو اسی کاؤنٹر پر مل کر جاؤں گا اور ساری تفصیلات سمجھا جاؤں گا۔

جیسا کہ آپ کو بتا رہا ہوں کہ ائیرپورٹ پر سیکیورٹی "ٹیٹ" ہے۔ امیگریشن کاؤنٹر پر باری آئی تو ایف آئی اے کے بڈھے جوان نے مجھے پاسپورٹ واپس تھماتے کہا " وہ پیچھے میڈم کھڑی ہیں۔ ان کو چیک کروا کے واپس آئیں" میڈم صاحبہ کے کاندھے پر تین پھول چمک رہے تھے اور وہ خود بھی چمک رہی تھیں۔ میں ان کے پاس گیا۔ انہوں نے میرا ویزا آڑھا ترچھا کر کے دیکھا۔ نجانے وہ رنگ بدلتے سٹیکر کو دیکھ کر کیوں حیران ہوتی رہیں۔

پھر بولیں" ویزا کہاں سے لیا؟ اس سوال کی منطق مجھے سمجھ نہ آئی ظاہر ہے ویزے متعلقہ ملک کا سفارت خانہ ہی دیتا ہے بازار سے تو ملتے نہیں۔ پہلے تو منہ پر آیا کہ کہہ دوں"ایزی پیسہ شاپ سے" پھر رک گیا کہ کہیں یہ سنجیدہ نہ ہو جائے اور مجھے لمبی راہ پہ نہ ڈال دے۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا "میڈم بحریہ ٹاؤن سے" میڈم نے پاسپورٹ سے نظریں ہٹا کر میرے مسکراتے چہرے پر ڈالیں اور پاسپورٹ واپس تھماتے بیزاری سے بولیں" جائیں"۔

لہذا دوستو اب جا رہا ہوں۔ آپ کا بھی کوئی "متعلقہ" سوال ہو تو ضرور پوچھئیے۔

Check Also

Jahannam Ki Air Conditioning Ka Theka (5)

By Hamid Ateeq Sarwar