Sunday, 08 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Akhtar Sardar Chaudhry
  4. Khawateen Ke Huqooq Ka Aalmi Din

Khawateen Ke Huqooq Ka Aalmi Din

خواتین کے حقوق کا عالمی

ہر سال 8 مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کے حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن نہ صرف خواتین کی کامیابیوں کا جشن ہے بلکہ ان کے مسائل، مشکلات اور حقوق کی جدوجہد کی یاد بھی دلاتا ہے۔ 2026ء میں بھی یہ دن ایک بار پھر ہمیں یاد دلائے گا کہ صنفی مساوات کی راہ ابھی طویل ہے۔ یہ آرٹیکل اس دن کی تاریخی اہمیت، مغرب اور مشرق کے فرق، عالمی مسائل اور اسلام کے نقطہ نظر پر روشنی ڈالتا ہے، تاکہ ہم ایک بہتر معاشرے کی تشکیل کی طرف قدم بڑھا سکیں۔

خواتین کے حقوق کی جدوجہد کی کہانی ایک صدی سے زیادہ پرانی ہے۔ یہ 1908ء کی بات ہے جب نیویارک میں ملبوسات کی صنعت سے وابستہ خواتین نے دس گھنٹے کی ملازمت کے بدلے تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کیا۔ ان کے احتجاج پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا، مگر یہ جدوجہد رکی نہیں۔ ایک سال بعد، 1909ء میں خواتین نے ووٹ کے حق کے لیے مظاہرے شروع کیے، جن پر بھی شدید تشدد ہوا۔

یہ تحریک 1910ء میں کوپن ہیگن میں منعقد ہونے والی پہلی عالمی خواتین کانفرنس تک پہنچی، جہاں 17 ممالک کی خواتین نے شرکت کی اور خواتین کے خلاف مظالم کے خلاف ایک عالمی دن منانے کا فیصلہ کیا۔ یہ جدوجہد رنگ لائی اور اقوام متحدہ نے 1975ء میں 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن قرار دیا۔ مغرب میں یہ تحریک ووٹ کے حق اور مساوی اجرت جیسی کامیابیوں کا سبب بنی، مگر مشرق میں ایسی کوئی منظم تحریک اس وقت نہیں اٹھی۔ بعد میں مشرقی خواتین نے بھی مغربی تحریکوں سے متاثر ہو کر اپنے حقوق کی آواز بلند کی۔ مغرب اور مشرق میں خواتین کے مسائل اور حقوق الگ الگ ہیں۔ مشرقی معاشروں میں گھریلو معاشی ذمہ داریاں عموماً مردوں پر ہوتی ہیں، جبکہ مغرب میں خواتین کو مردوں کے برابر کام کرنا پڑتا ہے۔ مگر ایک بات مشترک ہے، دنیا کے ہر خطے میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک ہوتا ہے، اگرچہ اس کا انداز مختلف ہے۔

عالمی سطح پر اعداد و شمار خوفناک حد تک ہیں۔ امریکہ میں ہر چھ منٹ میں ایک خاتون جنسی زیادتی کا شکار ہوتی ہے۔ بھارت میں ہر چھ گھنٹے بعد ایک شادی شدہ خاتون تشدد سے ہلاک ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں روزانہ دو خواتین غیرت کے نام پر یا دیگر رسوم کی وجہ سے قتل ہو جاتی ہیں۔ عورت کو ہمیشہ سے جذبات کی تسکین کا ذریعہ بنایا جاتا رہا ہے۔ چاہے وہ نفسیاتی، جنسی یا کاروباری ہوں۔ ماضی میں غلامی کی صورت میں اور آج بلیک میلنگ یا، آزادی، کے نام پر لباس سے آزاد کرکے استحصال کیا جاتا ہے۔ مغرب میں عورت کو تشہیر کا آلہ بنا کر تحقیر کی جاتی ہے اور اسے "ترقی" کا نام دیا جاتا ہے۔ پروڈکٹس کی تشہیر کے لیے عورت کے جسم کا استعمال عام ہے، جو آزادی کے بجائے استحصال ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ اگر یہ ترقی ہے تو جانور اس سے بھی آگے ہیں، عالمی سطح پر جنسی کاروبار کے لیے بچیوں کی خرید و فروخت آج بھی جاری ہے۔

پاکستان میں خواتین پر جاگیردارانہ اور قبائلی رسوم کا سایہ اب بھی ہے۔ پسماندہ علاقوں میں قرآن سے شادی، ونی، کاری، وٹہ سٹہ جیسی رسوم عام ہیں۔ ان کی روک تھام کے لیے قوانین تو موجود ہیں، مگر نفاذ نہیں ہے۔ تعلیم میں بھی فرق ہے، مردوں میں خواندگی کی شرح 30 فیصد ہے جبکہ خواتین میں صرف 13 فیصد۔ تنخواہوں میں بھی امتیازی سلوک ہے، ایک ہی کام کے لیے مرد کو 8 ہزار روپے ملتے ہیں تو خاتون کو 4 ہزار بھی نہیں۔ یہ فرق فیکٹریوں، سکولوں، ہسپتالوں اور دیگر شعبوں میں پایا جاتا ہے۔ کام کی جگہ پر خواتین کو غلیظ نگاہوں اور ذومعنی فقروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو انہیں نفسیاتی طور پر کمزور کرتا ہے۔ تحفظ حقوق نسواں بل پاس ہوا، جو اداروں میں ہراسانی کو جرم قرار دیتا ہے، مگر اس پر عمل درآمد نہ ہونے سے فائدہ نہیں۔ قانون سازی ضروری ہے، مگر انصاف کا حصول آسان ہونا چاہیے۔

اسلام نے خواتین کو مردوں کے برابر نہیں بلکہ بعض معاملات میں ان سے زیادہ حقوق دیے ہیں، جن میں فرائض بھی شامل ہیں۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا: "عورتوں کو بھی ویسے ہی حق ہیں جیسے ان پر مردوں کے ہیں"۔ (سورۃ البقرہ: 228) مومن مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ (سورۃ التوبہ: 71) اللہ نے فرمایا کہ کسی کے عمل کو ضائع نہیں کیا جائے گا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔ (سورۃ آل عمران: 195) جنت کو ماں کے قدموں تلے قرار دیا گیا، بیوی کو ہاتھ سے کھانا کھلانے کا ثواب رکھا گیا اور مرد کی کمائی میں عورت کا حصہ ہے جبکہ عورت کی کمائی صرف اس کی ہے۔ اسلام میں گھریلو معاشی ذمہ داری مرد پر ہے اور عورت کو کام کرنے کی اجازت ہے مگر عزت اور پردے کی پابندی کے ساتھ۔ عورتیں جنگوں میں شرکت کرتی رہیں، نرسنگ اور تدریس کے فرائض نبھاتی رہیں ہیں۔

مگر مسلمانوں میں فرقہ واریت کی وجہ سے تضادات ہیں۔ بعض مفسرین نے "مرد عورتوں پر حاکم ہیں" (سورۃ النساء) کی تشریح میں مرد کی معاشی ذمہ داری کو بنیاد بنایا، جو درست ہے۔ غیر مسلم اس پر تنقید کرتے ہیں، مگر اسلام کے سکالرز جیسے محمد اسد، علامہ اقبال اور امام غزالی نے اسلام کے مطابق حقوق کی بہترین تشریح کی ہے۔

مغربی، آزادی، نے خاندانی نظام کو تباہ کیا، آزاد جنسی تعلقات سے محبت ختم ہوئی، طلاقیں بڑھیں، اوربغیر نکاح کے بچوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ وہاں گھریلو کام کو ذلت سمجھا جاتا ہے، مگر غیر مردوں کے لیے کام کو آزادی۔ اسلام اس کے برعکس توازن قائم کرتا ہے۔

8 مارچ کو سیمینارز، ٹاک شوز اور کالم لکھنے سے خواتین کے مسائل حل نہیں ہوتے۔ یہ دن ایک یاد دہانی ہے کہ خواتین کی نصف سے زائد آبادی کو حقوق دینے کے لیے مستقل جدوجہد چاہیے۔ اسلام نے جو حقوق دیے، ان پر عمل ہی تحفظ ہے۔ موم بتی مافیا اور متشدد علماء دونوں انتہاپسندی سے دور رہیں۔ ہمیں ایک ایسا معاشرہ بنانا ہے جہاں مرد اور عورت ایک دوسرے کے سکون کا سبب بنیں، نہ کہ استحصال کا۔ 2026ء کا یہ دن ہمیں عمل کی طرف بلائے گا کیونکہ جدوجہد جاری رہنی چاہیے۔

Check Also

Pakistan Rehne Ke Qabil Hai Lekin

By Sadiq Anwar Mian