جاگ مسلم جاگ

ایران پریہودیوں کی یلغارسے یادآیاکہ ہم آہ بھی کرتے ہیں توہوجاتے ہیں بدنام۔۔ وہ قتل بھی کرتے ہیں توچرچانہیں ہوتا۔ آپ حال کے ساتھ ماضی کودیکھیں اورپڑھیں توآپ کوامن کے ان نام نہادعلمبرداروں اورانسانیت کے غم میں صبح وشام مگرمچھ کے آنسوبہاکرمعصوم بننے والے ان مداریوں کی پوری کہانی سمجھ آجائے گی۔
عراق جیسے آباداورلیبیاجیسے خوشحال ممالک کوانہوں نے اجاڑا، ان سے فلسطین، شام اورلبنان بچانہ انہوں نے برما، کویت اورافغانستان کوکہیں کاچھوڑالیکن پھربھی یہ ٹھہرے امن کے علمبرداراورٹھیکیداراورہم مفت میں بنے بدامنی ودہشتگردی کے ذمہ دار۔ ہم اپنی حفاظت میں مچھرکوبھی ماریں توہم ہوجائیں گناہ گاراوریہ مشرق سے مغرب اورشمال سے جنوب تک شہروں کے شہراوربستیوں کی بستیاں آگ وبارودمیں اڑادیں توپھربھی یہ رہیں معصوم اورپارسا۔ انصاف کااگریہی پیمانہ اورامن کایہی معیار ہے توپھراس دنیامیں واقعی ان سے بڑھ کرمعصوم اورامن کے علمبرداراورکوئی نہیں۔
ایران پرکھلی جارحیت کے بعدتوٹرمپ اوریاہو کی یہ معصومیت اب کوئی ڈھکی چھپی بات بھی نہیں رہی ہے۔ ویسے مسٹرٹرمپ اورنیتن یاہوصرف امریکہ اوراسرائیل کے نہیں بلکہ یہ توبرسوں سے اس جنگل کے بھی بادشاہ ہیں جس جنگل میں نہ کوئی اصول، قاعدہ اورقانون ہے اورنہ ہی کوئی روک اورٹوک۔ یہ عراق اورفلسطین میں انڈے دیں یاشام ولیبیامیں بچے ان کی مرضی۔ ان سے کوئی پوچھنے والانہیں۔ ان کی حالیہ بدمعاشی، غنڈہ گردی اوردہشتگردی نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ دنیاکے ایک بڑے حصے کوخطرے سے دوچارکر دیاہے۔
ہم توابھی تک فلسطین کی گلیوں اورمحلوں میں ان کے ناچنے والے امن کارونارورہے تھے مگریہ ظالم ایران بھی پہنچ گئے۔ اللہ خیرکرے۔ عراق، شام، لبنان، کویت، لیبیااورافغانستان سے امن کاجنازہ نکالنے کے بعدسفیرامن اب نیتن یاہوکے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ایران کوبھی ویران کرنے کے مشن پرچل نکلے ہیں۔ فلسطین میں آگ وخون کابازارگرم کرکے ہزاروں مظلوم ونہتے فلسطینیوں کوخون میں نہلانے سے بھی جب نیتن یاہوکاکلیجہ ٹھنڈانہیں ہواتواس نے اپنے اباجی کاہاتھ پکڑکراپنی بدمعاشی اورغنڈہ گردی کارخ ایران کی طرف موڑدیا۔
فلسطین میں جس طرح یاہواینڈکمپنی نے ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کونشانہ بنایااسی طرح یہ کام اب ایران کے اندربھی شروع کردیاگیاہے۔ بدقسمت ایران پراسرائیل اورامریکہ کے مشترکہ حملے میں ایران کے سپریم لیڈرایت اللہ خامنہ ای اوردیگراعلیٰ قیادت سمیت اب تک درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں بے گناہ لوگ نشانہ بن چکے ہیں۔ ایران کی بھرپورمزاحمت کے باعث امریکہ واسرائیل کوایران ویران کرنے میں فی الحال مشکلات کاسامناہے لیکن ایران کب تک ان بدمست ہاتھیوں کے سامنے مزاحمت جاری رکھے گا۔ یہ سوال اورنکتہ نہ صرف مسلم امہ بلکہ خودایران کیلئے بھی تشویش اورپریشانی کاباعث ہے۔
ماناکہ اس وقت ایران اپنے طورپر امریکہ واسرائیل کواینٹ کاجواب پتھرسے دینے کی کوشش کر رہاہے لیکن ہاتھیوں کے زور، بدمعاشی، اکڑاورہٹ دھرمی سے باخبرلوگ جانتے ہیں کہ ان ظالموں سے ایران کیلئے دفاع کرناہرگزآسان نہیں رہے گاکیونکہ امریکہ اوراسرائیل کے پاس جدیدٹیکنالوجی، ہرقسم جنگی سازوسامان اوردولت وطاقت کی کوئی کمی نہیں لیکن اس کے مقابلے میں ایران کے پاس معمولی جنگی سازوسامان اورمحدودوسائل کے سوا اورہے کیا؟
یہودوہنودکی چال ہی یہ ہے کہ یہ جال وہاں پھینکتے ہیں جہاں انہیں پٹنے کاڈروخوف نہ ہو۔ ہماری دعائیں اورنیک تمنائیں امریکہ واسرائیل کے مقابلے میں پہلے بھی ایران کے ساتھ تھیں اوراب بھی ایران کے ساتھ ہیں۔ خداکرے کہ امریکہ اوراسرائیل کاایران میں وہ حشرہوکہ یہ مسٹرمودی کی طرح اس جنگ ولڑائی کے بعدپھرکہیں منہ دکھانے کے قابل ہی نہ رہیں۔ ویسے اصل سوال یہ نہیں کہ ایران ان بدمست ہاتھیوں سے بقاء کی جنگ لڑپائے گایانہیں بلکہ اصل سوال تویہ ہے کہ مسلمان آخرکب تک ایران جیسے کمزورمسلم ممالک میں عراق، شام، لیبیااورافغانستان جیسے تماشے اورخون آشام مناظر دیکھتے رہیں گے؟
عراق سے افغانستان، شام سے لیبیااورلبنان سے کشمیرتک یہودوہنودکی زورآزمائی ولڑائی میں پہلے ہی مسلم امہ کاناقابل تلافی جانی ومالی نقصان ہوچکاہے۔ مسلمان مزیدکسی اسلامی ملک کے عراق اورلیبیابننے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ اس لئے ایران کے معاملے پراسلامی ممالک اورمسلم حکمرانوں کوایران کی بقاء وسلامتی کے لئے اپنابھرپورکرداراداکرناچاہئیے۔ کوئی بھی مسلمان اوراسلامی ملک چاہے کتناہی براکیوں نہ ہویہودوہنودسے وہ پھربھی ایک نہیں بلکہ ہزارولاکھ درجے بہتررہے گا۔ بھائی اگربہت ہی براہوپھربھی مشکل اورتکلیف میں وہی کام آتاہے۔
یہ اسلامی ممالک اورمسلمان آپس کتنے ہی برے کیوں نہ ہوں لیکن مصائب، مشکلات اورتکالیف میں یہی پھرایک دوسرے کے کام آئیں گے۔ ایران کے ساتھ شائدکہ کچھ مسلم ممالک اورمسلمانوں کے کچھ معاملات ہوں لیکن یہ وقت ان معاملات کوٹٹولنے اورتولنے کانہیں۔ ایران اس وقت مشکل میں ہے اوراس مشکل میں نہ صرف دیگراسلامی ممالک بلکہ عرب دنیاکوبھی ایران کے ساتھ کھڑاہوناچاہیئے۔ مسلمان ایک بات یادرکھیں۔ آپس کے معاملات اوراختلافات بعدمیں حل ہوسکتے ہیں لیکن عراق، شام، لیبیااورافغانستان جیسے اجڑے چمن پھرآسانی کے ساتھ دوبارہ آبادنہیں ہوسکتے۔
بھارت کے مودی اگرمسلم ممالک کی تباہی وبربادی کے لئے نیتن یاہوکے پاؤں پڑ سکتے ہیں تومسلم حکمران مسلمانوں کے اتحادواتفاق کے لئے ایک دوسرے کے گلے کیوں نہیں لگ سکتے؟ مسلمانوں کے باہمی اختلافات اوربے اتفاقی نے مسلم امہ کودنیاکے سامنے تماشابنادیاہے۔ مسلمان اگرآپس میں متحدومتفق ہوتے توسوال ہی پیدانہ ہوتاکہ یہودوہنودمسلم ممالک کی تباہی وبربادی کے اس طرح نمبرلگاتے۔ ہماری خاموشی کی وجہ سے ہی عراق، شام۔ لیبیا، کشمیر، لبنان اورافغانستان مسلمانوں کے قبرستان بنے۔ اب بھی اگرمسلمان خاموش رہے توپھرایران کیا؟ اوربھی مزیدکئی ممالک مسلمانوں کے نئے قبرستان بنیں گے۔
ٹرمپ، یاہواورمودی اگرمسلمانوں کے خلاف ایک ہوسکتے ہیں توپھرایک خدااورایک رسول کوماننے والے مسلمان یہودوہنودکے خلاف ایک کیوں نہیں ہوسکتے؟ جتناجلدہومسلمانوں کواس سوال کاجواب ڈھونڈناچاہئیے نہیں توپھرامن کے یہ علمبرداراسی طرح مسلم ممالک کوایک ایک کرکینشانہ بناتے رہیں گے۔ آگ مغرب سے مشرق تک پہنچ چکی ہے، اگرمگرکا ٹائم نہیں۔ مسلمانوں کواب ہرحال میں جاگناہوگا۔

