Jahan Gandagi, Wahi Zindagi
جہاں گندگی، وہیں زندگی

قدرت نے ہر مخلوق کو ایک الگ پہچان دے رکھی ہے۔ ایک مخلوق ایسی بھی ہے جو خوش فہمی کا شکار ہو کر اپنی منفردیت کا دعویٰ کرتی ہے مگر اپنی مخصوص عادات کے باعث ہمیشہ قابل مطعون ہی رہتی ہے۔ سور۔
سوروں کی سب سے نمایاں خصلت یہ ہے کہ انہیں صفائی سے فطری دشمنی ہے۔ جہاں باقی جانور صاف جگہ تلاش کرتے ہیں، وہاں یہ خاص طور پر کیچڑ کا انتخاب کرتے ہیں۔ گویا ان کا اصول ہے "جہاں گندگی، وہیں زندگی!" اگر انہیں غلطی سے صاف جگہ پر بٹھا دیا جائے تو فوراً بے چینی شروع ہو جاتی ہے۔ اگر آپ ان کو نہلا بھی دیں تو یہ پھر دو منٹ میں گندے ہو جائیں گے۔ سوروں کی اسی خصلت کے سبب اکثر ان کو باڑے میں بند رکھا جاتا ہے تاکہ باہر نکل کر گندگی نہ پھیلا پائیں۔
کھانے کے معاملے میں بھی سور بڑی وسعتِ قلبی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک دنیا میں کوئی چیز "ناقابلِ خورد" نہیں۔ جو چیز دوسرے جاندار ناک سکیڑ کر چھوڑ دیں وہ اسے بھی شوق سے تناول فرماتے ہیں۔ ان کی یہ عادت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ بعض لوگ بھی افواہوں، ملک دشمن پروپیگنڈے اور جعلی خبروں کو اسی جذبے سے ہضم کرتے ہیں۔ پھر ان کی جُگالی کرتے ہیں یا ان کو پھیلاتے ہیں۔
سور کی ایک اور دلچسپ عادت یہ ہے کہ وہ اپنی حالت سے کبھی پریشان نہیں ہوتے۔ نہ انہیں اپنی کرتوت کی فکر، نہ خاندان کی، نہ اپنے رشتوں کی، نہ اپنے اقرباء کی، نہ وقار کی۔ ان میں ایک عجیب سی بے چینی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر حال میں بے چین نظر آتے ہیں۔ یہ اگر جمع ہو کر ہری بھری فصل میں گھس جائیں تو اسے اجاڑنے میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ جتنا کھاتے ہیں اس سے کئی زیادہ اجاڑتے ہیں۔ یعنی بھوک سے زیادہ بھوکی نفسیات کا مسئلہ لاحق ہوتا ہے۔ اگر فلسفیانہ انداز میں دیکھا جائے تو سور ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اگر سارے اصول ہی ختم کر دو تو کبھی شرمندگی نہیں ہوگی۔
سماجی زندگی میں بھی سور کا اپنا انداز ہے۔ وہ گروہ میں رہتے ہیں مگر نظم و ضبط کا کوئی خاص تصور نہیں رکھتے۔ ہر ایک اپنی مرضی کا بادشاہ ہوتا ہے۔ یہ ایک دوسرے کو کاٹتے بھی ہیں، ٹکریں بھی مارتے ہیں اور ایک دوسرے کی گندگی بھی کھا لیتے ہیں۔ منفرد بات یہ بھی ہے کہ اپنے پاخانے کو اپنے پیشاب سے صاف کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں اور یوں کرکے وہ خود کو پاک صاف بھی سمجھتے ہیں۔ یہ بات انہیں دیگر جانوروں سے بہت منفرد بناتی ہے۔
البتہ انصاف کا تقاضا ہے کہ ہم سور پر مکمل تنقید نہ کریں۔ آخر وہ جو کچھ کرتا ہے اپنی فطرت کے مطابق کرتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ جب انسان جسے عقل و شعور دیا گیا وہی عادات اپنا لے تو پھر فرق کہاں رہ جاتا ہے؟

