Friday, 12 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Ayesha Batool
  4. Doctor Ka Rawaiya Bhi Dawa Hai

Doctor Ka Rawaiya Bhi Dawa Hai

ڈاکٹر کا رویہ بھی دوا ہے

ہم جب بیمار ہوتے ہیں تو دوا لینے کے لیے ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بعض اوقات مریض کو صرف دوا نہیں بلکہ ایک اچھے رویے، توجہ اور تسلی کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک ڈاکٹر کے چند نرم الفاظ، اطمینان دلانے والا انداز اور مریض کی بات غور سے سننا بعض اوقات ایسی دوا ثابت ہوتا ہے جو مہنگی سے مہنگی دوائی بھی نہیں بن سکتی۔

ڈاکٹر کا پیشہ صرف علاج کا نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کا بھی نام ہے۔ مریض جب ڈاکٹر کے کمرے میں داخل ہوتا ہے تو وہ صرف جسمانی تکلیف ہی نہیں بلکہ ذہنی پریشانی، خوف اور بے یقینی بھی اپنے ساتھ لاتا ہے۔ ایسے میں اگر ڈاکٹر اس کی بات تحمل سے سن لے، اسے عزت دے اور مناسب رہنمائی کرے تو مریض آدھا وہیں ٹھیک محسوس کرنے لگتا ہے۔

میرے اپنے تجربے میں ہمارے گاؤں کے ایک ڈاکٹر صاحب کا اندازِ علاج بہت متاثر کن ہے۔ وہ مریض کی پوری بات سنتے ہیں، جلد بازی نہیں کرتے اور اگر واقعی دوا کی ضرورت نہ ہو تو صاف بتا دیتے ہیں کہ اس وقت دوائی کے بجائے آرام، مناسب خوراک یا احتیاط کی ضرورت ہے۔ یہ بات اس لیے قابلِ تعریف ہے کیونکہ بعض اوقات غیر ضروری دوائیاں لکھ دینا آسان ہوتا ہے، لیکن مریض کے حقیقی فائدے کو ترجیح دینا ایک ذمہ دار اور دیانت دار ڈاکٹر کی نشانی ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض مریض ڈاکٹرز کے لیے مشکلات پیدا کر دیتے ہیں۔ بار بار ایک ہی سوال پوچھنا، بے صبری کا مظاہرہ کرنا یا اپنی مرضی کا علاج کروانے پر اصرار کرنا ڈاکٹر کے لیے یقیناً تھکا دینے والا ہو سکتا ہے۔ لیکن اچھے ڈاکٹر وہی ہوتے ہیں جو ایسی صورتحال میں بھی صبر، نرمی اور اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ وہ ناراض ہونے کے بجائے سمجھاتے ہیں، ڈانٹنے کے بجائے رہنمائی کرتے ہیں اور مریض کی الجھن دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

آج کل ایک اور مسئلہ بھی عام ہو چکا ہے۔ بہت سے لوگ ذہنی دباؤ، بے چینی، ڈپریشن یا دیگر نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتے ہیں اور علاج کے لیے عام ڈاکٹر کے پاس چلے جاتے ہیں۔ ایک اچھا ڈاکٹر ایسی صورت میں مریض کو مناسب رہنمائی دیتا ہے اور اگر ضرورت ہو تو اسے ماہرِ نفسیات یا ماہرِ امراضِ ذہنی کی طرف بھیج دیتا ہے۔ کیونکہ ہر بیماری کا ایک مخصوص ماہر ہوتا ہے اور درست جگہ سے علاج کروانا مریض کے مفاد میں ہوتا ہے۔

ڈاکٹرز پر لوگوں کا اعتماد بہت زیادہ ہوتا ہے۔ ایک مریض اپنے دکھ، خوف اور امیدیں ڈاکٹر کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر کے علم کے ساتھ ساتھ اس کا اخلاق، رویہ اور گفتگو کا انداز بھی بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ ایک مسکراہٹ، ایک حوصلہ افزا جملہ اور چند منٹ کی توجہ مریض کے دل میں امید پیدا کر سکتی ہے۔

ہمیں بھی بطور مریض یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ڈاکٹر بھی انسان ہوتے ہیں۔ ان پر کام کا دباؤ ہوتا ہے، وہ روزانہ درجنوں مریض دیکھتے ہیں اور اپنی پوری کوشش کرتے ہیں کہ لوگوں کو صحت مند بنا سکیں۔ اس لیے ہمیں ان کے ساتھ احترام، صبر اور تعاون کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔

ایک اچھا ڈاکٹر صرف دوا نہیں دیتا، بلکہ اعتماد، حوصلہ اور امید بھی دیتا ہے اور شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ بعض اوقات ڈاکٹر کا اچھا رویہ خود ایک مؤثر دوا بن جاتا ہے۔

میں نے کہیں پہ پڑھا تھا کہ دوائی سے پہلے ڈاکٹر کا رویہ مریض پر اثر انداز ہوتا ہے اپنے گاؤں کے ڈاکٹر سے ٹریٹمنٹ کروانے کے بعد یہ بات ثابت ہوگئی کہ دوائی سے پہلے ڈاکٹر کا رویہ انسان کو ٹھیک کرنے میں ہیلپ کرتا ہے۔ میری دل سے دعا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمارے تمام ڈاکٹرز کو علم، حکمت، صبر اور اخلاص عطا فرمائے۔ انہیں انسانیت کی خدمت کرنے کی توفیق دے، ان کے ہاتھوں میں شفا رکھے اور انہیں مریضوں کے لیے آسانی اور رحمت کا ذریعہ بنائے۔

Check Also

Siasat Mein Virasat, Aam Beti Ki Jad o Jehad

By Noorul Ain Muhammad