Monday, 23 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. Doctor Ali Shariati

Doctor Ali Shariati

ڈاکٹر علی شریعتی

1970 کی دہائی کا ایران ایک عجیب تضاد کا شکار تھا۔ ایک طرف شاہی محلوں کی چمک تھی، دوسری طرف عوام کے اندر ایک خاموش بے چینی۔ اسی بے چینی کا سب سے واضح منظر تہران میں نظر آتا تھا، جہاں ایسا ہجوم ہوتا کہ جگہ باقی نہیں رہتی۔ لوگ فرش پر بیٹھے، کھڑکیوں سے جھانکتے، دروازوں سے لٹکتے اور سب کی نظریں ایک شخص پر مرکوز ہوتیں۔ نہ وہ کوئی روایتی مولوی تھا، نہ کوئی سیاستدان۔ وہ ایک پروفیسر تھا جو فارسی جیسی روانی میں فرنچ بھی بولتا تھا۔ عالم اسلام نے اس پائے کا مفکر کم ہی پیدا کیے ہیں۔ اس کا نام تھا ڈاکٹر علی شریعتی۔

شریعتی کو سمجھنے کے لیے سنہ 1953 کو سمجھنا ناگزیر ہے۔ جب سی آئی اے نے "آپریشن اجیکس" کے ذریعے منتخب ایرانی وزیر اعظم محمد مصدق کو ہٹا کر اقتدار مکمل طور پر رضا شاہ پہلوی کے حوالے کر دیا (مصدق، آپریشن اجیکس اور ایرانی بغاوت پر پہلے لکھ چکا ہوں۔ اس کی تفصیل میں پھر نہیں جاؤں گا) تو یہ صرف حکومت کی تبدیلی نہیں تھی، بلکہ ایک پوری قوم کی نفسیات پر ضرب تھی۔ ایران کے عوام نے پہلی بار شدت سے محسوس کیا کہ ان کی سیاسی تقدیر ان کے اپنے ہاتھ میں نہیں رہی۔ ایک طرف رضا پہلوی کی ریاست تھی، مغرب کی طرف جھکی ہوئی، طاقتور مگر عوام سے کٹی ہوئی۔ دوسری طرف ایک معاشرہ تھا جو اپنی شناخت، اپنی تاریخ اور اپنے مستقبل کے درمیان الجھا ہوا تھا۔ شریعتی اسی کشمکش کی پیداوار تھا۔

سنہ 1959 میں شریعتی پیرس پہنچا۔ یہ وہ پیرس نہیں تھا جو سیاحوں کے لیے جانا جاتا ہے بلکہ وہ پیرس تھا جہاں فکری انقلاب برپا تھا۔ یہاں ژاں پال سارتر جیسے فلسفی وجود، آزادی اور بغاوت پر بحث کر رہے تھے، جبکہ فرانز فینن سامراج کے خلاف مزاحمت کا نظریہ دے رہے تھے۔ شریعتی نے مغرب کو اندھا دھند رد نہیں کیا، بلکہ اسے سمجھا، اس کے سماج کو پرکھا اور پھر اسی فکر کو مغرب کے خلاف استعمال کرنے کا راستہ تلاش کیا۔ یہیں اس کی ملاقات ایک اور فکری دنیا سے ہوئی۔ ڈاکٹر محمد اقبال۔ اقبال نے اسے سکھایا کہ اصل جنگ صرف سیاسی نہیں بلکہ فکری اور روحانی بھی ہوتی ہے۔ "خودی" کا تصور شریعتی کے ہاں "Return to Self" بن گیا یعنی اپنی جڑوں کی طرف واپسی، اپنی شناخت کی بازیافت۔

ایران واپس آ کر شریعتی نے جو سب سے بڑا فکری دھماکہ کیا وہ اس کا تصور تھا۔ سرخ شیعت اور سیاہ شیعت۔ اس کے مطابق سیاہ تشیع وہ ہے جو انسان کو ماضی کے غم میں الجھا کر حال سے کاٹ دیتی ہے۔ شیعت نے سوگ کا رنگ اوڑھ لیا اور کربلائی روح کو تھپک تھپک کر سُلا دیا۔ سرخ تشیع وہ ہے جو کربلا کو ایک زندہ تحریک بنا دیتی ہے۔ سرخ رنگ مزاحمت، قربانی اور ملوکیت کی ہر شکل کے خلاف جہدِ مسلسل کا استعارہ ہے۔ جبکہ سیاہ رنگ سوگ اور ٹھہراؤ کی کیفیت ظاہر کرتا ہے۔ عباسی دور کے اختتامی زمانے تک جب اصولوں کی سربلندی کے لیے تن من دھن کی پرواہ نہ کرنے والا آئمہ کرام کا سلسلہ تھما۔ تو آلِ بویہ اور پھر صفوی دور میں نظریہ مزاحمت کو رسومات و ادب آداب کے سانچے میں ڈھالنے کا سلسلہ شروع ہوا اور یوں ایک اور طرح کی دربار دار مذہبی اسٹیبلشمنٹ وجود میں آئی (اسٹیبلشمنٹ کا مطلب ہی سٹیٹس کو کی برقراری اور نظریاتی جمود کا دفاع ہے۔) اس اسٹیبلشمنٹ نے پیغام حسینی کو عزاداری کی رسومات میں ڈھال کر اس کی فکر کو نیم جاں بنا دیا۔

باطل کی ہر شکل کے خلاف جدوجہد اور کسی صورت سمجھوتا نہ کرنے کی کربلائی روح کو رسومات کے جسد میں قید کرکے محض سوگ کا رنگ اوڑھا دیا گیا اور سرخ پھریرا بتدریج پیچھے ہوتا چلا گیا۔ وہ تلوار جو طاغوت و جبروت کے سینے پر چلانا تھی وہ سیاہ رنگ اوڑھ کر اپنی پیٹھ پر برسا لی۔ یہ صرف ایک فکر نہیں تھی بلکہ علی شریعتی نے اقتدار کے خلاف ایک نظریاتی بغاوت کو جنم دیا تھا۔ ایرانی اس کی بات سننے لگے تھے اور شاہ ایران کے خلاف بغاوت سینوں میں پلنے لگی تھی۔

شریعتی کی سب سے بڑی مشکل یہی تھی کہ وہ کسی ایک خانے میں فٹ نہیں آتا تھا۔ اسی لیے اس نے بیک وقت دو دشمن پیدا کیے۔ ایک طرف شاہ اور اس کی ریاست اور دوسری طرف روایتی مذہبی طبقہ۔ ریاست اسے خطرناک انقلابی سمجھتی تھی جبکہ مذہبی حلقے اسے گمراہ اور مغربی فکر کا حامل قرار دیتے تھے۔ وہ دونوں کے لیے ناقابلِ قبول تھا۔ سنہ 1973 میں ریاست نے فیصلہ کر لیا کہ اس آواز کو خاموش کرنا ضروری ہے۔ ایرانی خفیہ ایجنسی SAVAK نے اسے گرفتار کیا، سخت تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر نظر بند کر دیا۔ سنہ 1977 میں شریعتی ایران سے نکل کر انگلینڈ پہنچا۔ اسے ملک بدری کے لیے چھوڑ دیا گیا لیکن آزادی اسے نصیب نہ ہو سکی۔ صرف تین ہفتوں بعد وہ مردہ پایا گیا۔ سرکاری مؤقف تھا دل کا دورہ لیکن عوامی تاثر تھا پراسرار قتل۔

سنہ 1979 میں شریعتی کے افکار کی بنیاد پر انقلاب تو آیا مگر شریعتی نہیں۔ شاہ کا اقتدار ختم ہوگیا اور قیادت خمینی صاحب کے ہاتھ میں آ گئی۔ سڑکوں پر شریعتی کے پوسٹر بھی تھے، اس کے نعرے بھی لیکن انقلابی ریاست میں بھی اس کی فکر موجود نہیں تھی۔ جس شخص کے نظریات کو پھیلا کر شاہ ایران کا تختہ اُلٹ دیا گیا اسی شخص کو انقلاب کے بعد بھی فراموش کر دیا گیا کیونکہ اب روائیتی مذہبی نمائندگان کی حکومت تھی اور ان کے لیے "سرخ شیعت" خطرناک تصور تھا۔ ان کو "سیاہ شیعت" سوٹ کرتی تھی۔

یہی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ جس شخص نے نوجوانوں کو بیدار کیا جس نے انقلاب کو فکری بنیاد دی وہی شخص انقلاب کے بعد غیر متعلق ہوگیا۔ کیونکہ شریعتی سوال پیدا کرتا تھا اور ہر ریاست چاہے وہ شاہی ہو یا انقلابی سوال کرنے والوں سے زیادہ اطاعت کرنے والوں کو ترجیح دیتی ہے۔ علی شریعتی کا کہنا تھا "انقلاب برپا کرنا قدرے آسان ہے لیکن انقلاب کے بعد بھی سچ بولتے رہنا سب سے مشکل کام ہے"۔

Check Also

Doctor Ali Shariati

By Syed Mehdi Bukhari