Thursday, 18 April 2024
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Syed Mehdi Bukhari/
  4. Cream Malna Bhul Gaye O

Cream Malna Bhul Gaye O

کریم ملنا بھُل گئے او

ہمارے لوگ ایسے ہیں کہ آپ لاکھ تیار ہو کر بن سنور کر گھومیں کوئی آپ کی تعریف نہیں کرے گا مگر جیسے ہی ان کو کچھ انہونا پن نظر آئے وہ فوراً آپ کے پاس آ کر آپ کو اپنے تئیں سمجھانا چاہیں گے کہ بھائی یہ کیا کر رہے ہو۔ حالانکہ جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے مجھے یہ کہنے میں کوئی قباحت نہیں کہ ہر بنی سنوری خاتون کی تعریف کرنے کو دل کرتا ہے مگر باامر مجبوری ایسا ممکن نہیں ہو سکتا۔

کچھ دن پہلے ایک ڈرماٹالوجسٹ لیڈی نے لیزر کر کے میرے چہرے سے دو تِل ہٹا دئیے۔ اس کے بعد مجھے تین ہفتے ان دو مقامات پر کریم لگانی ہے تاکہ ان مقامات سے سکن ڈیمج نہ ہو۔ ایک تو ناک کی ٹِپ ہے اور دوسرا دائیں آنکھ کے نیچے۔ میں وہاں کریم لگاتا ہوں اسے جذب نہیں کرنا ہوتا یعنی کریم کو ملنا نہیں ہوتا بس اوپر لگی رہنا دینا ہوتا ہے۔ اس جگہ ملنا منع ہے اور کریم اینٹی بائیوٹک ہے۔

چھٹیوں کے بعد آفسز کھل چکے ہیں اور کام کے سلسلے میں بزی ہوں۔ کچھ دن پہلے ایک فارنر کولیگ فیلڈ پر ملی اور مجھے دیکھتے ہی بولی "لگتا ہے تم جلدی میں کریم لگا کر جذب کرنا بھول گئے ہو۔ اسے ٹھیک کر لو"۔ میں نے اسے بتایا کہ محترمہ یہ میری میڈیکل کنڈیشن ہے۔ سُن کر پہلے سے زیادہ ہنسی۔ مجھے اچھا نہیں لگا۔ چلو پیاری ہوتی تو خیر تھی مگر کوئی میرے جیسا ہی مجھ پر ہنسے تو کچیچی چڑھنے لگتی ہے۔

گزشتہ روز ایک انجان نمبر سے کال آئی۔ فون اٹھایا تو آواز آئی "میں آپ کا فین سلیم عرض کر رہا ہوں۔ آپ کو ایک تحفہ دینا ہے۔ بتائیں کہاں ملنے آؤں؟" میں اول تو میل ملاقاتیں کرنے والا مزاج ہی نہیں رکھتا۔ دوسرا انجان لوگوں کو مل کر پہلے سے تھکے دماغ کی مزید لسی بن جاتی ہے تو میں ٹال دیا کرتا ہوں۔ ابھی کام سے تھکا ہوا گھر پہنچا تھا میں نے ویسے ہی ڈیفالٹ موڈ میں ٹال دیا کہ بھائی سلیم میں گھر نہیں ہوں۔ تحفہ وغیرہ نہیں چاہئیے۔ آپ سلامت رہیں۔

آگے سے جواب آیا "تُسی اینا ریزرو کیوں بول رہے او؟" یہ سُن کر میں نے سوچا کہ یہ کون بندہ ہے سلیم۔ پھر اچانک ذہن میں آیا کہ لہجہ بھی جانا پہچانا ہے یہ سلیم ابن فاضل بھیا لگ رہے ہیں۔ اور وہی ہوا۔ ابن فاضل صاحب نے اس نمبر سے کال کی جو میرے پاس ایڈ نہیں تھا۔ میں نے ان کو جان کر کہا کہ ابن فاضل صاحب آپ بتائیں تو سہی کہ میں ہوں۔ میں سمجھا نہ جانے کون سلیم ہے۔

ان کو گھر بلا لیا۔ وہ آئے اور بیٹھتے ہی بولے "شاہ جی لگدا اے جلدی وچ تسی تیار ہوئے ہو۔ کریم ملنا بھُل گئے او"۔ ابن فاضل بھیا کے گوش گزار کیا کہ بھیا مربہ جات، مصالحوں، پاؤڈروں اور اچاروں کے سوا بھی دنیا میں کئی معاملات ہوتے ہیں اور میرے ساتھ یہ معاملہ ہے۔ اور کی میں تہانوں سائیں لگدا واں؟

آج کی بات ہے۔ میں بیکری سے ناشتہ وغیرہ کا سامان لے کر نکلا۔ گاڑی میں بیٹھنے لگا تو قریب کھڑے دو لونڈوں میں سے ایک نے دوسرے کو کہا "گڈی رینج روور رکھی سُو تے کریم ملنا آوندا نئیں"۔

Check Also

Ye Ik Shajar Ke Jis Pe Na Kanta Na Phool Hai

By Saadia Bashir