Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Kirdar Ke Baghair Aqeedat Ka Shor

Kirdar Ke Baghair Aqeedat Ka Shor

کردار کے بغیر عقیدت کا شور

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے یہ صرف عبادات نعروں یا جذباتی وابستگیوں کا نام نہیں بلکہ زندگی کے ہر پہلو میں اعتدال، حیا، وقار اور کردار کا درس دیتا ہے۔ آج کے دور میں ایک عجیب المیہ یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ لوگ دین کی روح سے زیادہ اس کے ظاہری مظاہروں میں دلچسپی لینے لگے ہیں کہیں بلند آواز نعروں کو عشق سمجھ لیا گیا ہے۔ کہیں جذباتی خطابت کو دینداری کا معیار مان لیا گیا ہے اور کہیں شہرت و نمائش کو تبلیغِ دین کا نام دے دیا گیا ہے حالانکہ اسلام کا مزاج شور ہنگامہ اور نمائش نہیں بلکہ سکون وقار اور عمل ہے۔

خصوصاً جب اہلِ بیتِ اطہارؑ، ازواجِ مطہراتؓ یا سیدۂ کائنات حضرت فاطمہ الزہراؓ کی شان بیان کی جاتی ہے تو اس مقام پر سب سے زیادہ احتیاط ادب اور کردار کی ضرورت ہوتی ہے۔ حضرت فاطمہؓ صرف ایک عظیم شخصیت نہیں بلکہ حیا پاکیزگی، صبر، عبادت اور نسوانی وقار کا کامل نمونہ ہیں۔ ان کی زندگی میں نمود و نمائش نہیں تھی ان کے کردار میں سادگی تھی ان کی گفتگو میں حیا تھی اور ان کے طرزِ عمل میں خاموش عظمت تھی یہی وجہ ہے کہ تاریخ انہیں صرف رسولﷺ کی بیٹی نہیں بلکہ "سیدۂ نساءِ العالمین" کے لقب سے یاد کرتی ہے۔

افسوس یہ ہے کہ آج بعض لوگ سیدہؓ کی شان بیان کرتے ہوئے اُن کی تعلیمات سے ہی دور دکھائی دیتے ہیں۔ اگر اسلام حیا کا حکم دیتا ہے اگر عورت کے وقار اور پردے کی حفاظت کو اہم قرار دیتا ہے اگر لہجوں، آوازوں اور طرزِ اظہار میں بھی احتیاط کا درس دیتا ہے تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم دین کو صرف جذباتی تقریبات اور نمائشی عقیدت تک کیوں محدود کر رہے ہیں۔ اسلام نے مرد و عورت دونوں کو نگاہ، زبان، لباس اور رویّے میں پاکیزگی کا حکم دیا ہے دین کی اصل خوبصورتی شور میں نہیں بلکہ کردار میں ہے۔

یہ حقیقت بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اہلِ بیتؑ سے محبت صرف زبان کے دعوؤں سے ثابت نہیں ہوتی۔ اگر محبت سچی ہو تو وہ انسان کے اخلاق میں نظر آتی ہے اُس کے معاملات میں جھلکتی ہے اُس کی گفتگو میں محسوس ہوتی ہے جو شخص جھوٹ بولتا ہو، ظلم کرتا ہو، لوگوں کے حقوق پامال کرتا ہو مگر محفلوں میں اہلِ بیتؑ کے نام پر آنسو بہاتا ہو، وہ شاید جذبات رکھتا ہو مگر دین کی اصل روح سے ابھی دور ہے کیونکہ اسلام نے عبادت سے پہلے انسانیت اور عقیدت سے پہلے کردار کو اہمیت دی ہے۔

ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ دین کو ہم نے کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں ہر چیز نمائش بن چکی ہے۔ عبادت بھی دکھاوے میں شامل ہو رہی ہے عقیدت بھی مقابلے میں بدل رہی ہے اور مذہبی جذبات بھی شہرت حاصل کرنے کا ذریعہ بنتے جا رہے ہیں کوئی آواز بلند کرکے دیندار بننا چاہتا ہے کوئی جذباتی انداز اپنا کر عاشقِ اہلِ بیت کہلوانا چاہتا ہے مگر کم لوگ ایسے ہیں جو خاموشی سے اپنے کردار کو اسلام کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ اللہ کے نزدیک سب سے قیمتی چیز انسان کا تقویٰ اور اخلاص ہے نہ کہ اس کا شور اور ظاہری ہجوم۔

اسلام عورت کو عزت دیتا ہے اسے ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کے مقدس رشتوں میں احترام عطا کرتا ہے مگر اس عزت کی بنیاد حیا اور وقار پر رکھی گئی ہے اگر ہم واقعی سیدۂ کائناتؓ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں ان کی سیرت کو سمجھنا ہوگا ان کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ عورت کی اصل خوبصورتی اُس کی پاکدامنی، اس کے اخلاق، اس کے صبر اور اس کے وقار میں ہے، نہ کہ نمائش اور شور میں۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دین کو نعروں سے نکال کر کردار میں لائیں اپنے گھروں، اپنی گفتگو، اپنے لباس، اپنے معاملات اور اپنی نیتوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق بنائیں صرف محفلوں میں عشق کے دعوے کافی نہیں بلکہ اپنی زندگی کو بھی اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کا آئینہ بنانا ہوگا کیونکہ تاریخ نے ہمیشہ اُنہی لوگوں کو یاد رکھا جن کے کردار نے ان کے دعووں کی گواہی دی۔

اسلام پہلے انسان کو مکمل مسلمان بننے کا درس دیتا ہے پھر اُسے عشق و عقیدت کے اعلیٰ مقام تک لے جاتا ہے اگر کردار خالی ہو اخلاق ختم ہو جائیں حیا مفقود ہو جائے اور زندگی میں اسلام کی روح باقی نہ رہے تو محض بلند آواز دعوے انسان کو اللہ کے قریب نہیں لے جا سکتے دین کی اصل روشنی عمل، تقویٰ، حیا اور اخلاص میں ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو محض مذہبی شور سے نکال کر حقیقی بندگی تک پہنچاتا ہے۔

Check Also

Sigmund Freud: University Ka Zamana Aur Cocane Ki Kahani (2)

By Umar Farooq