Kahani Pardesiyon Ki (1)
کہانی پردیسیوں کی (1)

تمام مسافر پردیسی دن بھر کی تھکاوٹ سے چور ہو کر نہا دھو کر قریب ایک پارک پر دن بھر کی گزری رواد لیکر جب بیٹھتے ہیں تو وہ منظر بھی کیا منظر ہوتا ہے۔ آج بھی حسب روایت تمام پردیسی بھائی چھوٹے سے ایک پارک میں خوش گپیوں کو لیکر زندگی کی ایک اور گزرے دن کی کہانی لیکر بیٹھے ہوئے تھے۔ منظر کچھ اسطرح کا ہے شام آہستہ آہستہ اس چھوٹے سے پارک پر اتر رہی تھی ریت آلود ہوا میں کہیں دور سمندر کی نمی گھلی ہوئی تھی اور کھجوروں کے درخت ایسے خاموش کھڑے تھے جیسے صدیوں سے پردیسیوں کے دکھ سننے کے عادی ہوں۔ یہ کوئی بڑا باغ نہیں تھا نہ یہاں رنگین روشنیوں کی قطاریں تھیں اور نہ ہی امیروں کے بچوں کی قہقہوں سے آباد کوئی دنیا یہ محض چند بینچوں کچھ تھکے ہوئے درختوں اور خاموش راستوں پر مشتمل ایک چھوٹی سی پناہ گاہ تھی جہاں دیارِ غیر میں جلتے ہوئے دل شام کے بعد آ کر اپنے وجود کی راکھ جھاڑتے تھے یہاں بیٹھنے والے اکثر لوگ مزدور ہوتے ہیں۔
وہ لوگ جن کے ہاتھوں کی لکیروں میں وطن کے ادھورے خواب دفن تھے کسی کے کپڑوں پر سیمنٹ کی سفیدی چپکی ہوتی کسی کے جوتوں میں دن بھر کی دھول بھری ہوتی اور کسی کی آنکھوں میں نیند سے زیادہ فکر بسی ہوتی مگر عجیب بات یہ تھی کہ ان تھکے ہوئے چہروں پر بھی ایک مانوس سی روشنی رہتی جیسے انسان امید کے بغیر مکمل طور پر زندہ نہیں رہ سکتا۔ پارک کے ایک کونے میں ایک پتلا دبلا بنگالی لڑکا گرین ٹی بیچتا تھا اس کے چہرے پر مسلسل مسکراہٹ رہتی حالانکہ شاید اس کی اپنی زندگی میں مسکرانے کی کوئی خاص وجہ نہ تھی۔ تھوڑا آگے ایک شخص مونگ پھلی کے چھوٹے چھوٹے لفافے لئے بیٹھا رہتا اس کی آواز میں عجب اداسی ہوتی جیسے ہر آواز کے ساتھ وہ اپنا کوئی خواب بھی بیچ رہا ہو۔ ایک لڑکا ٹھنڈے پانی کی بوتلیں اٹھائے پھرتا تھا اور میں اکثر سوچتا کہ شاید اس کی اپنی زندگی میں سکون کا ایک گھونٹ بھی میسر نہ ہو۔
یہ پارک دراصل دکھوں کی ایک کھلی کتاب تھا ہر بینچ پر ایک کہانی بیٹھی تھی کوئی اپنے وطن کے حکمرانوں کو کوس رہا تھا کہ وہاں سفارش نے قابلیت کا گلا گھونٹ دیا کوئی کہتا کہ اس نے ڈگریاں حاصل کیں مگر روزگار نہ ملا اس لئے پردیس کی خاک چھاننا پڑی۔ کوئی اپنے بچوں کا ذکر کرتے ہوئے خاموش ہو جاتا اور کوئی روزگار نہ ملنے کی رواداد سناتا اور کوئی دھیرے سے کہتا اب وہ مجھے سمجھتے نہیں شاید میں ان کے لئے صرف پیسے بھیجنے والی مشین رہ گیا ہوں، یہ جملہ کہتے ہوئے اس کی آنکھیں کہیں دور کھو جاتیں۔ شاید ہزاروں میل دور اپنے گھر کی طرف جہاں اس کے بچے بڑے ہو رہے تھے مگر اس کے بغیر میں دیر تک ان لوگوں کو دیکھتا رہا مجھے یوں لگا جیسے انسان پوری دنیا میں ایک ہی دکھ کے مختلف نام ہیں کہیں غربت، کہیں تنہائی، کہیں بے روزگاری، کہیں محرومی اور کہیں اپنوں کی بے اعتنائی پھر اچانک میرے دل میں ایک عجیب سا خیال ابھرا۔
قدرت شاید سب کو برابر خوشیاں نہیں دیتی کسی کے حصے میں محلات آتے ہیں کسی کے حصے میں فٹ پاتھ کوئی دنیا کی ہر آسائش سمیٹ لیتا ہے اور کوئی زندگی بھر ایک لمحہ سکون کو ترستا رہتا ہے مگر اس سارے تفاوت کے باوجود انسان کے اندر ایک چیز مشترک رہتی ہے امید۔ وہی امید جو ایک مزدور کو اگلے دن پھر مزدوری کی تلاش میں جگا دیتی ہے۔
ایک سفر نامہ لکھنے والا شخص شاید ایسے ہی لمحوں میں سفرنامہ نہیں لکھتے وہ انسانوں کے اندر سفر کرتے ہیں انکی حرکتوں کو اداسیوں کو لفظوں میں بڑی خوبصورتی سے بیان کرتا ہے ان کی تحریروں میں شہر کم اور انسان زیادہ بولتے ہیں اور اس شام مجھے بھی یوں محسوس ہوا جیسے یہ چھوٹا سا پارک کسی ملک کا حصہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کا تھکا ہوا کمرہ ہے ہمدردوں کا آسرا ہے جہاں ہر شخص چند لمحوں کے لئے اپنا بوجھ زمین پر رکھ دیتا ہے۔
رات گہری ہونے لگی تھی لوگ آہستہ آہستہ اٹھ رہے تھے کوئی اپنی ادھوری بات ساتھ لے گیا کوئی اپنی خاموشی مگر جاتے جاتے سب کے چہروں پر ایک عجیب سا سکون تھا شاید دکھ بانٹ لینے سے انسان تھوڑا ہلکا ہو جاتا ہے اور میں نے دل ہی دل میں سوچا انسان کو واقعی اللہ کی تقسیم پر راضی رہنا چاہئے کیونکہ بعض اوقات محرومیوں میں بھی وہ سکون چھپا ہوتا ہے جو دولت کے بڑے بڑے محلوں میں نہیں ملتا۔
جاری ہے۔۔

