1.  Home
  2. Blog
  3. Shahzad Malik
  4. Baghon Ka Shehar Lahore

Baghon Ka Shehar Lahore

باغوں کا شہر لاہور

ایم ایس سی میں ہارٹیکلچر ملک محمد اسلم صاحب کا مضمون تھا اپنا کیریئر انہوں نے محکمہ زراعت کے اسی شعبے سے شروع کیا اور اس کے تحت مختلف پروجیکٹ بڑی خوش اسلوبی اور کامیابی سے مکمل کرکے محکمے میں بڑا نام کمایا۔ اسی نیک نامی نے انہیں سپرنٹنڈنٹ گورنمنٹ گارڈنز لاہور کے عہدے تک پہنچایا۔ اس حیثیت میں لاہور کے تمام سرکاری باغات کی ذمہ داری ملک صاحب پر تھی ان کا دفتر اور رہائش باغ جناح میں تھی۔

جب وہ اس عہدے پر فائز ہوئے تو باغ جناح ٹوٹی پھوٹی سڑکوں، اندھیرے میں ڈوبے گوشوں، غفلت کا شکار پھول پودوں کی کیاریوں، پارکنگ کی سہولت سے محروم سیر گاہ اور بنیادی ضرورتوں سے عاری ایک پرانے باغ کا نام تھا۔ جس کی دیکھ بھال کبھی انگریز کے دور میں تو ہوتی ہوگی مگر اب اس کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔ ایک اچھی خاصی رقم اس کی سالانہ مینٹیننس کے لئے مختص ہوتی تھی مگر وہ کہیں خرچ ہوئی دکھائی نہ دیتی تھی نہ معلوم کہاں جاتی تھی۔ باغ کے ان گنت ملازم افسران بالا کے گھروں کا کام کرکے حکومت کے خزانے سے تنخواہ وصول کرتے مالی، خاکروب، بیلدار اور چوکیدار ہر کوئی حاضری لگواتا باغ کا آدھا ادھورا کام کرتا اور افسروں کے گھروں میں چلا جاتا۔

ملک صاحب نے اپنے عہدے کا چارج سنبھالتے ہی ہر طرف تھرتھلی مچا دی۔ سب سے پہلے باغ کے تمام عملے کی میٹنگ بلائی سب کا تعارف حاصل کرنے کے بعد ان کے فرائض کی نوعیت معلوم کی۔ ملک صاحب کا رویہ بہت دوستانہ اور نرم تھا تاکہ چھوٹا عملہ اپنی بات کرتے ہوئے ہچکچاہٹ محسوس نہ کرے۔ ان سے باغ کی ناگفتہ بہ حالت کی وجہ پوچھی انہیں ان کے فرائض کی اہمیت اور ضرورت سمجھائی اور ان پر عمل کرنے کی تاکید کے ساتھ میٹنگ برخواست کر دی اور خود دن رات اس شاندار باغ کی حالت سدھارنے میں مصروف ہو گئے۔

سب سے پہلے باغ کے اندھیرے دور کرنے کے لئے جگہ جگہ لیمپ پوسٹ لگائے، واپڈا والوں کے پیچھے پڑ کر باغ کا کونہ کونہ منور کیا، باغ میں پھیلی پگڈنڈیوں کو کارپیٹڈ سڑکوں میں بدل دیا۔ ان سڑکوں کے کنارے باغ کے ہی گرے پڑے ناکارہ درختوں کی لکڑی سے بنچ بنوا کر رکھوائے تاکہ سیر کرنے آنے والے ان پر بیٹھ کر فطرت کا نظارہ کر سکیں۔ پھولوں کی کیاریوں کو نئی نئی شکلیں دیں نئی قسموں کے پھول متعارف کرائے۔

مختلف پودوں اور درختوں کے نام لکھا کر لگائے، باغ کو سیرگاہ کے علاوہ بوٹینیکل گارڈن میں تبدیل کر دیا۔ اس سے فارغ ہو کر داخلی دروازوں کے باہر دو کار پارکنگ بنوائیں باغ کے اندر والی پہاڑی پر بھی لائنیں لگوائیں غرضیکہ چار ماہ کی ان تھک محنت سے باغ جناح کی جون ہی بدل کر رکھ دی۔ باغ کے لئے مختص رقم کو پوری ایمانداری سے اس کی حالت سدھارنے پر خرچ کیا جس کا نتیجہ شاندار تھا۔

ان دنوں لاہور کے ہر شعبۂ زندگی کے بڑے لوگ باغ جناح میں باقاعدگی سے سیر کرنے آتے تھے جن میں اس وقت کے جسٹس غلام مجدد مرزا نوائے وقت کے جناب مجید نظامی اور اس وقت کے سینئر ڈاکٹر امیر الدین تھے یہ لوگ باغ کی بدلی ہوئی حالت پر بہت خوش ہوتے تھے اور ملک صاحب کے بڑے مداح تھے۔ ملک صاحب یہاں ذیادہ عرصہ نہیں رہے مگر جتنا بھی رہے اپنے پیچھے انمٹ یادیں چھوڑ گئے۔

Check Also

Phoolon Aur Kaliyon Par Tashadud

By Javed Ayaz Khan