Sunday, 29 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shahid Mehmood
  4. Trump Card Nakam

Trump Card Nakam

ٹرمپ کارڈ ناکام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پچھلے ایک سال کی گفتگو کا تنقیدی جائزہ لیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ ایک فرعون تھا جس کے غرور نے پوری دنیا کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ کل تک یہی ٹرمپ کہتا پھرتا تھا کہ میرے سامنے دنیا کی کوئی طاقت پر نہیں مارسکتی ہے اور میں جس بھی ملک کو حکم دوں تو وہ میرے سامنے سر تسلیم خم کردیتا ہے اور دنیا کے کسی حکمران کی ہمت نہیں ہے کہ وہ ٹرمپ کو انکار کرے۔

ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ وہ دنیا کے کسی بھی ملک میں جاکر اس کی سر زمین استعمال کرسکتا ہے اور اس کے ہوائی اڈوں کو تصرف میں لا سکتا ہے جبکہ کسی میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ ٹرمپ کو انکار کرے۔ ٹرمپ کے تکبر اور رعونت میں اس وقت مزید اضافہ ہوگیا جب پاکستان اور انڈیا نے ٹرمپ کے کہنے پر جنگ روک دی اور بعد میں ایران پر اپنے طیاروں سے بمباری کرنے کے بعد امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو ہم نے تباہ کردیا ہے اور اب ایران سے ہمیں اور اسرائیل کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

اس جارحانہ اقدام کے بعد جب ٹرمپ نے ایران اسرائیل جنگ روکنے کا حکم دیا تو دونوں ملکوں میں ہمت نہ تھی کہ وہ ٹرمپ کو منع کرتے۔ پھر وینزویلا کے صدر کو صدارتی محل سے اغوا کرکے امریکہ میں قید کرنے کے بعد ٹرمپ کا غرور آسمانوں پر پہنچ گیا تھا۔ پچھلے چند ماہ میں ٹرمپ اس طرح ظاہر کرنے لگا تھا جیسے وہ زمین کا مالک ہے اور ساری دنیا اس کے اشاروں کی منتظر ہے اور دنیا کے تمام وسائل اس کی ملکیت ہیں یہی وجہ ہے کہ وینزویلا کے تیل پر ہاتھ صاف کرنے کے بعد ایرانی پٹرول اور گیس کے لالچ میں امریکہ اپنے بحری بیڑے لے کر مشرق وسطیٰ پہنچ گیا اور ایک بار پھر دعویٰ کرنے لگا کہ ایران کے پاس جوہری طاقت موجود ہے جسے ختم کئے بغیر دنیا کا امن قائم نہیں رہ سکتا ہے۔

گزشتہ ماہ امریکہ کے اشارے پر اسرائیل نے ایران پر زور دار حملہ کیا اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کردیا اور ٹرمپ خوش تھا کہ اس نے ایران کی قیادت کو ختم کرکے جنگ جیت لی ہے لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ کسی بھی سپر پاور کے لئے جنگ کا آغاز کرنا بڑا آسان ہوتا ہے لیکن پھر اس جنگ سے باہر نکلنے کی بڑی قیمت چکانا پڑتی ہے۔ افغانستان کے اندر داخل ہونے والی امریکہ اور روس جیسی دونوں سپر طاقتوں کو رسوا ہو کر ہی جنگ سے جان چھڑانا پڑی تھی۔

امریکہ ویتنام میں بھی نو سال تک جنگ لڑتا رہا اور بعد میں اسے اپنے فوجیوں کی لاشیں لے کر بھاگنا پڑا تھا۔ ایران جنگ ٹرمپ کے اندازوں سے بھی مشکل ثابت ہوئی ہے جس میں امریکی حلیف اسرائیل کے اندر بڑی تباہی ہوئی ہے اور ساتھ ہی مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اہداف اور کاروباری مفادات کو بھی بڑا نقصان ہوا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے جب بھی کسی اہم ہدف کو نشانہ بنایا اگلے ہی دن ایران کے میزائل مشرق وسطیٰ میں پہنچ جاتے تھے اور امریکہ کے ٹھکانوں کو چن چن کر نشانہ بناتے رہے۔

اس وقت مشرق وسطیٰ امریکی فوجی تنصیبات اور کاروباری مفادات کے لئے غیر محفوظ خطہ بن چکا ہے اور اگر امریکہ جنگ جیت نہ پایا تو پھر امریکہ کے لئے مشرق وسطیٰ میں مستقبل میں سرمایہ کاری کرنا بھی ممکن نہیں رہے گا۔ جبکہ آبنائے ہرمز کے بند ہونے سے پہلے ہی امریکہ اور یورپ کے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ جو امریکہ دوہفتہ میں آبنائے ہرمز کو نہ کھول سکا اور ایرانی میزائلوں کا توڑ نہیں کرسکا وہ تمام دعووں کے باوجود جنگ ہار چکا ہے اور اب ایران کے بجلی پلانٹس اور پانی کے ذخائر کو نشانہ بنانے کا اعلان کررہا ہے۔

جنگوں کی سٹریٹجی میں شہری آبادیوں پر بم برسانا یا بجلی اور پانی کی تنصیبات پر حملے کرنا اصل میں فرسٹریشن کی نشانی ہے اور اس وقت ٹرمپ واقعی فرسٹریشن کا شکار ہے اور اس عالم میں کبھی اپنے یورپ کے حلیفوں کو ایران کے خلاف جنگ میں شمولیت کی دعوت دیتا ہے تو کبھی نیٹو ممالک کی فوجی سپورٹ کی بھیک مانگتا ہے اور تو اور اپنے حریف ممالک چین اور روس کو بھی آبنائے ہرمز کھولنے کے لئے منت سماجت کرتا پھرتا ہے لیکن کوئی بھی جھوٹے ٹرمپ کی مدد کرنے کو تیار نہیں ہے۔ یہاں تک کہ سری لنکا، پاکستان، افغانستان اور امریکی حواری انڈیا بھی امریکہ کو اڈے دینے سے انکار کر چکے ہیں کیونکہ جس ملک سے بھی امریکی جہاز اڑ کر ایران پر حملہ کریں گے تو ایران اس ملک پر میزائل بھیج دے گا جیسا کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ ہورہا ہے۔

اس وقت امریکہ پوری دنیا میں تنہائی کا شکار ہے اور یہ تنہائی امریکہ کی ٹوٹ پھوٹ کا باعث بن سکتی ہے۔ ایسے حالات میں امریکہ کے لئے اس جنگ سے جان چھڑانا اور محفوظ راستہ تلاش کرنا بھی ایک امتحان بن چکا ہے یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ بار بار دعوے کرتا ہے کہ ایران کی طرف سے امریکہ کو مذاکرات کی دعوت دی جارہی ہے اور فوراً ایرانی قیادت مذاکرات کی تردید کر دیتی ہے۔ ایسی صورت میں امریکہ کی نا صرف سبکی ہوتی ہے بلکہ اس کے لئے جنگ سے باعزت باہر نکلنے کے راستے بھی بند ہوتے جارہے ہیں۔

اب تک کی صورتحال کے مطابق پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بیل ڈال دی ہے اور اگلے چند دن میں امریکہ اور ایران کے نمائندے اسلام آباد میں مذاکرات کرتے نظر آئیں گے۔ ایران پر حملے کا امریکہ اور اسرائیل کے پاس کوئی جواز نہ تھا اور طاقت کے غرور میں جنگ چھیڑنے کے عمل کو پوری دنیا تنقید کی نظر سے دیکھتی ہے۔ اس وقت اسرائیل اور امریکہ کا اتحاد دنیا کے لئے خطرہ بن چکا ہے۔ اسرائیل مسلسل خطے کے مسلم ممالک پر کبھی دہشت گردی کے الزامات لگا کر چڑھ دوڑتا ہے اور کبھی ترقی کرتے ہوئے کسی بھی ملک کو اپنے لئے خطرہ بتاکر حملہ کردیتا ہے اور امریکہ اسرائیل کے ساتھ شامل ہوکر دفاعی طور پر کمزور ممالک کے وسائل پر قبضہ جما لیتا ہے۔

امریکی دعووں کے مطابق اب تک ایران پر دس ہزار سے زیادہ حملے ہو چکے ہیں جس میں فوجی تنصیبات، بحری بیڑے، تیل اور گیس کے ذخیرے، سکول، ہسپتال اور شہری آبادیاں شامل ہیں اور اب امریکہ ایران کی بجلی کی تنصیبات کو بھی تباہ کرنے کے اعلانات کررہا ہے۔ دوسری طرف ایران نے بھی اپنے میزائل حملوں کی اسی قسطیں اسرائیل اور امریکی اہداف پر داغ ڈالی ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران میں دس ہزار حملے کرکے بھی کوئی ایک بھی ہدف پورا نہیں کرسکا ہے کیونکہ ایران کی مرکزی قیادت شہید ہوئی تو اس ہی قیادت کی اگلی لڑی میدان میں آگئی۔ ایران کے میزائل رکے ہیں اور نہ ہی ایران نے جنگ بندی کی بات کی ہے بلکہ آبنائے ہرمز پر ایران کا قبضہ مضبوط ہوگیا ہے البتہ بڑے پیمانے پر ایران میں تباہی ہوئی ہے جبکہ مشرق وسطیٰ میں بھی حملوں کے نتیجہ میں تیل کی پیداوار اور ترسیل سے اربوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے اور دنیا کے بڑے حصہ میں کاروباری سرگرمیاں منجمد ہوئی ہیں۔

دنیا کو یہ سمجھ لینا چاہئیے کہ اسرائیل جیسے انتشار پسند ملک کو کنٹرول کئے بغیر دنیا میں امن نہیں آسکتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ اسرائیل پر بڑے پیمانے پر تجارتی پابندیاں عائد کرکے اس کی سخت مانیٹرنگ کی جائے کیونکہ عراق کے بعد ایران پر جوہری توانائی رکھنے کے الزام میں کیا گیا حملہ بھی غلط ثابت ہوا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مہذب ممالک کو ایک پیج پر آنا چاہئیے اور اسرائیل کی جوہری سرگرمیوں پر مکمل پابندی لگانا چاہئیے کیونکہ مستقبل میں یہ واحد انتشاری ملک ہے جو دنیا کے امن کو نقصان بھی پہنچائے گا اور ایٹمی حملے سے بھی گریز نہیں کرے گا جس سے دنیا تباہی کے دہانے ہر پہنچ جائے گی۔

Check Also

Zulqarnain: Quran Ki Roshni Mein

By Muhammad Sarfaraz