Saturday, 04 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shahid Mehmood
  4. Nikammay Hukumran, Awam Pareshan

Nikammay Hukumran, Awam Pareshan

نکمے حکمران، عوام پریشان

فقیر ہمیشہ مسائل کا رونا رو کر بھیک مانگتا ہے وہ ساری زندگی یہ نہیں سوچتا کہ اسے ہاتھ پھیلانے کی بجائے کوشش کرکے روزگار ڈھونڈنا چاہئیے۔ ناکام افراد کا بھی یہی وطیرہ ہے کہ وہ نئے وسائل اور نئے مواقع ڈھونڈنے کی بجائے دستیاب وسائل کی کھینچا تانی کرکے ان کے ضیاع کا سبب بنتے ہیں۔ کل جب موصوف علی پرویز ملک جو وزیر پٹرولیم ہیں اور کافی پڑھے لکھے تصور کئے جاتے ہیں، چیخ چیخ کر میڈیا سے بات کررہے تھے تو یقین جانئیے پہلے سے ہی اندازہ ہونے لگا تھا کہ ان کی چیخیں قوم کو چیخ و پکار پر مجبور کردیں گی اور پھر جب انھوں نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ کیا تو کوئی حیرانی نہیں ہوئی بس عجب سی پریشانی نے انگڑائی لی کہ یہ ناکام چہرے جن کا مقصد وزارتوں کے بڑے بڑے دفتروں میں بیٹھنا اور بڑے پروٹوکول انجوائے کرنا ہے یہ سالہا سال سے ایسے ہی قوم کی کمائی کو لوٹ لوٹ کر ارب پتی بن گئے لیکن ان کے کریڈٹ پر دھیلے کی قومی فلاح نہیں ہے بلکہ وہی گھسے پٹے بہانے اور فضول قسم کی تاویلیں ہیں جس میں بین الاقوامی پٹرول کی قیمتوں کے رونے اور جنگ کے کوسنے شامل تھے۔

ان صاحب کو تو وزیر پٹرولیم کہنا بھی کسی وزارت کی توہین ہے کیونکہ جب سے آئے ہیں قوم کو خوشخبری سنانے کی باتیں کرتے ہیں اور پھر پٹرول کی قیمتیں بڑھا کر گہرا غم دے جاتے ہیں۔ ان کی وزارت کو بدل دینا چاہئے کیونکہ یہ ترقی کرتے ہوئے نظام کے لوگ نہیں ہیں اور علی پرویز کو وزیر مہنگائی کہنا بہتر ہے کیونکہ ان کے ہر اعلان کے بعد غربت چھلانگیں مارنے لگتی ہے۔ اس کے بعد کرائے کے وزیر خزانہ سامنے آئے اور اپنے چار سال کی ناکامیوں کی داستان سنا کر آخر میں قوم پر پٹرول مہنگا کرنے کا بم دے مارا اور ہنستے مسکراتے بڑی بڑی گاڑیوں میں گھر چلے گئے۔

یہ حکمران اتنے نااہل ہیں کہ ان کے پاس مشکل وقت کے لئے کوئی پلاننگ ہے اور نہ ہی خوشحالی کا کوئی پروگرام ہے۔ یہ لوگ سالہاسال سے آئی ایم ایف سے پالیسیاں لے کر عوام پر ٹیکس اور مہنگائی کے بم پھوڑتے ہیں۔ عجیب داستان ہے کہ بغیر کسی ہوم ورک کے یہ سارے وزیر مختکف بہانوں کی بنیاد پر عوام کو دھوکا دیتے ہیں۔ اس وقت ملک کی حالت یہ ہے کہ بڑے کاروبار جن میں پراپرٹی اور ٹرانسپورٹ کے بزنس شامل ہیں وہ تقریباً ختم ہو چکے ہیں جس سے لاکھوں لوگ بیروزگار ہو گئے اور ان کاروباروں سے روزگار کمانے والے افراد کی آمدنیاں ختم ہوگئیں۔

حکمرانوں کی ناعاقبت اندیشی دیکھیں کہ کسی بھی کاروبار کے لئے ضابطہ اخلاق بنانے کی بجائے بھاری ٹیکس لگا دئیے جاتے ہیں جس سے نہ تو بزنس رہتا ہے اور نہ ہی اس سے حاصل ہونے والے ٹیکس باقی بچتے ہیں۔ یہ سلسلہ چلتے چلتے کئی کاروبار کھا گیا ہے۔ پراپرٹی کی بدحالی سے کنسٹرکشن انڈسٹری بھی تباہ ہوگئی اور لاکھوں دیہاڑی دار مزدور بھی فارغ بیٹھ گئے جبکہ سڑکوں کنارے ٹھیلے لگانے والے افراد کو بھی ڈرا دھمکا کر اٹھا دیا گیا اور چند ایک کو حکومت نے ٹھیلے فراہم کردئیے لیکن ہزاروں خاندان اس کاروبار سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔

ملکی اجناس پہلے افغانستان ایکسپورٹ ہوا کرتی تھیں یا پھر اسمگلنگ ہوتی تھیں اب وہ اجناس بھی برآمد نہیں ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے کسانوں کی پیداواری لاگت پوری نہ ہونے سے بڑے پیمانے پر کسان پریشان ہیں اور مزید کاشت کرنے سے گھبراتے ہیں۔ ایسے میں حکومتوں کے پاس اپنے اخراجات پورے کرنے کے مواقع محدود ہونے لگے جس کا حل یہ نکالا گیا کہ اندرونی اور بیرونی قرضوں پر انحصار بڑھ گیا اور اس رقم کو غیر پیداواری مدات میں خرچ کیا جانے لگا جس میں پنشن، مراعات اور ترقیاتی منصوبوں کے نام پر ذاتی تشہیر شروع ہوگئی جس کا نقصان یہ ہوا کہ امیر امیر ترین اور غریب مہنگائی کے بوجھ میں دبتا گیا۔

جب سکڑتے کاروبار اور بگڑتی برآمدات کے ساتھ ٹیکس اہداف پورے نہیں ہوئے تو ان معاشی ارسطووں نے حل یہ نکالا کہ بجلی، گیس اور پٹرول پر بے جا ٹیکس لگا دئیے جس سے وقتی طور پر تو آئی ایم ایف کے مطالبات پورے ہوگئے لیکن آئندہ کے لئے پیداواری لاگت میں بڑا اضافہ ہونے لگا جس سے ٹیکسٹائل کی انڈسٹری بند ہونے لگی اور ساتھ ہی بڑے پیداواری یونٹس کے پاس ایکسپورٹ کے آرڈر ملتوی ہونے لگے جس سے کئی یونٹس بند ہو گئے۔ اس وقت بھی فارماسیوٹیکل، وہیکلز مینوفیکچرنگ، کاٹن جننگ کے بہت ساری فیکٹریاں بند پڑی ہیں۔ جیسے جیسے کاروبار اور صنعتی یونٹس سکڑتے گئے ویسے ویسے آئی ایم ایف کے اہداف کا حصول مشکل ہوتا گیا جس پر حکمرانوں نے عوام کو مزید مشکلات میں ڈالتے ہوئے وہی سخت فیصلے شروع کردئیے جن کا مقصد معیشت کو مضبوط کرنا نہیں بلکہ دم توڑتی معیشت کا گلا دبانا تھا۔

آخر عوام نے تنگ آکر حکومتی بجلی کے استعمال کی بجائے اپنے سولر سسٹم لگالئے اور بڑی چھوٹی صنعتوں نے سولر اور فرنس آئل کے بڑے انرجی پلانٹ لگا کر حکومت کی اجارہ داری ختم کردی۔ ایسے میں حکمرانوں نے کچھ سیکھنے کی بجائے اور صنعتی ترقی کو فروغ دینے کی بجائے پٹرول پر بھاری ٹیکس اور لیوی لگا کر اپنے اخراجات کو پورا کرنا شروع کردیا۔ اس وقت پٹرول وہ واحد ذریعہ بچا ہے جس سے حکومت فوری پیسہ اکٹھا کرکے اپنے معاملات چلارہی ہے۔ اس سارے معاملہ میں عوام کی حالت دن بدن بدحال ہو رہی ہے اور ایک چھوٹا کاروباری ناصرف مہنگائی بلکہ سرکاری محکموں کی بدمعاشی کی وجہ سے پستا جا رہا ہے۔

عام آدمی، تنخوادار طبقہ، مزدور اور چھوٹا کاروباری اس وقت حکومتی شکنجے کے ساتھ ساتھ، ایف بی آر، حکومت کے انفورسمنٹ کے محکموں، بجلی اور تیل کے معاہدوں میں بری طرح پھنس چکا ہے اور حکمران ہیں کہ سالہا سال سے عوام کو جھوٹی تسلیاں دیتے ہیں اور ساتھ ہی ان کی آمدنیوں کو بھی نوچتے ہیں۔ ملک کے معاشی کھڑپینچوں نے بجلی کے کرایہ داری معاہدے کئے اور تیس تیس سال سے بغیر بجلی خریدے کھربوں روپے کی سالانہ ادائیگیاں پاور پلانٹس کو باقاعدگی کے ساتھ کی جاتی ہیں اور اسی طرح گیس کی خرید پر بھی قطر کے ساتھ ظالمانہ معاہدوں میں گیارہ سال سے گیس خرید کر بجلی کے پاور پلانٹس کو فراہم کی جارہی ہے۔

اس سارے کھیل میں حکمرانوں نے چند مافیاز کو نوازنے کے لئے ملک اور عوام دونوں کو تباہی سے دو چار کردیا ہے۔ آج تک کسی حکمران کو ہمت نہ ہوئی کہ وہ ظالمانہ بجلی کے معاہدوں کو ہی ختم کردے یا ان کو منطقی کرکے قوم کو عذاب سے نکالے بلکہ ہمیشہ ان ظالمانہ ادائیگیوں کے لئے عوام کا گلا گھونٹا جاتا ہے۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ وطن عزیز میں حکمرانوں کا کام صرف ٹیکس اور فنڈز اکٹھا کرنا ہی رہ گیا ہے جس کے لئے لے دے کر وہی توانائی سیکٹر باقی بچتا ہے جس سے حکمرانوں نے باقاعدہ لوٹ مار مچا رکھی ہے اور ان پالیسی سازوں کو ذرا احساس نہیں ہے کہ ملک مسلسل معیشت کی گہری دلدل میں پھنس رہا ہے جس کے بعد بھوک، افلاس اور افراتفری ہی باقی بچے گی۔

موجودہ حکومت کی چار سال بعد بھی کوئی ایک پالیسی ایسی دکھائی نہیں دیتی ہے جس سے ملک میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے بلکہ ہر چلتے ہوئے کاروبار پر ٹیکس لگائے جارہے ہیں اور پابندیاں لگائی جارہی ہیں۔ موجودہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد یقین جانئیے ملکی معیشت کی شہ رگ پر آخری چوٹ لگا دی گئی ہے جس کے بعد ملک میں افراتفری میں اضافہ ہی ہوگا۔ ملک کے بڑے کاروباری حضرات کا کہنا ہے کہ حکومتیں انھیں ٹکے کی سہولت نہیں دیتی ہیں اور نہ ہی سپورٹ کرتی ہیں اور عوام اپنی مدد آپ کے تحت کاروبار زندگی چلارہے ہیں اور حکومتی کردار سراسر تخریبی ہے جس میں چلتی ہوئی صنعتوں سے حصہ وصول کرنے کے چکر میں ان صنعتوں کو ہی تباہ کیا جارہا ہے۔ جس کی وجہ سے سرمایہ ملک سے باہر منتقل ہوریا ہے۔

اس وقت عام آدمی پوچھتا ہے کہ جب عوام نے اپنے لئے بجلی خود بنانا ہے، پانی کے حصول کی تگ و دو خود کرنی ہے، مہنگے سکولوں کی فیس خود ادا کرنی ہے، بیماری میں علاج کا خرچ بھی خود کرنا ہے، ٹرانسپورٹ کا انتظام بھی خود ہی کرنا ہے تو پھر بھاری ٹیکس کس لئے حکومتیں وصول کرتی ہیں۔ تین سال پہلے تک لوگ بجلی کے عذاب میں پھنسے ہوئے تھے اور آج پٹرول کا عذاب نازل ہو چکا ہے۔ لگتا یہی ہے کہ عوام کو ایندھن کا انتظام بھی خود ہی کرنا پڑے گا جس کے بعد معاشی اداکار پھر کسی اور جنس کو پکڑ کر عوام کو نچوڑنے میں مصروف ہو جائیں گے۔ وطن عزیز میں عوام اور ریاست کے درمیان بندھن کو ظالم حکمرانوں، نااہل معیشت دانوں اور کرپٹ بیوروکریسی نے داغدار کردیا ہے جس میں عوام کے لئے ہر گزرتے وقت کے ساتھ سانس لینا مشکل ہوتا جارہا ہے۔

Check Also

Zanu e Til Miz Kya Hota Hai?

By Abu Nasr