Thursday, 19 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shahid Mehmood
  4. Hukumrani Ya Ayyashi

Hukumrani Ya Ayyashi

حکمرانی یا عیاشی

گزشتہ روز سینئر اینکر پرسن ندیم ملک کے پروگرام میں رانا ثناء اللہ مہمان تھے اور ان سے جب پو چھا گیا کہ پلاننگ کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ملک میں غربت کی شرح تئیس فیصد سے بڑھ کر انتیس فیصد ہو چکی ہے تو انھوں نے روایتی ہنسی ہنستے ہوئے کہا کہ یہ سارے اعداد و شمار شمار محض پروپیگنڈا ہیں اور ملک میں اس وقت دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں۔

مزید لاہور کی بسنت کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ لوگوں کے پاس تو اتنا پیسہ ہے کہ وہ تین ہزار روپے والی ڈور اٹھارہ ہزار روپے میں خریدتے رہے ہیں اور پھر وزیر اعلیٰ پنجاب کے جہاز کے معاملہ میں اٹھائے گئے سوال کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں یہ تو لوگ بلاوجہ اس کو ایشو بنا رہے ہیں ورنہ دس پندرہ ارب روپے لٹا دینا تو حکمرانوں کی صوابدید ہے۔

اس کے بعد اینکر ندیم ملک نے سوال کیا کہ پنجاب حکومت ججوں اور بیوروکریسی کے لئے اٹھارہ اٹھارہ کروڑ روپے کی گاڑیاں خرید رہی ہے تو اس کے بارے میں کیا خیال ہے تو رانا ثناء اللہ نے کہا کہ آپ کیا چاہتے ہیں کہ ججوں اور افسران کو گاڑیاں نہ دی جائیں بلکہ انہیں خچروں پر عدالت اور دفاتر میں بھیجا جائے جو کہ مناسب نہیں ہے پھر چئرمین سینیٹ کی خریدی گئی نو کروڑ روپے کی گاڑی پر بھی رانا ثناء اللہ نے ہنستے ہوئے کہا کہ یہ گاڑیاں ان لوگوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے دی گئی ہیں۔

اس پورے انٹرویو میں جو جھلک دکھائی دی وہ لگتا ہی نہیں تھا کہ کسی جمہوری ملک کے ایک سینئر وزیر کی گفتگو ہے بلکہ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے کسی شاہی دربار کا وزیر ہو جس کے لئے بادشاہ اور اس کی اطاعت کے سوا زندگی میں کوئی چیز اہم نہیں ہوتی ہے۔ اکثر درباری لوگوں کی ذمہ داری بادشاہ وقت کی ہر بری خصلت کی ناصرف تعریف کرنا ہوتا ہے بلکہ ایسے تمام اقدامات کو سپورٹ کرنا ہوتا ہے جو بادشاہ کی خواہشات کو پورا کرتے ہوں۔

اس گفتگو میں حکومت ہی کے اعداد و شمار کو ماننے کی بجائے نہایت بھونڈے انداز میں کہا گیا کہ جو قوم بسنت پر مہنگی ڈور خرید سکتی ہے وہ غریب ہرگز نہیں ہو سکتی ہے۔ لگتا ایسا ہی ہے کہ حکومت نے بسنت جیسے فضول تہوار کا اہتمام صرف اس لئے کیا تھا تاکہ لوگ مہنگی ڈور اور پتنگیں خریدیں گے تو پھر اسی کو بنیاد بناکر حکمران جہاز اور مہنگی گاڑیاں خرید لیں گے۔

وزیر موصوف نے اپنی گفتگو میں کئی گنا مہنگی قیمت پر بکنے والی ڈور کا ذکر کرکے اس ناکامی کا بھی اعتراف کیا ہے جس میں حکومت مختلف مافیا کی طرف سے کی گئی مہنگائی کے سامنے ناصرف بے بس ہے بلکہ اسی مہنگائی کو بنیاد بناکر عوام پر اپنی عیاشیاں مسلط کرتی ہے۔ جب کہ وزیر اعلیٰ کے مہنگے جہاز کی خریداری پر تنقید کے معاملہ پر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جہاز پر ہونے والی ساری تنقید اور گفتگو فضول اور غیر ضروری ہے اور عوام کی طرف سے اس معاملہ پر اٹھائے جانے والے سارے اعتراضات بھی فضول اور مضحکہ خیز ہیں۔ جبکہ مہنگی گاڑیوں کی خریداری پر بھی انھوں نے تمسخرانہ انداز میں ہی بات کو ٹال دیا اور ان کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ ایسے مشکل حالات میں جب عوام کو کفایت شعاری کا سبق دیا جارہا ہے تو سرکار کے عہدیداران بھی پرانی گاڑیوں پر اکتفا کرتے اور جہاں گاڑیاں خریدنے کی ضرورت بھی پڑتی تو چھوٹی گاڑیوں کو فروغ دیا جاتا لیکن حکمران طبقہ اپنی عیاشی اور مراعات کے لئے تمام حدوں کو پار کرنے سے بھی نہیں چوکتا ہے۔

اس وقت ملک ایک طرف معاشی بحرانوں کا شکار ہے اور آئی ایم ایف کی شرائط پورا کرتے کرتے حکمرانوں نے ناصرف عوام کو بھوک، غربت اور بے روزگاری میں دھکیلا ہے بلکہ ملک کے اندر کاروبار کا پہیہ ہر آنے والے دن کے ساتھ جام ہوتا جارہا ہے اور اس پر بھی حکمرانوں کو نہ ملک پر رحم آتا ہے اور نہ ہی عام آدمی پر ترس آتا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر پہلے سے ناقابل برداشت قیمت پر بکنے والے پٹرول، بجلی اور گیس پر ٹیکسوں کے بم پھوڑے جاتے ہیں جس کے بعد دنیا جہاں کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

اس وقت عام آدمی کے لئے کپڑے خریدنے سے لے کر آٹا، گھی، چینی اور چائے کی خریداری بھی مشکل ترین ہوتی جارہی ہے اور پھر پٹرول کی قیمت میں بے پناہ اضافہ کرکے پھر مافیا کی ہی جیبیں بھری گئی ہیں۔ عام آدمی کی حالت جس قدر پتلی اس وقت ہے وہ پہلے کبھی نہ تھی۔ آج لوگ روزہ کی افطاری میں بھی کنجوسی کرتے ہیں اور عید کی شاپنگ کے لئے اکثریت کے پاس پیسے ہی نہیں ہیں اور بچوں کے کپڑے خریدنے کے بعد والدین خاموش ہی دکھائی دیتے ہیں۔ اکثر ڈاکٹر حضرات بتاتے ہیں کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ لوگ اپنے بچوں کی ادویات یا دودھ پر کمپرومائز کرتے ہوں لیکن اب لوگ دودھ خریدتے ہوئے بھی پریشان نظر آتے ہیں۔

عوام کے لئے اپنے بچوں کی سکول کی فیسیں دینا مشکل ہوگیا ہے اور حکومت ہے کہ بدحال عوام کو کفایت شعاری سکھانے میں مصروف ہے اور موٹر سائیکل چلانے والے کو سائیکل پر جبکہ سائیکل چلانے والے کو پیدل چلنے کی تلقین دیتی ہے۔ اسی طرح تین وقت کا کھانا کھانے والے سے دو وقت کی روٹی بھی چھیننے کا تہیہ کر چکی ہے اور ایسے میں بڑے پیمانے پر گاڑیاں خریدنے اور صوبے کی وزیر اعلیٰ کے لئے سپر لگژری جہاز خریدنے پر بات کرنے کو غیر ضروری کہنا سراسر آمریت کی مثال ہے۔

حکومت اس عوام سے قربانی مانگتی ہے جس کے پاس پہلے ہی ضروریات زندگی ناکافی ہے اور وزیر اعلیٰ کے پاس پہلے سے جہاز، ہیلی کاپٹر اور سینکڑوں لگژری گاڑیوں کے موجود ہوتے ہوئے بھی مزید جہاز خریدنا عیاشی بھی ہے اور بے حسی بھی۔ دوسری طرف وہ کونسا جج اور سنئر بیوروکریٹ ہے جس کے پاس پہلے ہی کئی کئی گاڑیاں موجود نہ ہوں لیکن ذاتی پسند کی بنیادوں پر ججوں کو کروڑوں کی گاڑیاں دینا بذات خود جرم بھی ہے اور اخلاقی گراوٹ بھی۔ کون نہیں جانتا کہ اس طرح کی نوازشات کے پیچھے کے محرکات کیا ہوتے ہیں جن میں حکومتیں مراعات کی رشوت دے کر اپنے راستے کے کانٹے ختم کرتی ہیں۔ ابھی تو گاڑیاں خریدیں گئی ہیں اور اس کے بعد پٹرول اور مینٹیننس کی صورت میں بھی عوام کے منہ سے نوالے چھینے جائیں گے۔

حکمرانوں کی باتوں پر حیرانی ہوتی ہے جب وہ کہتے ہیں کہ افسران کو کارکردگی کے لئے مناسب ماحول دینے کے لئے لگژری گاڑیاں دینا ضروری ہے جبکہ وطن عزیز میں کارکردگی کی جو حالت ہے اس پر تو اکثر افسران کو جیل بھیج دینا چاہئیے۔ اس وقت کی جو معیشت اور توانائی کی بحرانی کیفیت ہے اس کے پیچھے انھیں افسران کی کارستانیاں ہیں جو دھائیوں سے ملک ہر مسلط ہیں اور ایسی بدترین پالیسیاں بناتے رہے ہیں جن سے ملک کی سانسیں تک بند ہوگئی ہیں۔ جو ملک پہلے ہی آئی ایم ایف کی پالیسیوں پر چلتا ہے اس کے معیشت دانوں اور معاشی پالیسی سازوں کو تو پہلی فرصت میں جیل ڈال دینا چاہئے کیونکہ جب معاشی فیصلے کرنے ہی آئی ایم ایف نے ہیں تو معیشت دانوں کی فوج پال کر عوام پر بوجھ ڈالنے کی کیا ضرورت ہے۔

بدقسمتی دیکھیں عوام کی حالت پتلی ہوتی جارہی ہے لیکن ان بیوروکریٹس کی عیاشیاں ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتی ہیں۔ ایسی ہی حالت توانائی کے پورے شعبے میں ہے جہاں بجلی اور گیس کے ایسے معاہدے کئے گئے ہیں کہ قوم پچیس تیس سال سے سالانہ کھربوں روپے بجلی مافیا کو دے کر بھی بحران کا شکار ہے۔ اب جن لوگوں نے ملک کی تباہی کے معاہدے کئے ہیں انھی لوگوں کو مسلسل مراعات بانٹی جارہی ہیں جبکہ عام عوام ٹیکسوں کے بوجھ اٹھا کر بھی مزید تکلیف میں دھنستے جاتے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ قومی مجرم جب عوام کی درگت بنا کر مراعات اور عیاشیاں لیتے رہیں گے تو پھر ایسے ملک میں رانا ثنااللہ کی سوچ کو غلط نہیں کہا جا سکتا ہے۔

Check Also

Das Pise Ki Eidi Ya Khuloos K Gumshuda Khushbu

By Javed Ayaz Khan