Thursday, 23 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shahid Mehmood
  4. Gulab Devi Hospital Tareekhi Khidmaat

Gulab Devi Hospital Tareekhi Khidmaat

گلاب دیوی ہسپتال تاریخی خدمات

گزشتہ روز نشتر ٹاؤن پریس کلب کے عہدیداران نے گلاب دیوی چیسٹ ہسپتال کا دورہ کیا اور ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر حامد حسن سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کا مقصد ایک طرف تو ہسپتال کے اندر علاج کی سہولیات کے بارے میں جاننا تھا اور ساتھ ہی ہسپتال کو درپیش مسائل کو بھی اجاگر کرنا تھا تاکہ مخیر حضرات اس رفاعی ہسپتال میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔

ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ اور چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر حامد حسن نے وفد کو خوش آمدید کہا اور صحافیوں کو بتایا کہ گلاب دیوی ہسپتال قیام پاکستان سے پہلے وجود میں آیا تھا اور اس وقت کے مشہور سیاست دان اور سماجی شخصیت لالہ لاجپت رائے نے اس ہسپتال کی بنیاد 1927 میں اپنی والدہ گلاب دیوی کی یاد میں رکھی تھی جو ٹی بی کے مرض سے وفات پاگئی تھی۔ یہ ہسپتال پچاس ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے جس میں چالیس ایکڑ اراضی لاجپت رائے نےاس وقت کی انگریز حکومت سے خریدی تھی جبکہ دس ایکڑ زمین حکومت نے بطور عطیہ گلاب دیوی ٹرسٹ کے نام کی تھی۔

آغاز میں یہ ہسپتال پچاس بستروں پر مشتمل تھا جہاں اس وقت ٹی بی کے مریضوں کو رکھا جاتا تھا اوران کے علاج تک مکمل ادویات اور کھانا تک فراہم کیا جاتا تھا۔ اس ہسپتال کو اعزاز حاصل ہے کہ جولائی 1934 میں مہاتما گاندھی نے اس کا افتتاح کیا تھا اور پھر جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو بھارت سے لٹے پھٹے مسلمان جب والٹن مہاجر کیمپ میں آتے تھے تو ان کے علاج کے لئے گلاب دیوی ہسپتال نے بڑی خدمات سر انجام دی تھیں اور اسی کارنامہ ہائے پر شاباش دینے کے لئے قائد اعظم خود بھی چل کر نومبر 1947 میں اس ہسپتال تشریف لائے تھے اور آج بھی قائد اعظم کی یاداشت کا خط چیف ایگزیکٹو کے آفس میں محفوظ ہے۔

اس ہسپتال کی خوش قسمتی ہے کہ اسے ہندوستان کی آزادی کے دونوں بڑے رہنماؤں مہاتما گاندھی اور قائد اعظم کی سرپرستی حاصل رہی ہے۔ گلاب دیوی کو بڑا عرصہ پاکستان میں ٹی بی کے سب سے بڑے ہسپتال ہونے کا اعزاز حاصل رہا ہے اور پاکستان کے قیام کے بعد ستر کی دہائی میں گلاب دیوی ہسپتال میں دل کا شعبہ بھی قائم ہوگیا اور لاہور میں دل کا یہ پہلا شعبہ تھا جس نے لاکھوں مریضوں کا مفت علاج کیا ہے۔ آج گلاب دیوی ایک بڑا اور مکمل ٹرشری کیئر ہسپتال بن چکا ہے جس میں چیسٹ کے ساتھ ساتھ میڈیسن، آرتھو پیڈک، سرجری، گائنی، چلڈرن کئر کے شعبوں سمیت پندرہ مختلف شعبوں میں سپیشلائزیشن کروائی جارہی ہے جبکہ العلیم میڈیکل کالج میں بہترین فیکلٹی کے زیر انتظام ایک بڑا میڈیکل کالج بھی قائم ہے جہاں ایم بی بی ایس کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کے علاؤہ فزیکل تھراپی، نیوٹریشن، فارمیسی، نرسنگ اور کئی میڈیکل ٹیکنالوجیز میں گریجویشن اور سرٹیفکیٹ کورس بھی کروائے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر حامد حسن کا کہنا تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ علاج بہت مہنگا ہو چکا ہے اور اب کسی بھی ٹرسٹ ہسپتال کے لئے بغیر حکومتی سپورٹ کے کسی بھی بڑے ہسپتال کو چلانا مشکل کام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید آلات کی ایجاد نے جہاں علاج کو آسان کیا ہے وہیں پر علاج کے مراحل کے خرچے میں بے تحاشہ اضافہ بھی ہوا ہے۔ پہلے ڈاکٹر اپنے تجربہ اور علامات کے مطابق مرض کی تشخیص کرتے تھے اور اس کے مطابق ادویات دے دی جاتی تھیں اس لئے کسی بھی ٹرسٹ ہسپتال کے لئے ماہر ڈاکٹروں کی خدمات حاصل کرنے کے علاؤہ کوئی بڑا خرچہ نہیں ہوا کرتا تھا لیکن اب جدید ترین لیبارٹری، ایکسرے، الٹراساؤنڈ، سی ٹی سکین اور ایم آئی آر جیسی تشخیصی سہولیات میسر ہیں لیکن ان مشینوں کی لاگت کروڑوں روپے ہے اور پھر ان کو چلانے کے لئے اخراجات اور کیمیکلز کا استعمال، بجلی کی لاگت سمیت امیجنگ فلموں پر بڑی خطیر رقم خرچ ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ علاج کے ذرائع پر بھی بہت بڑا خرچہ آتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈوسکوپی، آرتھو سکوپی، برونکوسکوپی، انجیو گرافی اور انجیو پلاسٹی کے پروسیجرز پر بڑی رقم خرچ ہو جاتی ہے۔

ڈاکٹر حامد حسن نے بتایا کہ گلاب دیوی ہسپتال کو حکومت گرانٹ مہیا کرتی تھی جو اب ختم ہو چکی ہے اور صحت کارڈ کی واحد سہولت موجود ہے جس میں بھی مریض کو ایک خاص نسبت سے رقم دینا ہوتی ہے۔ جبکہ گلاب دیوی کی غریب پروری کی تاریخ دیکھتے ہوئے اکثر غریب اور پسماندہ مریض ہی علاج کے لئے آتے ہیں جن کے پاس دوا تک کے پیسے نہیں ہوتے ہیں اور ان کے علاج کے لئے ہسپتال اپنے وسائل سے خرچ کرتا ہے۔ ڈاکٹر حامد حسن نے بتایا کہ آج سے چند سال پہلے تک پورا ہسپتال ڈونر حضرات کی مدد سے چلا کرتا تھا لیکن وقت کے ساتھ اخراجات اس قدر بڑھ گئے کہ ڈونر حضرات کی فراہم کی گئی عطیہ کی رقم ناکافی ہونے لگی۔ چنانچہ ہسپتال انتظامیہ نے العلیم میڈیکل کالج کا سنگ بنیاد رکھا اور چند سالوں میں یہ کالج لاہور کا بہترین میڈیکل کالج بن چکا ہے اور اس کالج کی کارکردگی دیکھتے ہوئے اسی سال کالج کی نشستوں میں اضافہ کرکے ان کی تعداد ایک سو سے بڑھا کر ڈیڑھ سو کردی گئی ہے۔ اس کے علاؤہ نرسنگ کالج اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز میں بھی درجن بھر کورس کروائے جارہے ہیں جو گلاب دیوی ہسپتال کے اخراجات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

ڈاکٹر حامد حسن کا کہنا تھا کہ مستقبل میں ہم گلاب دیوی ایجوکیشنل کمپلیکس میں مزید کورسز متعارف کروانے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ نئی نسل کو معیاری اور سستی تعلیم فراہم کرکے ملک و قوم کی ترقی میں کردار ادا کیا جا سکے۔ ڈاکٹر حامد حسن کا کہنا تھا کہ گلاب دیوی ہسپتال کی بنیاد تو لالہ لاجپت رائے نے رکھی تھی لیکن اس کو جدید ترین ہسپتال بنانے میں سچے پاکستانیوں نے بڑا کردار ادا کیا ہے۔

ڈاکٹر حامد حسن نے بتایا کہ آج جبکہ ٹی بی کا مرض قابل علاج ہے اور مریض کو گھر پر ہی ادویات کے ذریعہ صحت یاب کیا جاسکتا ہے لیکن ملک میں سموگ اور موسمیاتی تبدیلیوں نے سانس اور پھیپھڑوں کے دیگر امراض میں بڑا اضافہ کیا ہے اس لئے گلاب دیوی ہسپتال اب نئے انداز کے ساتھ سانس کے امراض پرکام کررہا ہے۔ ہسپتال میں چیسٹ اور دل کی ایمرجنسی چوبیس گھنٹے کام کرتی ہے اور صرف امراض سینہ کے ہزاروں مریض روزانہ آؤٹ ڈور میں آتے ہیں جہاں ماہر ڈاکٹر ان کے علاج میں ہمہ وقت تیار ہوتے ہیں اور ہسپتال میں آنے والے ہر ٹی بی کے مریض کو مفت ادویات دی جاتی ہیں جبکہ فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے تعاون سے انڈور مریضوں کو بھی مفت ادویات فراہم کرنے کا فول پروف نظام بنایا گیا ہے۔

ڈاکٹر حامد حسن نے کہا کہ اس وقت سرکاری ہسپتالوں میں ایکسرے فلموں کی عدم دستیابی اور ادویات کی فراہمی پر بڑے سوالات اٹھتے ہیں لیکن گلاب دیوی ہسپتال کی انتظامیہ محدود وسائل کے باوجود کسی مریض کو علاج کے بغیر جانے نہیں دیتی ہے اور گلاب دیوی ہسپتال میں ایکسرے فلموں اور ادویات کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔ ڈاکٹر حامد حسن نے صحافیوں سے درخواست کی کہ وہ بھی کار خیر میں اپنا حصہ ڈالیں اور ہسپتال کی خدمات کے بارے میں لوگوں کو بتائیں تاکہ جو بھی مریض پیسے نہ ہونے کی وجہ سے تکلیف میں ہے وہ بغیر فکر کئے گلاب دیوی ہسپتال اجائے اور گلاب دیوی ہسپتال کی آغوش اسے علاج بھی دے گی اور جہاں ممکن ہوا کھانے کی سہولت بھی فراہم کرے گی۔

ڈاکٹر حامد حسن نے یقین دلایا کہ جو بھی صحافی حضرات علاج کے لئے ہم سے رابطہ کریں گے تو ہم ان کو بھی ہر طرح کی سہولیات فراہم کریں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ادارے بننے میں دھائیاں لگ جاتی ہیں اور ایک اچھا ادارہ وہی ہے جس کا ہر آج گزرے کل سے بہتر ہو اور پھر اس ادارے کے ورثے پر خدمت اور انسانیت کی فلاح بھی لکھی ہو تو اس کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کو چاہئیے کہ وہ صحت پر خطیر رقم خرچ کررہی ہیں تو گلاب دیوی ہسپتال کے مریضوں پر بھی نظر کرم کریں کیونکہ یہاں آنے والے غریب مریض بھی ان ہی کے صوبے سے تعلق رکھتے ہیں۔

Check Also

Riwayat Ki Roshani Aur Qayadat Ki Nai Kiran

By Javed Ayaz Khan