Dehaton Ki Bahali
دیہاتوں کی بحالی

حکومت پنجاب نے پہلی بار پنجاب کے دیہاتی علاقوں میں ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت صفائی اور کچرا اٹھانے کا کام شروع کیا ہے جس کے بارے میں مختلف علاقوں سے متضاد اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں۔ کچھ دیہاتوں میں جہاں ضلعی اور تحصیل انتظامیہ مستعد ہے تو وہاں پر صفائی اور گھر گھر جاکر کوڑا اٹھانے کا کام بھی ہو رہا ہے اور جہاں کہیں انتظامیہ کی دلچسپی نہیں ہے وہاں آج بھی مسائل جوں کے توں ہیں۔
میں مریم نواز کے منصوبوں کا معترف ہوں لیکن ان سارے منصوبوں میں کاسمیٹکس عنصر زیادہ نظر آتا ہے جس کی وجہ سے خطرہ یہی ہے کہ جب کبھی ان منصوبوں پر توجہ کم ہوئی تو یہ سارا نظام ریت کی طرح گر جائے گا۔ جن منصوبوں پر وزیر اعلیٰ کا دھیان زیادہ ہے یہ کبھی بھی خود کار طریقے سے نہیں چلتے ہیں بلکہ ذرا سے عدم توجہی سے ان کی ناکامی کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ میں پہلے بھی اپنے ایک کالم میں دیہاتوں کے اندر پائے جانے والے مسائل کی طرف توجہ دلا چکا ہوں جن میں تجاوزات، دیہاتوں کے چھپڑوں پر قبضے، تعمیراتی ڈسپلن کی کمی، مشاورتی نظام کی بدحالی وغیرہ شامل ہیں۔
ہم نے ابھی تک یہی دیکھا ہے کہ حکومت اور ضلعی انتظامیہ دیہاتوں کا چکر تب ہی لگاتی ہے جب گندم کی کٹائی یا گندم کی خرید جیسے معاملات سامنے آتے ہیں جبکہ باقی حالات کیسے بھی ہوں دیہاتوں میں حکومت کی توجہ نہیں ہے۔ حقیقت تو یہی ہے کہ ہمارے اکثر دیہاتوں میں انتظامی معاملات میں حکومت کہیں نظر نہیں آتی ہے سوائے کسی لڑائی جھگڑے میں تھانے کچہری کے معاملات میں پولیس کا محکمہ موجود ہوتا ہے جبکہ پولیس نے کبھی بھی دیہاتوں میں سکیورٹی اور جرائم میں کمی کے لئے ٹھوس اقدامات نہیں کئے ہیں۔
میں نے بچپن سے کچھ دیہاتوں کے حالات کو دیکھا ہے کہ شام ہوتے ہی گاؤں کو جانے والے راستوں پر لوٹ مار کرنے والے ڈاکو سرگرم ہو جاتے ہیں اور آج تیس چالیس سال بعد بھی یہ عمل ویسے ہی چل رہا ہے اور لگتا ہی نہیں ہے کہ وہ دیہات بھی کسی منظم ریاست کا حصہ ہیں۔ بہت سے دیہات ایسے ہیں کہ وہاں کوئی تعلیمی ادارے ہی موجود نہیں ہیں جس کی وجہ سے اکثر بچے اور بالخصوص بچیاں سکولوں میں جا نہیں پاتی ہیں۔ آج بھی ساٹھ فیصد سے زیادہ دیہاتوں میں صحت کی سہولیات موجود نہیں ہیں اور عطایت کا ناسور لوگوں کی زندگیاں برباد کررہا ہے۔ یہ عطائی لوگ مریضوں کو سٹیرائڈز، درد آور ادویات اور غیر معیاری شربت پلا پلا کر لاعلاج بنا دیتے ہیں اور جب تک لوگ کسی مستند ڈاکٹر تک پہنچتے ہیں تو کسی موذی بیماری کا شکار ہو چکے ہوتے ہیں۔
اس وقت پاکستان میں بالغ افراد کی پچاس فیصد آبادی شوگر کے مرض کی شکار ہے جو علاج نہ ملنے کی وجہ سے دل اور گردوں کے عارضے میں مبتلا ہوکر موت کے منہ میں چلی جاتی ہے۔ میں نے جن دیہاتوں کو اپنے بچپن کے دور میں دیکھا ہے وہاں بڑے بڑے صحن، کشادہ گلیاں اور ان گلیوں کے اطراف پانی کی نکاسی کے لئے پختہ نالیاں موجود تھیں جن کا نکاس گاؤں کے چاروں اطراف میں موجود بڑے چھپڑوں میں ہوتاتھا۔ ان دیہاتوں کے اطراف میں گوبر کو تلف کرنے کے لئے مخصوص جگہیں بنی ہوئی تھیں جہاں خواتین گوبر کے آپلے بناتی تھیں جو ایندھن کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ان دیہاتوں کی آبادی میں بڑا اضافہ ہوگیا اور کھلے اور وسیع صحن اور ویہڑوں کی جگہ پختہ مکانوں نے لے لی اور کنالوں پر محیط صحن تین تین مرلے کے گھروں میں تقسیم ہوگئے۔ ان گھروں کی تعمیر کے لئے نہ کوئی ڈسپلن دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی حکومت کی طرف سے نظم وضبط ہی بنایا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے ایک دوسرے کے گھروں میں کھڑکیاں کھلنے سے اکثر دیہاتوں میں لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں۔ چونکہ دیہاتوں میں پنچایت سسٹم اور مشاورتی بیٹھکیں بھی ختم ہو چکی ہیں اس لئے جھگڑے سالہاسال چلتے رہتے ہیں۔
دیہاتوں کے گرد موجود چھپڑوں پر قبضہ گروپ قابض ہوگئے اور بارشوں کے پانی کے ذخیرہ کے لئے بنائے گئے چھپڑ عملاً ختم ہوگئے۔ یہ چھپڑ ایک عرصہ تک سیوریج کے پانی کو بھی برداشت کرتے رہے ہیں اور آج ان چھپڑوں کے ختم ہونے سے گلیوں میں جگہ جگہ جوہڑ بن چکے ہیں اور خاص طور پر بارش کے دنوں میں تو یہ دیہات آفت زدہ بن جاتے ہیں۔ دوسری طرف گھر گھر غرقیاں بننے کی وجہ سے زیر زمین پانی بھی آلودہ ہونے لگا ہے جس سے دیہاتی علاقوں میں جگر اور پیٹ کے مسائل میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔
اسی طرح سے دیہاتوں کو ملانے والی سڑکوں کا بھی کوئی پرسان حال نہیں ہے اور جہاں کہیں تو عوامی نمائندے متحرک ہیں اور عوام سے رابطہ رکھتے ہیں وہاں ترقیاتی کام ہو جاتے ہیں جبکہ جن علاقوں میں عوامی نمائندوں کی دلچسپی کم ہے وہاں رابطہ سڑکیں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ کئی علاقوں میں تو سڑکیں مکمل طور پر جوہڑ بن چکی ہیں۔ دیہاتوں کی زندگی کا بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ زرعی زمینیں تقسیم در تقسیم اس قدر کم ہو چکی ہیں کہ وہاں روزگار کمانے کے مواقع محدود ہوتے جارہے ہیں جس کی وجہ سے نوجوان دیہاتوں سے شہروں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
دیہی آبادی کی شہروں کو منتقلی کی وجہ سے پنجاب کے بڑے شہروں میں بھی بے ہنگم آبادیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جس سے دیہاتوں سمیت شہروں کے ڈھانچے بھی گھمبیر حالات سے دو چار ہیں۔ اگر ہم لاہور شہر کو ہی دیکھ لیں تو پچھلے پچیس تیس سالوں میں سینکڑوں موضعے اور دیہات بڑھتی ہوئی آبادیوں میں غرق ہو گئے ہیں اور تیزی سے بنتی ہوئی سوسائٹیوں نے ناصرف زرعی اور قابل کاشت رقبے کو نگل لیا ہے بلکہ زرعی زمینوں کے بعد بچنے والے دیہاتی ڈھانچے بھی شہری سہولیات کے بغیر مسائل سے دو چار ہیں۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے صوبےکے دیہاتوں کو بہتر بنانے کا جو بیڑا اٹھایا ہے وہ قابل تعریف ہے اور شاید غلام حیدر وائیں کے بعد یہ پہلی حکومت ہے جس نے دیہاتوں کی بہتری کے لئے کم سے کم سوچا تو ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اگر دیہاتوں میں تجاوزات ہٹانے کا ارادہ کر ہی لیا ہے تو پھر اس کے لئے ٹھوس حکمت عملی بنانا ہوگی کیونکہ پہلے ہی شہروں کے اندر شروع ہونے والا تجاوزات کا آپریشن نامکمل ہوکر تقریباً ختم ہی ہو چکا ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے شہروں میں تجاوزات کے نام پر کئے گئے آپریشن میں صرف سرکاری زمینوں کو ہی واگزار کروایا ہے یا پھر شہروں کی مین شاہراہوں پر سے ٹھیلوں کو ہٹایا ہے جبکہ شہری آبادیوں میں اب بھی تجاوزات کی بھرمار ہے اور شہری انتظامیہ سمیت پیرا فورس کے محکمے درخواستیں دینے کے باوجود ان تجاوزات کے خلاف کاروائی نہیں کرتے ہیں اور یہاں تک کہ ان محکموں کے عملہ کا رشوت وصول کرکے تجاوزات کی سرپرستی کرتے بھی دیکھا گیا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ شہروں کے اندر پورا ریاستی نظام موجود ہونے کے باوجود شہری آبادیوں سے تجاوزات کا خاتمہ نہیں ہوا ہے تو دیہاتوں میں قبضہ مافیا کو ختم کرنے کے آپریشن کے کامیاب ہونے کی امید کم ہی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سرکاری ہسپتالوں کے اندر پارکنگ مفت فراہم کرنے کا اعلان کر چکی ہیں لیکن اس دو ماہ گزرنے کے باوجود اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا ہے۔ اگر حکومت اپنی دسترس میں موجود پارکنگ مافیا کو لگام نہیں دے سکتی ہے تو دور دراز کے دیہاتوں میں جا کر میرٹ پر آپریشن اگر ہو جائے تو یہ بھی معجزہ ہی ہوگا۔

