Wednesday, 24 July 2024
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shaheen Kamal
  4. Smiling Depression (1)

Smiling Depression (1)

اسمائلنگ ڈپریشن (1)

قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ آخر تمہیں نوکری کی ضرورت کیا ہے؟ میں اچھا بھلا کماتا ہوں، آرام سے گھر بیٹھو اور جیسے گھر سنبھالتی ہو سنبھالو۔

یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ تو نہیں منظر! ماشاءاللہ شہزاد بڑا ہو گیا ہے۔ میٹرک میں ہے اور اس کی اپنی مشغولیت ہے۔ میرے پاس وافر وقت ہے اور میں گھر کو نوکری کے باوجود اسی طرح مینج کر لوں گی۔

سوچ لو نگار! مجھے گھر کی روٹین میں رتی بھر تبدیلی گوارا نہیں۔

آپ مجھ پر بھروسہ رکھیے، گھر کے معمولات میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔

میں نے خوشدلی سے ہنستے ہوئے وعدہ کیا۔ مجھے جلدی ہی بہترین اسکول میں نوکری مل گئی اور اتفاق سے اسکول تھا بھی صدر کے علاقے میں سو منظر مجھے اور شہزاد کو اسکول چھوڑتے ہوئے کینٹ نکل جاتے، واپسی پر البتہ مجھے ویگن لینی پڑتی۔ چند ہی دنوں میں اپنے چہرے کا سنولاتا رنگ دیکھ کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی، ہائے اس قدر کچا تھا میرا رنگ؟ پر اب میں بہت خوش تھی، بہت زیادہ خوش کہ میرا دیرینہ معلمی کا خواب پورا ہو رہا تھا۔ شہزاد اسکول کی وین سے گھر آتا تھا۔

میں نے بھی اپنے علاقے کے اسکول وین ڈرائیور سے بات کی اور یوں واپسی کا سفر قدرے آسان ہوا۔ اس سے انکار نہیں کہ گھر کے مروجہ نظام کو قائم رکھنے کے لیے میں نے دہری مشقت کی۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ منظر کو معمولی سی بھی تنقید کا موقع ملے سو اس شوق کے چلتے میں کڑی محنت کر رہی تھی۔ اسکول کی وجہ سے ماسی کے آنے کا وقت بھی بدلنا پڑا اور قیلولہ اس کے نظر ہوا۔ دراصل ہم تین بہنیں ہی تھیں۔ ابا جان نے کراچی کی پڑھی لکھی متوسط آبادی میں حق حلال کی کمائی سے ایک سو بیس گز کا گھر بنوایا تھا۔

چونے کی سفیدی سے لیپا پتا چمکتا گھر جس کے کالے لوہے کے گیٹ کے ایک پلر پر پھیلتی پھولتی چنبیلی کی بیل اور دوسرے پلر پر پتل کی چمکتی تختی جس پر آشیانہ کندہ تھا اور اس کے نیچے خوشخطی سے لکھا ابا جان کا نام "اکرام ابراھیمی" دمکتا تھا۔ بچپن ہی سے ہر اتوار کو اس پتل کی تختی کو لیموں کے چھلکے سے رگڑ رگڑ کر چمکانا میرا معمول تھا۔ ابا جان جب عیدین کی نمازوں کو اکیلے جائے نماز اٹھائے گھر سے نکلتے تھے تو میرا دل کٹ کٹ جاتا تھا۔

ذاتی طور پر ہم بہنوں کو بھائی کی کمی نے نہ کبھی رلایا، نہ ستایا اور نہ ہی ہمیں کبھی کسی کو منہ بولا بھائی بنانے کی ہڑک اٹھی، پر ابا جان کا بے بازو ہونا مجھے تڑپا دیتا تھا۔ ابا جان نے کبھی بھی بیٹے کی کمی کا اقرار نہیں کیا تھا پر کبھی کبھار ان کے بے ساختگی اور روانی میں ادا کیے گئے جملے بیٹے کے لیے ان کی شدید چاہت کو آشکار کر ہی دیا کرتے تھے۔ میرے شہزاد کی پیدائش پر ابا جان ہم سبھوں سے زیادہ خوش تھے اور مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ اپنی مختصر مدت حیات میں نانا اور نانی دونوں نے اپنے تین نواسے دیکھ لیے اور جی کو شاد کیا۔

ہم تینوں بہنیں شادی کے بعد بکھر گئیں تھیں۔ میں تو پاکستان میں ہی رہی پر منجھلی عرب کے ریگزاروں میں اور چھوٹی یورپ کے مرغزاروں میں سکونت پذیر تھی۔ اب جانے یہ اتفاق تھا یا ابا جان کی دعائے نیم شب مستجاب ہوئی تھی کہ ہم تینوں بہنیں ہی اولاد نرینہ سے فیض یاب ہوئیں۔ دونوں بہنوں کے گھر دو دو اور میرے گھر میرا اکلوتا بیٹا شہزاد۔ شہزاد کو ہم دونوں میاں بیوی نے بہت محبت اور توجہ سے پالا اور ہماری پوری کوشش تھی کہ اکلوتا پن اس کی تربیت میں حائل نہ ہو۔

شہزاد بچپن ہی سے غصے کا تیز اور ضدی گو، بڑے ہونے پر غیض میں کمی ضرور آئی پر مزاج میں گرمی بدستور تھی۔ شہزاد کم گو، پڑھاکو اور شاید اکلوتا ہونے کے سبب تنہائی پسند بھی۔ اسکول سے لےکر یونیورسٹی تک اس کے فقط تین ہی دوست رہے، حماد، ثقلین اور مرتضیٰ۔ ان تینوں دوستوں سے ہم لوگوں کے گھریلو مراسم بھی تھے۔ میٹرک تک تو شہزاد کی پڑھائی میں ہی دیکھتی تھی پر انٹر میں اسے کوچنگ سینٹر میں بھی داخلہ دلا دیا اور شہزاد نے پتہ مار کر پڑھائی کی اور امتیازی نمبروں سے انٹر میں کامیابی حاصل کی۔

منظر نے اس کی کامیابی کو اعلیٰ پیمانے پر منایا گو میں وہمی تو نہیں پر اکثر مجھے شہزاد کا اکلوتا پن وسوسے کا شکار کر دیتا تھا اور اسی لیے میں لو پروفائل ہی رہنے کو ترجیح دیتی ہوں۔ شہزاد کے لیے منظر کا خواب سی ایس ایس تھا جبکہ شہزاد پیدائشی انجینئر۔ انجینئرنگ یونیورسٹی میں اچھے نمبروں کی وجہ سے اسے ہر فیکلٹی میں داخلہ مل رہا تھا پر اس نے اپنے خوابوں کو مجسم کرنے کے لیے شعبہ میکینکل چنا۔ انٹر میں اسے لکھنے کا شوق ہو گیا تھا اور وہ کالج میں لٹریری سوسائٹی کا ممبر بھی رہا۔

یونیورسٹی میں اس میں ایک بہت ہی مثبت بدلاؤ آیا اور وہ اپنے چار کلاس فیلوز کے ساتھ ہر سنیچر کی شام گلشن کے پل کے نیچے بے گھر بچوں کو پڑھانے لگا تھا۔ حقیقتاً مجھے اس کے اس عمل سے خوشی تو تھی پر مجھےاس کی بڑھتی مصروفیات فکرمند بھی رکھنے لگی تھی۔ شہزاد اب رات گئے گھر آتا اور اکثر کمبائنڈ اسٹڈی کے سلسلے میں حماد کے گھر رک جاتا۔ انہیں دنوں نیا بزنس سیٹ کرنے کے چکر میں منظر گن چکر بنے ہوئے تھے۔ جانے انہیں نئے بزنس کی کیوں سوجھی کہ ہم تینوں تو ابھی بھی بہت خوش حال زندگی گزار رہے تھے۔

ہر چیز کی فراوانی تھی اور ہر آسائش میسر پر شاید پیسہ ہی وہ واحد چیز ہے جو زیادہ بھی ہو تو کم ہی لگتا ہے۔ ان دنوں شہر کے حالات بہت مخدوش ہیں اور منظر اپنے بزنس اور شہزاد اپنے فورتھ ائر کے پراجیکٹ میں سر تا پا غرق۔ میں رات گئے تک پورے گھر میں اکیلی بولائی بولائی پھرتی اور میاں اور بیٹے پرآیت الکرسی پڑھ پڑھ کر حصار کرتی رہتی۔ گھر پر منظر نے گارڈ بھی رکھ لیا ہے اور سیکورٹی کیمرہ بھی لگوا لیا پر سڑکیں تو اب بھی غیر محفوظ ہیں۔ ہونی کو بھلا کون ٹال سکا ہے کہ نصیب کے لکھے سے مفر نہیں۔

سنیچر کی رات تھی اور حسب معمول دونوں باپ بیٹا غیر حاضر۔ شہزاد پونے بارہ بجے گھر آیا اور ابھی ہم دونوں منظر کے لیے متفکر باتیں ہی کر رہے تھے کہ میری نظر سکیورٹی کیمرے پر پڑی اور میں پھٹی پھٹی آنکھوں سے کیمرے کو دیکھنے لگی جہاں منظر برے حالوں میں ٹیکسی سے اتر رہے تھے۔ شہزاد تیزی سے بیرونی گیٹ کی جانب دوڑا اور مضروب باپ کو سہارا دیتے ہوئے لاؤنج میں لا کر صوفے پر بٹھایا۔ منظر زخمی تو کم تھے مگر ان کی بےبسی اب شدید غصے میں ڈھل چکی تھی۔

وہی اس شہر نا پرساں کی ہر پل کی دہشت انگیز کہانی۔ بھری پری سڑک کی سرخ بتی پر منظر کو پستول دکھا کر گاڑی، فون اور بٹوا سب چھین لیا اور آس پاس کے راہگیروں نے لمحے کے وقفے میں ہوتی اس کاروائی کے دوران پستول کی خطرناکی سے گھبرا کر منہ موڑ لیا۔ منظر فیروزہ آباد تھانےمیں ایف آئی آر کٹواتے ہوئے آئے تھے اور یہ ایف آئی آر بھی منظر کے دو بڑے متعلقہ افسر دوستوں کی مداخلت کے بعد کٹی۔

عام آدمی کی سنوائی دھائی کا تو ذکر ہی کیا۔ ہفتے دس دن پابندی سے تھانہ یاترا بھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئی اور نہ ہی کوئی سراغ ہاتھ آیا اور یوں یہ کیس داخل دفتر ہوا۔ منظر اس تمام صورتحال سےبہت بد دل ہوئے اور مزاج میں درشتی در آئی۔ اس حادثے کے بعد منظر نے ریوالور کا لائسنس لیا اور اپنے ساتھ ریوالور رکھنے لگے۔ مجھے اس پستول سے بڑی وحشت ہوتی ہے اور عجیب عجیب وہم میرے دل کو گھیرے لیتے ہیں۔

آج ہم دونوں کی شادی کی پچیسویں سالگرہ ہے اور میں نے صبح ہی دونوں باپ بیٹا کو تاکید کر دی ہے کہ نو بجے سے قبل دونوں کو گھر پر ہونا ہے اور میرے لیے یہ خوش کن حیرت کہ شہزاد چھ بجے اور منظر پونے اٹھ بجے گھر میں تھے۔ آج بہت دنوں کے بعد شہزاد نے کچن میں سلیب پر بیٹھ کر مجھ سے گپ شپ کی، مجھے لطائف سنائے۔ عرصے بعد ہم تینوں نے ایک ساتھ رات کا کھانا پرانے معمول کے مطابق رات نو بجے بہت خوشگوار ماحول میں کھایا۔

کچن سمیٹتے ہوئے میں نے شہزاد سے پوچھا کہ تم ڈگری مکمل کرتے ہی ایم ایس کرو گے یا سال دو سال میدان عمل میں گزارو گے؟ جواب میں تاخیر پر میں نے شہزاد کو دیکھا، اس کے چہرے پر ایک تاریک سایہ تھا اور جب وہ بولا تو اس کی آواز بہت ٹوٹی ہوئی تھی۔

پتہ نہیں امی، ابھی میرے ذہن میں کوئی منصوبہ نہیں۔ کبھی کبھی سب کچھ بہت بے معنی لگتا ہے۔

میں جھاڑن سلیب پر رکھ پوری یکسوئی سے اس کی طرف متوجہ تھی۔

کیا مطلب میرے لعل! بے معنی کیوں؟

تم تو اتنی منظم اور مربوط زندگی گزار رہے ہو۔ اتنے پیارے بیٹے اور لائق شاگرد ہو اور سب سے بڑی بات نفیس انسان کہ درد دل رکھتے ہو۔ اس کم عمری میں بھلا کون ایسے جیتا ہے، اس عمر میں تو لڑکے بس موج مستی کرتے ہیں۔

جانے کیوں امی سب کچھ بڑا ادھورا ادھورا سا لگتا ہے۔ ٹکسال میں ڈھلے سکے کی طرح یکساں دن رات۔ کچھ بھی تو نیا نہیں، زندگی میں کوئی تھرل، کوئی چیلنج نہیں۔ میں تو اپنا فیوچر تک predict کر سکتا ہوں۔

ارے میرے شہزادے اس آسانی اور آسائش کو لاکھوں ترستے ہیں۔ یہ تو مقام شکر ہے میری جان۔

سو تو ہے امی پر میں اس خلا کا کیا کروں جو میرے دل میں ہے؟

شہزاد کے لہجے میں عجیب سی بےبسی تھی۔

میاں اس خلا کو تو نہایت آسانی سے پر کیا جاسکتا ہے۔ کہو تو کل ہی تمہاری چھوٹی خالہ سے سبیکہ کے لیے بات کر لوں یا اگر تمہاری نظروں میں کوئی ہے تو اس کا پتہ بتا دو؟ یہ خلا ولا تو چٹکی بجاتے پر ہو جائے گا۔ میں نے ہنستے ہوئے اس کی ناک دبائی۔

امی آپ بھی نا!

Check Also

Uske Haan Dair Hai Andher Nahi

By Zulfiqar Ahmed Cheema