Thursday, 07 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Saleem Zaman
  4. Google Maps Se Al Biruni Ke Qalay Tak

Google Maps Se Al Biruni Ke Qalay Tak

گوگل میپس سے البیرونی کے قلعے تک

آج جب آپ اپنے سمارٹ فون پر لوکیشن آن کرتے ہیں یا پائلٹ ہزاروں فٹ بلندی پر بادلوں کے درمیان اپنا راستہ تلاش کرتا ہے تو اس کے پیچھے ایک ایسی سائنس کام کر رہی ہوتی ہے جس کی بنیاد آج سے ایک ہزار سال پہلے کے مسلمانوں نے رکھی تھی۔ ہم میں سے اکثر لوگ اسے صرف جدید ٹیکنالوجی سمجھتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ علم مسجد کی محراب اور قبلہ کی تڑپ سے پیدا ہوا۔ اسے اسفیریکل ٹریگنومیٹری یا کروی مثلثیات کہا جاتا ہے جس کی بنیادوں میں مسلمانوں کی کعبہ سے عقیدت اور البیرونی جیسے جینیئس دماغوں کی محنت چھپی ہے۔

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ زمین کے گول ہونے کا تصور جدید سائنس کی دین ہے لیکن سچی بات یہ ہے کہ اگر مسلمان زمین کو گول نہ مانتے تو وہ اسفیریکل ٹریگنومیٹری ایجاد ہی کیوں کرتے؟ یہ علم بنا ہی اس لیے تھا کہ زمین کی سطح گول ہے اور اس گولائی پر مکہ کی سمت معلوم کرنے کے لیے عام اور سادہ ریاضی ناکافی تھی۔ اس لیے یہ کہنا بالکل درست ہے کہ چپٹی زمین کا تصور دراصل مغرب کی قدیم جہالت تھی جو بعد میں ہمارے کچھ طبقوں میں سرایت کر گئی ورنہ اسلام کے سنہرے دور کے محققین نہ صرف زمین کو گول مانتے تھے بلکہ اس کی حرکت پر بھی گہری علمی بحثیں کرتے تھے۔

امام ابن تیمیہ اور امام ابن حزم جیسے جید علمائے کرام نے صدیوں پہلے اپنی تحریروں میں واضح کر دیا تھا کہ تمام آسمانی اجسام اور زمین گول ہیں اور اس پر اہل علم کا اجماع ہے۔ اسی طرح ابوریحان البیرونی نے تو اس وقت یہ علمی بحث چھیڑی تھی کہ ریاضیاتی طور پر یہ بالکل ممکن ہے کہ زمین اپنے محور پر گھوم رہی ہو جسے ہم روٹیشن کہتے ہیں۔ ان مفکرین کے نزدیک زمین کا گول ہونا ایک ایسی حقیقت تھی جس پر ان کے تمام ریاضیاتی فارمولے قائم تھے۔

البیرونی کا وہ شاہکار تجربہ آج بھی سائنس کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ دسویں صدی عیسوی میں البیرونی نے موجودہ پاکستان کے علاقے قلعہ نندنہ میں کھڑے ہو کر زمین کا قطر ناپنے کا وہ طریقہ ایجاد کیا جو آج بھی دنیا کو حیران کر دیتا ہے۔ اس نے کسی جدید آلے کے بغیر محض ایک پہاڑ کی بلندی اور افق کے جھکاؤ کو اپنی ایجاد کردہ ٹریگنومیٹری کے فارمولے میں ڈالا۔ اس کا نکالا ہوا نتیجہ آج کی جدید ترین سیٹلائٹ پیمائش کے مقابلے میں ننانوے فیصد سے بھی زیادہ درست ثابت ہوا ہے جو زمین کے گول ہوئے بغیر کسی صورت ممکن نہ تھا۔

آج اس قدیم مسلم علم کا دائرہ مسجدوں سے نکل کر پوری کائنات میں پھیل چکا ہے۔ آپ کے فون کا جی پی ایس سسٹم زمین کے گرد گھومتے سیٹلائٹس سے آپ کی دوری اور لوکیشن کا حساب اسی کروی مثلث کے ذریعے طے کرتا ہے۔ اسی طرح بین الاقوامی پروازیں زمین کی گولائی کے حساب سے طویل ترین راستوں کو مختصر کرنے کے لیے اسی ریاضی کا سہارا لیتی ہیں۔ یہاں تک کہ مریخ اور چاند پر بھیجے جانے والے خلائی مشنز بھی اسی علم کی بنیاد پر اپنا راستہ بناتے ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ جس علم کو مسلمانوں نے اللہ کے گھر کی سمت پانے کے لیے ایجاد کیا اور البیرونی جیسے محققین نے جسے کمال تک پہنچایا آج وہی علم پوری دنیا کی ٹیکنالوجی کی ریڑھ کی ہڈی بن چکا ہے۔ یہ اس بات کی گواہی ہے کہ جب تحقیق کا رخ درست ہو تو وہ رہتی دنیا تک انسانیت کے کام آتی ہے۔

Check Also

Zara Nam Ho To

By Dr. Ijaz Ahmad