Thursday, 30 June 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Umm e Ali Muhammad/
  4. Nani Ka Ghar (1)

Nani Ka Ghar (1)

گھر کے مین دروازے کے ساتھ ماموں کے کمرے اور باورچی خانہ تھا اور یہ واحد کونہ تھا جو کہ آرام دہ تھا۔ ورنہ تو سارا گھر ہاتھ پاؤں کھول کر ایسے پھیلا ہوا تھا جیسے ہم بچپن میں ٹاٹ سکول پر بیٹھ کر سہیلی کی جگہ رکھنے کےلئے ٹانگیں دنوں اطراف میں کھول کر جگہ "مل" کر بیٹھتے تھے۔

ماموں کے کمرے سے نانی کے کمروں تک سیدھی دیوار کے دوسری طرف ملک ممتاز کا گھر تھا اور نانا ابو کے باہر چلے جانے کے بعد ہم اس دیوار کے ساتھ چارپائی لگا کر دیوار پر دونوں طرف ٹانگیں لٹکا کر بیٹھ جاتے۔

اور رات والے تربوز کے بیج نکال کر کھاتے ہوئے ساتھ والوں کی لڑکیوں سے حالات حاضرہ پر تبصرہ فرمایا کرتے تھے جن میں زیادہ تر گڈے اور گڑیا کی وجہ سے ہونے والے جھگڑے یا گلی میں بچوں کی لڑائی کی وجہ سے ان کی ماؤں کی لڑائیوں کے معاملات ہوتے تھے۔

پھر نانی کے کمروں سے باورچی خانے تک دیوار میں بغلی چھوٹا دروازہ تھا اور ساتھ ماسی وڈو کا گھر تھا، اب میں سوچتی ہوں کہ ماسی وڈو کا یہ نام کیوں تھا؟ شائد اپنے گھر میں وہ سب سے وڈی (بڑی) تھیں اس مناسبت سے ماسی وڈو تھیں۔

اس کے بعد باورچی خانے سے غسل خانے تک کی دیوار تھی وہ تو لگتا تھا کہ "نیل کے ساحل سے لےکر تا بہ خاک کاشغر" لمبی ہے۔ اس لمبی دیوار کے دوسری طرف ایک بڑا اور ایک چھوٹا گھر سمائے ہوئے تھے۔

بڑا گھر حاجی بلوچ کا تھا جن کی بیٹی شیماں میری سہیلی بھی تھی، ان کا برآمدہ ہماری دیوار کے ساتھ ملحقہ تھا۔

اسی برآمدے کے گول سوراخ سے ہم دونوں سہیلیاں باتیں بھی کرتے تھے اور ناراضگی کی صورت میں وہیں سے گڈے اور گڑیا کے کپڑے اور جہیز واپس بھی پھینکے جاتے تھے۔

اور دوسرا گھر رفیق نائی کا تھا وہاں بھی دیوار میں گول سوراخ تھا اور وہاں سے ان کی بیٹی کو ضرورت کے وقت کام کےلئے آواز لگائی جاتی تھی یا سودا وغیرہ منگوانے کے لئے پیسے پکڑائے جاتے تھے۔

اس کے ساتھ بغیر چھت والا غسل خانہ اور (نلکا) ہینڈ پمپ۔

مجھے آج تک یاد ہے کہ جب نلکا لگا تو بورنگ کے بعد نانا جی نے اس کے اندر مٹھی بھر کوئی سفید سفوف ڈالا تھا۔

جو کہ میرے خیال سے نمک تھا اور جب ابا ہمیں ملنے آئے تو میں نے رو، رو کر نانا جی کی شکایت لگائی کہ ان لوگوں نے نلکے میں میرے سامنے نمک ڈالا تھا اور اب نلکے سے جو پانی آ رہا ہے وہ نمکین ہو چکا ہے۔

حالانکہ ہمارے گاؤں کے کافی گھروں کا پانی نمکین تھا اور ماشکی چمڑے کی مشک میں دو وقت پانی پہنچایا کرتا تھا۔

کہنے کو تو نانا جی لمبر دار تھے مگر مجال ہے کہ گھر میں کبھی کوئی نوکرانی نظر آئی ہو یا کوئی نخرہ وغیرہ نظر آیا ہو۔ صبح ناشتے میں پراٹھے نہیں بنتے تھے بلکہ ناشتہ بنتا ہی نہیں تھا۔ فجر کی اذان کے تھوڑی دیر کے بعد دودھ کا بڑے والا گڑوا آ جاتا تھا۔

نانی "دودھ کاڑھنی، میں بھینس کے اپلے جلا کر سیٹ کر دیتی تھیں اور دھیمی دھیمی آنچ پر دودھ ظہر تک کڑھتا رہتا۔ اس کے بعد جب اس کا رنگ گولڈن ہو جاتا تو دہی وغیرہ بنانے کے لئے مٹی کی روغنی ہانڈی میں جاگ لگا کر رکھ دیتے۔

پینے میں اس دودھ کا ذائقہ ایسا ہوتا تھا کہ جنہوں نے کبھی کاڑھنی والا دودھ پیا ہو صرف وہی جان سکتے ہیں کہ وہ کیا چیز ہوتا تھا۔ ہمیں تو ساری زندگی ویسا دودھ پھر نہیں ملا۔

صبح سویرے، رات والی روٹی کے اوپر مکھن اور لسی کا گلاس یا تربوز، خربوزے یا گندلوں، لسوڑے، کریلے، مرچ، اور آم کے اچار کا ناشتہ ملتا تھا۔

دن کے دس بجے تندوری پر دیسی گھی والے پراٹھے اور ساتھ بینگن کا بھرتہ، اچار یا خربوزے کے ساتھ لنچ ملتا تھا۔ اور کبھی کبھار پیاز کو لےکر چارپائی کے پائے کے اوپر توڑ کر کڑوا پانی نکال دیتے اور جو ذائقہ ان چیزوں کا ہوتا آج تک یاد آتی ہیں۔

مغرب کی اذان سے کچھ دیر پہلے پھر سے تندوری جلا دی جاتی اور نانی وہاں کھڑی ہو کر روٹیاں بناتی جاتی اور گرم گرم روٹی کے ساتھ سالن بھی آ جاتا۔

رات کو بڑے سے صحن میں ننگی چارپائیوں پر کھیس اور سرہانے ڈال کر بستر تیار ہو جاتے۔

گھر کے مرد باہر بیٹھک پر سوتے تھے جسے ہم لوگ "دارا" کہتے تھے۔ دارے میں خواتین کا جانا بالکل بند ہوتا تھا۔ لیکن میں چھوٹی تھی تو کبھی کبھار وہاں بھی پہنچ جاتی تھی۔

دارے کے حالات گھر کی نسبت کافی بہتر تھے۔ یعنی لگتا تھا کہ کسی لمبر دار کا دارا ہے۔

تین کمروں، ایک بڑے سے برآمدے اور ایک غسل خانے پر مشتمل اس "دارے" میں دو عدد نوکروں، برآمدے میں ڈھیر ساری چارپائیوں اور نانا جی کے ساتھ پورے گاؤں کے بھانت بھانت کے لوگوں کی وجہ سے ہر وقت چہل پہل رہتی تھی۔

ایک نوکر کی ڈیوٹی سارا دن حقہ بکھانے (دہکانے) پر ہوتی تھی۔ گھر میں اکثر شوقیہ میں نانا جی کا حقہ تیار کر دیتی تھی۔ اسے تیار کرنے کے لئے سب سے پہلے اپلے جلا کر تیار کئے جاتے۔

اپلے تیار ہونے کی دیر میں، میں حقہ کا پانی نکال کر نیا پانی ڈال دیتی تھی اور ساری نڑیوں (نالیوں) کو دھو کر فریش کر دیتی۔

پھر ہویزہ (ہویجہ) میں سب سے نیچے ایک گول مٹول گڑ کی روڑی رکھتی اس کے اوپر موٹے تمباکو کی تہ، اس کے اوپر باریک تمباکو کی تہ اور پھر چمٹے سے تیار شدہ دہکے ہویے اپلے رکھ کر اوپر ڈھکن لگا کر بند کر کے اسے حقے کے اوپر سیٹ کر دیتی تھی۔ لیں جی حقہ تیار!

گرمیوں کی لمبی دوپہریں جو کہ دن کے 10 بجے ناشتہ + لنچ سے شروع ہوتیں تو عصر کی اذان (5 بجے) تک جاری رہتی تھیں۔ لڑکیاں خالہ کے پاس بیٹھ کر سلائی، کڑھائی، کروشیا کے ساتھ ساتھ ماہئے ٹپوں کے مقابلے اور کبھی ریڈیو پر فرمائشی پروگرام میں گانے سننے میں گزارتی تھیں۔

نانی کے کمرے کی دیواروں کے اندر والی طرف اینٹوں کی چنائی کچی اینٹ سے کی ہوئی تھی۔ اب اس کے بارے میں بھی صرف وہی اندازہ لگا سکتے ہیں جنہوں نے کبھی ایسے کمروں میں وقت گزارا ہو۔

Check Also

Stupid This Is Economy

By Asif Mehmood