Firqa Warana Mazhabiat Aur Mojooda Jang
فرقہ وارانہ مذہبیت اور موجودہ جنگ

دنیا کا ایک بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ معاشرہ، معیشت اور سیاسی طاقت کی تفہیم کے لیے ایسے علم کی ضرورت ہوتی ہے جو عقل اور معروض دونوں میں بنیادیں رکھتا ہو اور جو بالمعوم عقلی مباحث (discursive knowledge) کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ ایسے علم کے لیے لازم ہے کہ وہ دنیا اور اس کے بدلتے ہوئے حالات کے ہم قدم ہو کیونکہ اس کا موضوع ہست (is) ہے اور تاریخی ہست ہر لمحہ متغیر ہے۔ اسی باعث اس طرح کے سارے علوم تیزی سے مندرس ہو جاتے ہیں اور زندہ معاشروں میں ان کی مسلسل تشکیل نو جاری رہتی ہے۔
دوسری طرف، مذہب /ہدایت اصلاً اللہ تعالیٰ کا انسان سے خطاب ہے جو اس سے امتثال امر کا تقاضا کرتا ہے اور یہ مستقل باید (ought) کی حیثیت رکھتا ہے، غیرمتغیر ہے اور انسان کی انفرادی اور اجتماعی صیرورت (becoming)، جو بالترتیب تقویٰ اور عدل ہے، کا مدار ہے۔ مذہبی باید سے تشکیل پانے والی صیرورت تاریخ "میں" ہوتی ہے لیکن تاریخ سے مستقل تخالف اور تضاد رکھتی ہے۔ ہماری تہذیبی روایت میں تاریخ اور مطالعۂ تاریخ دنیا اور سیاسی طاقت کی تفہیم کا سب سے بڑا ذریعہ تھا اور یہ روایت مسلمانوں میں مطلقاً نسیاً منسیاً ہوگئی ہے۔
گزشتہ تین سو سال میں ہماری مذہبی روایت جس تشتت اور انتشار کا شکار ہوئی ہے اور اس سے جو مسالک اور فرقے پیدا ہوئے ہیں اور تکفیر کی جو گرم بازاری ہوئی ہے اس میں ہمارے دینی اور غیر دینی سب علوم بالکل فنا ہو گئے ہیں۔ اس وقت مسلم ذہن سے مراد فرقہ پرست، مسلک نواز، متعصب، طاقت پرست، دنیا اور تاریخ سے بے بہرہ ذہن ہے۔ علم و عمل میں جارحانہ مذہبیت اس ذہن کا سب سے بڑا اظہار ہے۔ اس وقت ایران جنگ پر ہونے والے تبصروں میں اغلباً یہی ذہن سامنے آ رہا ہے جو شیعہ سنی تفریق سے آگے خونچکاں تاریخ کو دیکھنے کے لیے تیار ہی نہیں ہے۔ فرقہ وارانہ تبصروں اور تجزیوں کا سیاسی اور عسکری صورت حال سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا غالب کی شاعری کا کوانٹم میکانکس سے ہے۔
یہ جنگ بنیادی طور پر تو اسرائیل کی سلامتی کے لیے شروع کی گئی تھی تاکہ بتدریج مشرق وسطیٰ میں ان مسلم ریاستوں کو بھی باقی نہ رہنے دیا جائے جنھیں استعمار نے خود اپنے لیے بنایا تھا۔ اب وہ اس سے ایک قدم آگے جانا چاہتا ہے اور مسلم معاشروں کے تار و پود ہی بکھیر دینا چاہتا ہے۔ اس کی جو مثالیں استعمار قائم کر چکا ہے وہ عراق، شام، لیبیا، یمن اور سوڈان ہیں۔ اس صورت حال میں ایران امریکہ اور قابض ریاست کے خلاف مزاحمت کا واحد مرکز ہے اور باقی ہر جگہ فرمانروا طبقے اور ان کے گماشتہ اہلِ علم استعمار کے سامنے مستقل سجدہ ریزی میں ہیں۔ اگر موجودہ جنگ پر شیعہ سنی مذہبی تناظر میں بات کی جائے تو سوائے نفرت کے کچھ سامنے نہیں آتا۔ کچھ احباب کا یہ دعویٰ ہے کہ جو لوگ ایران کی حمایت کرتے ہیں وہ تاریخ سے بےخبر ہیں۔ ہو سکتا ہے ایسا ہی ہو لیکن خود ان کے ہاں موجودہ تاریخ اور اس کی حرکیات کا جو علم سامنے آ رہا ہے وہ تو بالکل ردی ہے۔ انیسویں صدی کے آغاز سے سنی مسلمانوں میں مذہب سے جواز پانے والے جو سیاسی تصورات رائج چلے آتے ہیں، ان سے پہلے کبھی ان کا بھلا ہوا ہے اور نہ اب ہوگا۔
برصغیر میں مسلم طاقت کا زوال شیعہ سنی مناقشے سے شروع ہوا تھا۔ جنوب کی شیعہ ریاستوں کے خلاف اورنگ زیب عالمگیر کی فوج کشی اور نصیر الدین ہمایوں کے عہد سے مغل دربار کے اندر قائم شیعہ سنی جدلیات آخرکار مغلیہ سلطنت کی تباہی کا سبب بنی جب بہادر شاہ اول تخت نشین ہوا اور سنی معاشرے میں شیعت کو ریاستی پالیسی کے طور پر نافذ کیا۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی مغلیہ سلطنت میں مسلم معاشرہ "سماجی" خانہ جنگی کا شکار ہوگیا۔
سنہ 1712ء میں بہادر شاہ اول کے انتقال کے بعد سنہ 1739ء میں ایرانی بادشاہ نادر شاہ افشار کے ہندوستان پر حملے سے شیعہ سنی مسئلہ مزید پیچیدگی اختیار کر گیا اور طاقت کے مراکز سے سنیوں کا اقتدار تقریباً بالکل ختم ہو کر رہ گیا۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی زندگی کا ایک اہم مشن شیعہ سنی اختلافات کو پاٹنے کا تھا اور انھوں نے دونوں فرقوں کے درمیان مفاہمت کی مخلصانہ کوششیں کیں، اگرچہ انھیں اس میں زیادہ کامیابی نہیں ہوئی۔
میری رائے میں شیعہ سنی مسئلے کا کوئی مذہبی حل ممکن نہیں ہے، بہتر اور مفید راستہ یہ ہے کہ شیعہ سنی مسئلے کا سیاسی حل تلاش کیا جائے اور شریعت کی متفقات کو بنیاد بنا کر ایک پائیدار حل کی طرف سیاسی پیشرفت کی جائے۔ شیعہ سنی عقائد میں بنیادی نوعیت کے اختلافات کا انکار محض حماقت ہے، لیکن اب تو ایسے ہی اختلافات سنی مسالک کے اپنے اندر بھی پیدا ہو گئے ہیں اور جس کی سنگینی کا اندازہ ایک کذاب کے ظہور سے بخوبی ہو جاتا ہے۔ اٹھارھویں صدی سے مسلم معاشرے میں سیاست شرعیہ کے خاتمے اور سیاستِ عقیدہ کے عروج اور غلبے کی وجہ سے شیعہ سنی عقائد میں اختلافات بہت زیادہ نمایاں ہو گئے اور سیاسی حل کی میکانزم کمزور پڑ گئی۔
استعماری جدیدیت کی آمد کے بعد، عقائد کو politicize کرنے سے معاشرتی ہم آہنگی اور سیاسی استحکام دونوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ سنہ 1555ء سے سنہ 1707ء تک مغل دربار میں شیعہ سنی سیاسی جدلیات بغیر کسی بڑے بحران کے جاری رہی اور کاروبارِ سلطنت میں استحکام باقی رہا۔ شیعہ سنی تنافر کا حل سیاست شرعیہ کے طرف واپسی اور سیاسی ذرائع سے ممکن ہو سکتا ہے۔ موجودہ صورت حال میں ظالموں کے خلاف پوزیشن لینے اور ان کے خلاف مزاحم قوت کا ساتھ دینے سے سنی عقیدے کو کوئی خطرہ لاحق ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ استعماری گماشتہ گیر اہل قلم کی روزی روٹی پر البتہ فرق پڑنے کا امکان ضرور ہے۔

