Thursday, 08 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Rizwan Akram
  4. Zahra

Zahra

زہرا

ناول ولی اللہ کی قسط دوم، عرفان کی محفل کے بعد ضرغام کے اندر ایک نئی بیداری سی پیدا ہوگئی تھی۔ وہ اب ہر نماز کے بعد قرآن کھولتا، ترجمہ پڑھتا اور سمجھنے کی کوشش کرتا۔ اس نے اپنی الجھنوں کو حل کرنے کا ایک ذریعہ پا لیا تھا: "فاسالوا اهل الذكر ان كنتم لا تعلمون" (النحل: 43)۔ اگر تم نہیں جانتے تو اہل ذکر سے پوچھ لو اور اب اس کے نزدیک "اہل ذکر" وہ تھے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی بنیاد پر جواب دیتے تھے، نہ کہ محض خاندانی روایات کے ترجمان۔

ایک دن اس نے سورہ یوسف پڑھی اور اس میں یوسفؑ کی آزمائشوں پر غور کیا۔ اسے لگا کہ ہر نبی کا راستہ بھی تو تنہا ہی تھا، خاندان اور قوم سے الگ۔ مگر وہ صبر کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ نے انہیں کامیابی اور عزت سے نوازا۔ اس نے اس آیت پر خاص طور سے توقف کیا: "انه من يتق ويصبر فان الله لا يضيع اجر المحسنين" (یوسف: 90)۔ بیشک جو شخص تقویٰ اختیار کرے اور صبر کرے تو یقیناً اللہ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ کیا یہ آیت اس کے لیے بھی کوئی پیغام تھی؟

مگر اس کے اپنے حالات کچھ اور تھے۔ اس کی شادی کی تیاریاں زوروں پر تھیں۔ ملکہ خالہ نے لڑکی دیکھ لی تھی، زہرا، ایک معزز گھرانے کی لڑکی جس کے والد کا تعلق بھی اسی شہر کے ایک بڑے کاروباری اور مذہبی گھرانے سے تھا۔ رشتہ طے ہوگیا۔ تاریخ مقرر ہوگئی۔ ضرغام کے دل میں ایک عجیب کشمکش تھی۔ کیا وہ ایک ایسی زندگی میں قدم رکھ رہا ہے جس کی بنیاد ہی وہ عقیدہ ہے جس پر اب اسے شک ہونے لگا تھا؟

شادی سے پہلے ایک دن ضرغام کے والد نے اسے اپنے پاس بٹھا کر کہا، "بیٹا، اب تم بھی ذمہ دار ہو جاؤ گے۔ ہمارے خاندان میں دو چیزیں مقدس ہیں: ایک ہمارا دین، دوسرا ہمارا وقار۔ زہرا کا خاندان بھی ہمارے ہی عقیدے کا ہے۔ تمہیں یاد رکھنا ہے کہ ہم نے جو راستہ چنا ہے، وہ ہمارے بزرگوں کا راستہ ہے۔ اس پر چلنا ہمارا فرض ہے۔ ہمارے اباواجداد نے اسی راستے پر چل کر برکتیں سمیٹی ہیں"۔

ضرغام نے سر جھکا لیا۔ اس کے منہ سے کوئی جواب نہیں نکلا۔ اس کے ذہن میں رسول اللہ کا وہ فرمان گونجا جو عرفان نے اسے بتایا تھا: "لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق" (مسند احمد، صحیح)۔ کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں اگر وہ خالق کی نافرمانی پر مبنی ہو۔ مگر ابھی اس کے پاس اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ والد کے سامنے اس دلیل کو رکھ سکے۔ وہ جانتا تھا کہ اب کوئی بحث بے سود ہے۔

شادی ہوگئی۔ رنگین تقریب، بڑے بڑے شیخوں کی دعائیں، قوالی، نعت خوانی۔ ضرغام نے دیکھا کہ نعت خوانی کے دوران کئی لوگ وجد میں آ گئے، جھومنے لگے، چیخنے لگے۔ اس کے دل نے اسے ملامت کی۔ کیا یہی وہ خشوع و خضوع ہے جس کا قرآن میں ذکر ہے؟"قد افلح المؤمنون * الذين هم في صلاتهم خاشعون" (المؤمنون: 1-2)۔ وہ مؤمن فلاح پا گئے جو اپنی نماز میں خشوع اختیار کرنے والے ہیں۔ یہاں تو ایک دوسری ہی کیفیت تھی۔

زہرا دلہن بن کر آئی۔ اس کا چہرہ نقاب سے ڈھکا ہوا تھا۔ ضرغام نے پہلی بار رسمی طور پر اسے دیکھا تو اس کے دل میں ایک عجیب سی گھبراہٹ پیدا ہوئی۔ یہ لڑکی، جو اب اس کی زندگی کا حصہ بننے والی تھی، کیا یہ بھی اسی عقیدے کی پابند ہوگی جس سے وہ دور ہٹنا چاہ رہا تھا؟ کیا وہ بھی درگاہوں پر چادر چڑھانے، مردوں سے مدد مانگنے کو عین ایمان سمجھے گی؟

رات کو جب وہ دونوں اکیلے ہوئے تو ضرغام نے ہلکے سے پوچھا، "زہرا، تم قرآن پڑھتی ہو؟" زہرا نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔ "جی، پڑھتی ہوں۔ بچپن میں قاری صاحب سے ختم کیا تھا۔ حفظ نہیں، صرف تجوید کے ساتھ پڑھنا سیکھا"۔ "مطلب سمجھ کر؟"

زہرا نے مسکرا کر جواب دیا، "ارے نہیں، عربی تو ہمیں نہیں آتی۔ ہم نے تو صرف تلاوت سیکھی تھی۔ بڑوں کا کہنا ہے کہ ہر حرف پر دس نیکیاں ملتی ہیں۔ بس ثواب کے لیے پڑھ لیتی ہوں"۔ ضرغام نے ایک گہرا سانس لیا۔ "کبھی ترجمہ پڑھنے کا دل نہیں کیا؟ اللہ ہم سے کیا کہہ رہا ہے، جاننا نہیں چاہتیں؟"

"کیوں؟ ہمارے گھر میں تو بزرگوں نے کہا ہے کہ قرآن پڑھنے سے ہی ثواب ملتا ہے، سمجھنے کی ضرورت نہیں۔ یہ علماء کا کام ہے۔ ہم عام لوگ تو بس پڑھ لیا کریں"۔

یہ جواب سن کر ضرغام کے دل میں ایک کسک سی اٹھی۔ اس نے سوچا، کیا یہی وجہ ہے کہ ہم غلط راستوں پر چل پڑے ہیں؟ کیونکہ ہم نے کلام پاک کو سمجھنے کی زحمت ہی نہیں کی۔ رسول اللہ تو امت کے لیے علم کو میراث چھوڑ گئے تھے۔ آپ نے فرمایا: "ان العلماء ورثة الانبياء، ان الانبياء لم يورثوا دينارا ولا درهما، ورثوا العلم، فمن اخذه اخذ بحظ وافر" (سنن ابو داؤد، ترمذی، صحیح)۔ بیشک علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ انبیاء نے دراہم و دینار کی وراثت نہیں چھوڑی بلکہ علم چھوڑا، تو جس نے اسے حاصل کیا اس نے بہت بڑا حصہ حاصل کر لیا۔ مگر ہم نے علم کو صرف ایک طبقے تک محدود کر دیا اور خود بے خبر رہنے کو عین تقویٰ سمجھ لیا۔

ضرغام کو سوچوں میں گم دیکھ کر زہرا نے محسوس کیا کہ شاید اس نے کوئی غلط بات کہہ دی ہے۔ "کیا بات ہے؟ میں نے کچھ غلط کہا؟ تمہیں برا لگا؟"

"نہیں، کچھ نہیں۔ بس، سوچ رہا تھا کہ کتنا اچھا ہو اگر ہم اپنے رب کا کلام سمجھ کر پڑھیں"۔

آنے والے دنوں میں ضرغام نے دیکھا کہ زہرا اس کے خاندان کی روایات کی پابند تھی۔ وہ ہر جمعرات کو درگاہ پر چادر چڑھانے جاتی، ہر بزرگ کی برسی پر فاتحہ پڑھتی اور ہر مشکل میں کسی پیر کی طرف رجوع کرتی۔ ایک دن جب ضرغام کی چھوٹی بہن بیمار پڑی تو زہرا نے فوراً کہا، "چلو، فلاں درگاہ پر چلتی ہیں، وہاں منتیں مانگنے سے جلد شفا مل جاتی ہے۔ بہت لوگوں کا تجربہ ہے"۔

ضرغام نے ٹوکا، "پہلے ڈاکٹر کے پاس لے چلتے ہیں۔ یہ بھی تو اللہ کا دیا ہوا ذریعہ علاج ہے"۔

"ڈاکٹر تو سب کو دکھاتے ہیں، مگر بزرگوں کی دعا ہو تو بات ہی کچھ اور ہے۔ ان کا اللہ کے ہاں بڑا درجہ ہے"۔

ضرغام نے خاموشی اختیار کر لی۔ اس کے ذہن میں وہ حدیث آئی جہاں ایک صحابی نے اپنی اونٹنی کو درخت سے باندھ کر کہا: "اللہ پر بھروسہ کروں یا اونٹنی کو باندھوں؟" رسول اللہ نے فرمایا: "اعقلها وتوكل" (سنن ترمذی، صحیح)۔ اسے باندھو اور اللہ پر توکل کرو۔ یعنی اسباب اختیار کرو، پھر اللہ پر بھروسہ کرو۔ علاج کا اسباب ڈاکٹر ہے، دعا بھی براہ راست اللہ سے مانگو۔ مگر وہ جانتا تھا کہ ابھی زہرا کے سامنے یہ دلیل پیش کرنے کا وقت نہیں۔ مگر اس کے دل میں ایک عہد پکا ہو رہا تھا کہ وہ زہرا کو بھی سچائی سے روشناس کرائے گا، آہستہ آہستہ، نرمی سے، جیسے قرآن نے حکم دیا: "ادع الى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة" (النحل: 125)۔ اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ۔

اسی دوران عرفان سے اس کی ملاقات ہوتی رہی۔ وہ ہفتے میں ایک بار ضرور عرفان کے پاس جا پہنچتا۔ وہاں بیٹھ کر قرآن کی تفسیر سنتا، احادیث پر بات کرتا۔ ایک دن عرفان نے کہا، "ضرغام، تمہیں پتہ ہے، ہماری سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ ہم دین کو سمجھنے کی بجائے صرف رسمیں نبھاتے ہیں۔ نماز ہو یا روزہ، حج ہو یا زکوٰۃ، ہر چیز میں ہم نے اپنی مرضی کی شرائط لگا رکھی ہیں۔ ہم نماز پڑھتے ہیں مگر دل بازار میں ہوتا ہے۔ ہم روزہ رکھتے ہیں مگر غیبت سے نہیں رکتے۔ ہم حج کرتے ہیں مگر لوٹ کر وہیں کے وہیں ہوتے ہیں"۔

"مگر لوگ کہتے ہیں کہ نیت اہم ہے۔ نیت صحیح ہو تو سب درست ہے"۔

"نیت اہم ہے، مگر نیت کے ساتھ عمل بھی تو درست ہو۔ نیت نیک ہو مگر عمل کتاب و سنت کے خلاف ہو تو وہ قبول نہیں۔ رسول اللہ نے فرمایا: "من احدث في امرنا هذا ما ليس منه فهو رد" (صحیح بخاری و مسلم)۔ جس نے ہمارے اس دین میں کوئی نئی بات ایجاد کی جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ مردود ہے۔ اگر ہم نماز پڑھتے ہیں تو سمجھ کر پڑھیں کہ کیا کہہ رہے ہیں۔ اگر ہم دعا مانگتے ہیں تو صرف اسی سے مانگیں جو سنتا ہے، جو زندہ ہے، جو قائم ہے۔ "والذين يدعون من دون الله لا يخلقون شيئا وهم يخلقون اموات غير احياء وما يشعرون ايان يبعثون"۔

اور وہ دوسری ہستیاں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں، وہ کسی چیز کی بھی خالق نہیں ہیں بلکہ خود مخلوق ہیں۔ مردہ ہیں نہ کہ زندہ اور ان کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ انہیں کب (دوبارہ زندہ کرکے) اُٹھایا جائے گا۔ (النحل 19-20)

ضرغام نے اس روز گھر واپس آ کر اپنی نماز میں پہلی بار گہرا خشوع محسوس کیا۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے۔ جب اس نے "اياك نعبد واياك نستعين" پڑھا تو اسے احساس ہوا کہ یہ عہد ہے صرف ایک اللہ کی عبادت اور اسی سے مدد مانگنے کا۔ وہ سجدے میں لمبا عرصہ رہا، آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ اللہ سے معافی مانگ رہا تھا اپنی گذشتہ غلطیوں پر اور رہنمائی کی التجائیں کر رہا تھا۔

زہرا نے دیکھا تو حیران رہ گئی۔ "کیا ہوا؟ تم ٹھیک ہو؟ کہیں تکلیف تو نہیں؟"

"نہیں، بس، اپنے رب سے دعا کر رہا تھا۔ سجدہ بہت اچھی جگہ ہے دعا کے لیے"۔

زہرا نے کچھ نہیں کہا، مگر اس کے دل میں ایک سوال پیدا ہوا۔ یہ ضرغام آخر کون سا راستہ اختیار کر رہا ہے؟ کیا یہ وہی راستہ نہیں جس سے اس کے والد نے اسے ڈرایا تھا، جسے وہ "وہابی" یا "منکرین" کہتے تھے؟ اس کا دل ایک عجیب خوف سے بھر گیا۔

ایک مہینے بعد عرفان کا ایکسیڈنٹ ہوا۔ وہ موٹر سائیکل پر جا رہا تھا کہ ایک تیز رفتار گاڑی سے ٹکرا گیا۔ خبر ملی تو ضرغام ہسپتال پہنچا۔ عرفان کی حالت نازک تھی۔ اس نے ضرغام کو دیکھتے ہی ہلکی سی مسکراہٹ بکھیری۔ "ضرغام، تم آ گئے۔ تمہارا چہرہ دیکھ کر خوشی ہوئی"۔

"عرفان، تم ٹھیک ہو جاؤ گے۔ اللہ سے دعا ہے"۔ ضرغام کی آواز بھرائی ہوئی تھی۔ عرفان نے ہلکے سے سر ہلایا۔ "اللہ کی مرضی۔ میں نے اپنی زندگی میں وہ کیا جو میں چاہتا تھا۔ میں نے حق کو پہچان لیا، اس پر چلنے کی کوشش کی۔ تم بھی، مت رکنا۔ یاد رکھنا، یہ راستہ تنہائی کا راستہ ہے، مگر اس کا انجام جنت ہے۔ "والعاقبة للمتقين" (الاعراف: 128) اور انجام تقویٰ والوں کے لیے ہے"۔

یہ اس کی آخری بات تھی۔ اگلے ہی لمحے اس کی روح پرواز کر گئی۔ ضرغام نے اس کا چہرہ دیکھا، جو مرنے کے بعد بھی مطمئن اور پر سکون لگ رہا تھا۔ اس نے سوچا، "کیا میں بھی ایسی موت مر سکوں گا؟ ایک ایسی موت جس کے بعد میرا چہرہ مسکرا رہا ہو، کیونکہ میں نے حق کو تھامے رکھا؟" عرفان کی موت ایک صدمہ تھی، مگر ساتھ ہی یہ ایک زندہ سبق تھی۔

عرفان کی موت نے ضرغام کو ہلا کر رکھ دیا۔ وہ گھر واپس آیا تو زہرا نے دیکھا کہ وہ بہت اداس اور خاموش ہے۔ "کیا ہوا؟ کہیں باہر کوئی مسئلہ تو نہیں ہوا؟"

"میرا دوست مر گیا۔ وہی جس سے میں ملتا تھا، قرآن سیکھتا تھا"۔

"اچھا، افسوس ہے۔ اللہ مغفرت کرے، جنت الفردوس میں جگہ دے۔ فاتحہ پڑھی ہے تم نے؟ میں بھی پڑھ لوں گی"۔

ضرغام نے سر ہلایا۔ مگر اس کے دل میں ایک آواز گونج رہی تھی، "فاتحہ پڑھنے سے کیا ہوگا؟ اگر ہم نے اس کی بات، اس کی دعوت کو نہ سمجھا، نہ اپنایا تو محض چند الفاظ پڑھ لینے سے کیا فائدہ؟ کیا ہم مردوں کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں؟ قرآن تو کہتا ہے: "وان ليس للانسان الا ما سعى" (النجم: 39) اور یہ کہ انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے کوشش کی"۔

اس رات ضرغام نے فیصلہ کیا۔ وہ اب خاموش نہیں رہے گا۔ خاموش رہنا عرفان کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ وہ اپنے گھر میں بھی حق بات کہے گا، چاہے اس کی کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔ اسے رسول اللہ کا وہ واقعہ یاد آیا جب آپ نے اپنے چچا حضرت ابوطالب کے سامنے کلمہ حق پیش کیا، باوجود اس کے کہ وہ آپ کے تحفظ کے خواہش مند تھے۔

اگلے دن اس نے نرمی سے زہرا سے کہا، "زہرا، تمہارے ساتھ کچھ بات کرنی ہے"۔

زہرا نے حیران ہو کر دیکھا۔ "جی؟ بولئے"۔

"تمہیں پتہ ہے، عرفان اس دنیا سے چلا گیا۔ مگر اس نے مجھے، ہم سب کو ایک راستہ دکھایا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ تم بھی اس راستے کو سمجھو، اس پر چلو۔ یہ ہماری دونوں کی آخرت کی کامیابی کا معاملہ ہے"۔

زہرا کی آنکھوں میں خوف اور الجھن تھی۔ "کیا راستہ؟ وہ کون سا راستہ ہے جو ہم نہیں جانتے؟ ہم تو مسلمان ہیں"۔

"وہ راستہ جو صرف قرآن اور سنت پر چلے۔ جس میں کسی کی عبادت نہ کی جائے سوائے اللہ کے، جس میں دعا، فریاد، استغاثہ صرف اسی سے ہو۔ جس میں کوئی شرک نہ ہو، کوئی بدعت نہ ہو۔ جیسا کہ ہمارے نبی اور ان کے صحابہ کا طریقہ تھا"۔

زہرا نے اپنا منہ بند کر لیا، رنگ پیلا پڑ گیا۔ وہ سمجھ گئی۔ یہ وہی بات تھی جس کے بارے میں اس کے والد نے شادی سے پہلے ہی اسے خبردار کیا تھا کہ "ضرغام کے دوست کچھ عجیب سوچ رکھتے ہیں، ہوشیار رہنا"۔ وہ بولی، "ضرغام، یہ سب کیا باتیں ہیں؟ ہمارے بزرگوں کا راستہ، ہمارے مشائخ کا طریقہ، وہ غلط تھا؟ ہماری نسلیں گمراہ تھیں؟"

"میں کسی کو گمراہ نہیں کہہ رہا۔ جو لوگ اس دنیا سے چلے گئے اب انکا معاملہ اللہ کے سپرد ہے میں یہ کہہ رہا ہوں کہ ہمیں خود سوچنا ہوگا۔ خود دیکھنا ہوگا کہ کیا صحیح ہے۔ ہر بات کو قرآن و سنت کی کسوٹی پر پرکھنا ہوگا۔ اللہ کے رسول نے فرمایا: "تركت فيكم امرين لن تضلوا ما تمسكتم بهما: كتاب الله وسنة نبيه" (موطا امام مالک، صحیح)۔ میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، اگر تم نے انہیں تھامے رکھا تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے: اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت"۔

"میں نہیں سمجھتی۔ میں نہیں جانتی تمہاری یہ تفسیریں۔ میں تو وہی کروں گی جو میرے والدین، میرے گھر والوں نے سکھایا ہے۔ وہ مجھے کبھی غلط راستہ نہیں دکھائیں گے"۔

یہ پہلی بار تھا کہ ضرغام اور زہرا کے درمیان ایک خاموش، گہری اور دردناک جنگ شروع ہوگئی۔ ایک جنگ عقیدے کی، راستے کی اور وفا کی۔ ضرغام کی آنکھوں میں روشنی تھی جو اس نے حقیقت سے پائی تھی اور زہرا کی آنکھوں میں وہ خوف تھا جو تبدیلی اور انحراف سے پیدا ہوتا ہے۔ ضرغام جانتا تھا کہ یہ جنگ ابھی بہت لمبی ہونے والی ہے۔ یہ صرف ایک بات چیت نہیں، بلکہ ایک صبر آزما جدوجہد کا آغاز تھا، جس میں اسے نہ صرف اپنی بیوی، بلکہ پورے خاندان اور سماج کے تعصبات کا مقابلہ کرنا تھا اور وہ اب تنہا تھا، اس کا راہنما عرفان اس دنیا میں نہ رہا تھا۔ اب اس کا سہارا صرف اللہ کی ذات، اس کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت تھی۔

Check Also

Sir Major James Abbott: Aik Muntazim, Aik Insan

By Asif Masood