Saturday, 31 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Rizwan Akram
  4. Wali Ullah (9)

Wali Ullah (9)

ولی اللہ (9)

لیکن اگر خدا کو مانے بغیر دنیا ترقی کرسکتی ہے ایک بہترین معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے اور یورپ کی مثال ہمارے سامنے ہے تو پھر خدا کا جھنجٹ کیوں پالا جائے، شرجیل بولا۔ میں نے کہا یہ بات درست ہے کہ انسان خدا کو مانے بغیر بھی ریاست قائم کر سکتا ہے، قانون لکھ سکتا ہے اور معاشی خوشحالی حاصل کر سکتا ہے۔ قرآن اس حقیقت کا انکار نہیں کرتا دنیا کی کامیابی بعض اوقات ان لوگوں کو بھی مل جاتی ہے جو خدا کو نہیں مانتے جیسے سورہ ہود کی آیت 15 یعنی جو صرف دنیا چاہتے ہیں، انہیں دنیا مل جاتی ہے۔ مگر یہاں اصل سوال ترقی کا نہیں، مقصد کا ہے۔ مولانا مودودیؒ کے مطابق دہریت انسان کو یہ تو بتا دیتی ہے کہ کیسے جینا ہے، مگر یہ نہیں بتا سکتی کہ کیوں جینا ہے۔ قرآن اسی "کیوں " کا جواب دیتا ہے: ﴿أَفَحَسِبُتُمُ أَنَّمَا خَلَقُنَاكُمُ عَبَثًا﴾ (المؤمنون: 115)کیا تم نے یہ سمجھ لیا تھا کہ ہم نے تمہیں بے مقصد پیدا کیا ہے؟

قرآن کے نزدیک دنیا کی ترقی خود مقصد نہیں بلکہ امتحان کا حصہ ہے: ﴿الَّذِي خَلَقَ الُمَوُتَ وَالُحَيَاةَ لِيَبُلُوَكُمُ أَيُّكُمُ أَحُسَنُ عَمَلًا﴾(الملک: 2) اگر ترقی ہی حق و باطل کا معیار ہوتی تو فرعون، نمرود اور قارون سب سے زیادہ حق پر ہوتے، کیونکہ ان کے پاس طاقت، نظم اور دولت تھی۔ تو اصل سوال یہ نہیں کہ کس کے پاس کتنی سہولت ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی طاقت کو کس کے سامنے جواب دہ سمجھتا ہے۔ بغیر خدا کے نظام میں قانون طاقتور بناتا ہے اور طاقتور جب چاہے قانون بدل دیتا ہے۔ قرآن اسی حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے: ﴿أَرَأَيُتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ﴾۔ (الجاثیہ: 23) جس نے اپنی خواہش کو خدا بنا لیا۔ یہی وجہ ہے کہ جدید دنیا میں ترقی کے باوجود جنگیں، استحصال اور عالمی ناانصافی ختم نہیں ہو سکیں۔

یورپ کی مثال دی جاتی ہے کہ وہاں خدا کے بغیر جنت بن گئی۔ لیکن قرآن کے زاویے سے دیکھا جائے تو یورپ نے خدا کو نہیں بلکہ کلیسا کی آمریت کو رد کیا تھا۔ انہوں نے عدل، مشاورت، تحقیق اور انسانی وقار کو اپنایا اور یہ سب اصول قرآن پہلے ہی بیان کر چکا تھا: ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأُمُرُ بِالُعَدُلِ وَالُإِحُسَانِ﴾ (النحل: 90) ﴿وَأَمُرُهُمُ شُورَىٰ بَيُنَهُمُ﴾ (الشوریٰ: 38) یورپ آج بھی اسی اخلاقی سرمائے پر ترقی کر رہا ہے، اگرچہ وہ اس کی نسبت خدا کی طرف نہیں کرتا۔ یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے کوئی شخص وراثت سے حاصل دولت پر فخر کرے مگر وراثت کے منبع کو غیر ضروری قرار دے۔ پھر یہ بھی سوال ہے کہ اگر خدا غیر ضروری ہے تو اخلاق کہاں سے آیا؟

دہریہ کہتا ہے انسان خود اخلاق بنا لیتا ہے، مگر تاریخ بتاتی ہے کہ انسان کے بنائے ہوئے اخلاق ہمیشہ طاقت کے ساتھ بدلتے رہے ہیں۔ قرآن کہتا ہے: ﴿وَلَوِ اتَّبَعَ الُحَقُّ أَهُوَاءَهُمُ لَفَسَدَتِ السَّمَاوَاتُ وَالُأَرُضُ﴾(المؤمنون: 71) جب حق خواہش کے تابع ہو جائے تو فساد لازمی ہو جاتا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "تم سے پہلے لوگ اسی لیے ہلاک ہوئے کہ وہ اپنی خواہشات کے پیچھے چل پڑے" (صحیح مسلم) سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ خدا کو ماننا کسی دنیاوی فائدے کا سودا نہیں بلکہ حقیقت کو ماننے کا سوال ہے۔ قرآن کہتا ہے: ﴿ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الُحَقُّ﴾ (الحج: 6)۔

مولانا مودودیؒ کے مفہوم کے مطابق، یہ کہنا کہ "دنیا خدا کے بغیر چل سکتی ہے، اس لیے خدا غیر ضروری ہے" ویسا ہی مغالطہ ہے جیسے کوئی کہے کہ "چونکہ میں عدالت کے بغیر بھی کچھ عرصہ گزار سکتا ہوں، اس لیے عدالت کا وجود غیر ضروری ہے"۔ قرآن اسی سوچ کو یوں رد کرتا ہے: ﴿أَيَحُسَبُ الُإِنسَانُ أَن يُتُرَكَ سُدًى﴾ (القیامہ: 36)

آخر میں قرآن وہ سوال چھوڑتا ہے جس کا دہریت کے پاس کوئی جواب نہیں: موت کے بعد کیا؟ ﴿كُلُّ نَفُسٍ ذَائِقَةُ الُمَوُتِ ثُمَّ إِلَيُنَا تُرُجَعُونَ﴾ (العنکبوت: 57) نبی ﷺ نے فرمایا: "قیامت کے دن بندے کے قدم نہیں ہٹیں گے جب تک اس سے اس کے اعمال کا حساب نہ لیا جائے" (ترمذی – صحیح) اگر سب کچھ یہیں ختم ہو جانا ہے تو اخلاق، قربانی، مظلوم کی فریاد اور ظالم کی کامیابی سب بے معنی ہو جاتی ہیں۔ اسی لیے قرآن کہتا ہے: ﴿أَفَنَجُعَلُ الُمُسُلِمِينَ كَالُمُجُرِمِينَ﴾(القلم: 35) قیامت کا تصور انسان کو خوفزدہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس کائنات کو اخلاقی معنی دینے کے لیے ہے۔ بغیر آخرت کے یہ دنیا ایک کامیاب بازار تو ہو سکتی ہے، مگر منصفانہ کائنات کبھی نہیں بن سکتی۔

شرجیل بولا آپ سمجھ نہیں پا رہے میں کہہ رہا ہوں مجھے خدا کی ضرورت کیا ہے اگر وہ ہے بھی تو! جب سارے مسائل انسان زمین پہ خود ہی حل کر رہا ہے موت کے بعد کیا ہوگا وہ تو الگ مسلئہ میٹافیزیکل بات ہے بات تو اس دنیا کی ہو رہی ہے شرجیل جیسے ابھی تک اسی منطق میں پھنسا ہوا تھا، میں نے احترام سے کہا شرجیل بھائی یہ کہنا کہ "اگر خدا ہو بھی تو اس دنیا میں اس کی ضرورت کیا ہے"۔ دراصل خدا کے تصور کو ایک غلط زاویے سے دیکھنے کا نتیجہ ہے۔ قرآن کے مطابق خدا کو اس لیے ماننے کی بات نہیں کی جاتی کہ وہ انسان کے روزمرہ مسائل حل کرنے آئے، بلکہ اس لیے کہ اس نے انسان کو زمین پر بااختیار اور ذمہ دار بنا کر بھیجا ہے۔

﴿وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الُأَرُضِ جَمِيعًا﴾ (الجاثیہ: 13)عقل، اختیار اور وسائل دے دیے گئے، اب زمین کے معاملات سنبھالنا انسان کی ذمہ داری ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ انسان خود مسائل حل کر رہا ہے، خدا کے انکار کی دلیل نہیں بلکہ اسی نظام کی تصدیق ہے جو خدا نے قائم کیا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ انسان دنیا کو چلا سکتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ دنیا کو کس اصول پر چلا رہا ہے۔

خدا کو مانے بغیر ریاست، قانون اور ترقی ممکن ہے، لیکن قرآن کے مطابق جب اصول وحی سے کٹ جائیں تو وہ محض انسانی معاہدے بن جاتے ہیں۔ جب اخلاق اور انصاف کسی بالاتر اور مستقل حقیقت سے نہ جڑے ہوں تو وہ طاقت اور مفاد کے تابع ہو جاتے ہیں۔ آج جن اقدار کو انسانی حق کہا جاتا ہے، کل انہیں قومی مفاد یا سلامتی کے نام پر معطل کیا جا سکتا ہے، خدا کے بغیر نظام بظاہر چل سکتا ہے، مگر وہ اخلاقی لحاظ سے غیر محفوظ ہو جاتا ہے۔ قرآن کہتا ہے: ﴿أَرَأَيُتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ﴾ (الجاثیہ: 23) جب خواہش خدا بن جائے تو انصاف طاقت کے تابع ہو جاتا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "جب امانت ضائع کر دی جائے تو قیامت کا انتظار کرو" (صحیح بخاری)

اور پوچھا گیا: امانت کیسے ضائع ہوگی؟ فرمایا: "جب اختیار نااہل لوگوں کو دے دیا جائے" یہی وہ مقام ہے جہاں اخلاق مفاد سے ٹکرا کر ہار جاتا ہے۔ خدا کو ماننا اس لیے ضروری نہیں کہ دنیا چل نہیں سکتی، بلکہ اس لیے ضروری ہے کہ دنیا صرف طاقت کے اصول پر نہ چلے۔

قرآن انسان کو یاد دلاتا ہے ﴿إِنَّ الُإِنسَانَ لَيَطُغَىٰ أَن رَّآهُ اسُتَغُنَىٰ﴾(العلق: 6–7) جب انسان خود کو خودکفیل سمجھتا ہے تو سرکش ہو جاتا ہے۔ خدا کا تصور انسان کی طاقت پر ایک حد قائم کرتا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "اللہ ظالم کو مہلت دیتا ہے، مگر جب پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا" (صحیح بخاری، صحیح مسلم) چنانچہ خدا کو ماننے کا فائدہ یہ نہیں کہ انسان ذمہ داری سے بچ جائے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو ایک اصولی اور مستقل بنیاد پر ادا کرے۔ قرآن کہتا ہے: ﴿وَقِفُوهُمُ إِنَّهُم مَّسُئُولُونَ﴾ (الصافات: 24)۔

جب انسان خود کو کسی اعلیٰ حقیقت کے سامنے جواب دہ سمجھتا ہے تو وہ قانون سے بالاتر ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور مرنے کے بعد کے لیے عمل کرے" (ترمذی – صحیح) اس دنیا میں خدا کی ضرورت اسی مقام پر سامنے آتی ہے جہاں انسان خود کو سب سے زیادہ خودمختار سمجھنے لگتا ہے اور قرآن اسی خودمختاری کے وہم کو توڑ کر انسان کو یاد دلاتا ہے: ﴿وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعُمَلُونَ﴾ (الأنعام: 132)۔

شرجیل کے سوالات سے مجھے اندازہ نہیں بلکہ یقین ہورہا تھا کہ وہ دیریت کے جال میں پھنس چکا ہے۔ عقلیت کے فریب میں آچکا ہے۔ کہنے لگا ضرغام بھائی "لیکن یہ اصول انسان مل کر اجتماعی طور پہ بھی تو طے کر سکتے ہیں"۔

میں نے کہا، بالکل، انسان اجتماعی طور پر اصول طے کر سکتے ہیں، یہ بات درست ہے۔ مگر قرآن کے زاویے سے اصل سوال یہ نہیں کہ اصول طے ہو سکتے ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان اصولوں کی حیثیت کیا ہوگی اور ان کی حد کون مقرر کرے گا۔ قرآن انسان کے اس دعوے کو چیلنج کرتا ہے کہ وہ خود ہی حق و باطل کا آخری معیار بن جائے: ﴿إِنِ الُحُكُمُ إِلَّا لِلَّهِ﴾ (یوسف: 40) یعنی فیصلہ اور حاکمیت بالآخر اللہ کے لیے ہے، انسان کے لیے نہیں۔ انسان جب اجتماعی طور پر اصول بناتا ہے تو وہ لازماً، طاقت اور مفاد کے تابع ہوتے ہیں۔ قرآن خود گواہی دیتا ہے کہ انسان اکثر اپنے وقتی رجحانات کو حق سمجھ لیتا ہے: ﴿وَإِن تُطِعُ أَكُثَرَ مَن فِي الُأَرُضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ﴾ (الأنعام: 116)

ایک دور میں غلامی اجتماعی طور پر جائز سمجھی گئی، ایک وقت میں نوآبادیات کو تہذیب کہا گیا اور ایک مرحلے پر نسلوں کو کمتر قرار دینا قومی مفاد بن گیا۔ یہ سب اجتماعی فیصلے تھے، مگر قرآن کی روشنی میں یہ سب فساد فی الارض تھے، چاہے انہیں اکثریت کی تائید حاصل ہو: ﴿وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الُفَسَادَ﴾ (البقرہ: 205) اگر حق اور باطل کا معیار صرف اجتماعی اتفاق ہو تو پھر قرآن کا یہ سوال بے معنی ہو جاتا ہے: ﴿أَفَنَجُعَلُ الُمُسُلِمِينَ كَالُمُجُرِمِينَ﴾ (القلم: 35) کیونکہ پھر کسی بھی دور کا ظلم، اپنے وقت کا "درست اجتماعی فیصلہ" کہلائے گا اور ہمیں ماضی کے جرائم پر اعتراض کا اخلاقی حق باقی نہیں رہے گا۔ مگر قرآن ماضی کی قوموں کے اجتماعی فیصلوں کو کھلے لفظوں میں ظلم قرار دیتا ہے، چاہے وہ پوری قوم کا اتفاق ہی کیوں نہ ہو، جیسے قومِ عاد، ثمود اور فرعون کی قوم۔ اجتماعی اصول ہمیشہ اکثریت یا طاقتور طبقے کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ قرآن اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے: ﴿الَّذِينَ طَغَوُا فِي الُبِلَادِ فَأَكُثَرُوا فِيهَا الُفَسَادَ﴾ (الفجر: 11–12) جب اجتماعی ضمیر بگڑ جائے یا خوف، تعصب اور مفاد غالب آ جائیں تو وہی اجتماع ظلم کو قانون بنا دیتا ہے۔

یہی وہ یورپ ہے جس کی عقلیت پسندی اور اجتماعی عقد کی مثالیں دی جاتی ہیں، مگر اسی یورپ نے اپنے اجتماعی شعور اور طے شدہ اصولوں کے تحت پورے افریقہ اور ایشیا کو کالونیاں بنایا، افریقیوں کو غلام بنا کر امریکہ بیچا۔ مگر جب ہٹلر نے یورپ ہی کو فتح کرنے اور اس کے اجتماعی اصولوں کو پامال کرنے کی کوشش کی تو پورے یورپ کو یکایک انسانی حقوق اور اخلاقیات یاد آگئیں یہ ظلم کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا اجتماعی فیصلہ تھا۔ جب خواہش یا اجتماعی مفاد خدا بن جائے تو اخلاق طاقت میں تحلیل ہو جاتا ہے۔ خدا کو ماننے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اصول بنانا چھوڑ دے، بلکہ یہ ہے کہ انسان یہ تسلیم کرے کہ کچھ حدود ایسی ہیں جنہیں وہ اجتماعی اتفاق سے بھی نہیں توڑ سکتا۔ قرآن ان حدود کو حدودُ اللہ کہتا ہے: ﴿تِلُكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعُتَدُوهَا﴾ (البقرہ: 229) یہ حدود اکثریت کے ووٹ سے نہیں بدل سکتیں۔

خدا کا تصور اخلاق کو اجتماعی رائے سے نکال کر لازمی حق بناتا ہے۔ اسی لیے قرآن کہتا ہے: ﴿وَلَا يَجُرِمَنَّكُمُ شَنَآنُ قَوُمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعُدِلُوا ۚ اعُدِلُوا هُوَ أَقُرَبُ لِلتَّقُوَىٰ﴾ (المائدہ: 8) یعنی اکثریت کی دشمنی بھی انصاف کی حد نہیں بدل سکتی۔ خدا کے بغیر اصول کارآمد تو ہو سکتے ہیں، مگر ناقابلِ تنسیخ نہیں رہتے۔ حالات بدلتے ہیں تو اصول بھی بدل جاتے ہیں اور قرآن اس انسانی کمزوری کو یوں بیان کرتا ہے: ﴿وَكَانَ الُإِنسَانُ عَجُولًا﴾ (الإسراء: 11)

نبی ﷺ نے فرمایا: "قیامت کے دن سب سے سخت عذاب اس شخص کے لیے ہوگا جو لوگوں کے لیے قانون بنائے مگر خود کو اس کا پابند نہ سمجھے" (صحیح مسلم – مفہوم) یوں اصل فرق یہ نہیں کہ اصول اجتماعی طور پر طے ہوں یا الہامی طور پر، بلکہ یہ ہے کہ کیا ان اصولوں کے اوپر کوئی بالاتر اتھارٹی موجود ہے یا نہیں۔ قرآن اسی نکتے کو یوں سمیٹتا ہے: ﴿وَمَا اخُتَلَفُتُمُ فِيهِ مِن شَيُءٍ فَحُكُمُهُ إِلَى اللَّهِ﴾ (الشوریٰ: 10)

خدا کے بغیر اجتماع خود ہی قانون ساز بھی ہے اور آخری جج بھی اور خدا کے ساتھ اجتماع قانون تو بناتا ہے، مگر خود کو مطلق نہیں سمجھتا، کیونکہ وہ جانتا ہے: ﴿وَقِفُوهُمُ إِنَّهُم مَّسُئُولُونَ﴾ (الصافات: 24) یہی وہ مقام ہے جہاں خدا کا تصور انسانی اجتماع کو مہذب نہیں بلکہ محدود بناتا ہے۔

اور یہی حد دراصل اخلاق کی بقا کی آخری ضمانت ہے۔ یعنی مسئلہ یہ نہیں کہ اجتماعی اخلاق بن سکتے ہیں یا نہیں، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ کیا وہ ہر حال میں سب پر یکساں لاگو رہتے ہیں یا صرف طاقت کے دائرے کے اندر اور تاریخ گواہ ہے کہ بغیر خدا کے، اخلاق اکثر سرحدوں پر بدل جاتے ہیں۔ رات ہماری بڑی دیر تک بات چیت چلتی رہی میں نے دیکھا زہرہ تو کب کی سو چکی تھی۔

اگلے دن ہم نے شرجیل کا شکریہ ادا کیا اور نکل پڑے۔ سامان کم تھا: ایک چھوٹا سا سوٹ کیس، ایک بیگ اور وہ پوٹلی جس میں امی کا باقی سونا تھا۔ شرجیل ہمیں دروازے تک چھوڑ گیا تھا۔ میں نے زہرہ کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر تھکاوٹ تھی، مگر اطمینان بھی تھا۔ میں نے کہا، "اللہ ہمارا حامی ہے۔ "أليس الله بكاف عبده" (کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں؟ الزمر: 36)"۔

ہم اپنے نئے گھر داخل ہوئے۔ یہ ایک چھوٹا سا اوپر والا پورشن تھا: ایک کمرہ، ایک باورچی خانہ اور ایک باتھ روم۔ فرش خالی تھا، دیواریں سادہ تھیں۔ مگر یہ ہمارا تھا۔ ہمارے اپنے فیصلوں، اپنے عقیدے اور اپنی مشترکہ جدوجہد کا پہلا ٹھکانہ۔ میں نے زہرہ کی طرف دیکھا۔ وہ دروازے کے پاس کھڑی، کمرے کو تاک رہی تھی۔ میں نے اس سے کہا، "یہ ہماری آزمائش کی ابتدا ہے۔ مگر یاد رکھو، "إنما الاموال والاولاد فتنة" (بیشک مال اور اولاد آزمائش ہیں۔ الانفال: 28)۔ ہم نے اللہ کو اولاد اور آرام پر ترجیح دی ہے۔ اس کا وعدہ سچا ہے"۔ ہم نے اپنا تھوڑا بہت سامان رکھا۔

پہلا کام یہ کیا کہ نماز کا وقت تھا۔ ہم نے وضو کیا اور میں نے زہرہ کے ساتھ مل کر اس خالی کمرے میں پہلی نماز پڑھی۔ سجدے میں میں نے دعا کی: "اے اللہ! تو ہی میرا مالک ہے۔ میں نے تیرے لیے اپنے گھر والوں کو چھوڑا ہے۔ تو میرے لیے اپنی رحمت کے گھر میں جگہ بنا دے اور مجھے اپنے دین پر ثابت قدم رکھ اور زہرہ کو اس کے صبر اور وفا کا بہترین بدلہ عطا فرما"۔ نماز کے بعد، جب میں نے آنکھیں کھولیں، تو لگا جیسے یہ چھوٹا سا خالی کمرہ بھی برکتوں سے بھر گیا ہے۔ زہرہ نے کھانا بنانے کی تیاری کی۔ میں نے سوچا، کل سے سونے کا باقی حصہ بیچ کر ایک چھوٹی استعمال شدہ کار لیتا ہوں لاہور کے اندر رینٹ پہ ایک آن لائن In Drive پہ چلا لوں گا۔ قرآن کا فرمان یاد آیا: "ومن يتق الله يجعل له مخرجا ويرزقه من حيث لا يحتسب" (اور جو اللہ سے ڈرے گا، اللہ اس کے لیے نکلنے کی راہ بنا دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق دے گا جس کا اسے گمان بھی نہیں۔ (الطلاق: 2-3)۔

Check Also

Aalu Powder, Wodka, Poultry Feed, Silage Aur Value Addition

By Saad Makki Shah