Wali Ullah (6)
ولی اللہ (6)

اگلے دن فجر کے بعد محلے میں ایک خاص سی گہما گہمی تھی۔ آج ہمارے پڑوس میں گیارہویں شریف کا اہتمام تھا کیونکہ سال میں ایک بار گیارہویں کا خاص محلے میں اہتمام ہوتا تھا۔ سبز چادریں، دیگچوں کی کھنک اور لاؤڈ اسپیکر پر ہلکی ہلکی نعتیں فضا میں گھلی ہوئی تھیں۔ میں خاموشی سے تیار ہو کر دکان کی طرف جانے ہی والا تھا کہ ابو نے آواز دی، "ضرغام، ذرا رکنا۔ ختم شریف کے بعد دکان پہ چلے جانا"۔ میں نے بحث سے بچنے کی خاطر سر ہلا دیا۔
ظہر کے بعد ختم شریف کا اختتام ہوا تو محلے کے پانچ چھے بزرگ، میرے ابو، چچا، تایا ابو، ان کے بیٹے، میرا بھائی اور دو تین پڑوسی سب ایک بڑے صحن میں دری بچھا کر بیٹھ گئے۔ چائے کا دور چلا۔ باتیں عام تھیں، مہنگائی، سیاست، بچوں کی تعلیم، کاروبار۔ اچانک تایا ابو نے گلا صاف کیا اور طنزیہ انداز میں بولے: "ویسے آج کل ایک نئی بیماری پھیل رہی ہے۔ جو ذرا پڑھ لکھ جائے نا، وہ ولیوں کا منکر ہو جاتا ہے"۔ انہوں نے میری طرف دیکھا۔ "کیوں ضرغام؟ سنا ہے تم اب اولیاء کو بھی نہیں مانتے؟"
فضا یکدم بوجھل ہوگئی۔ ابو نے ہلکا سا کھنکارا، بھائی نے نظریں چرا لیں۔ میں نے سکون سے کہا: "تایا ابو، ماننے اور نہ ماننے کی بات نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم مان کیا رہے ہیں اور کس دلیل سے مان رہے ہیں"۔ ایک پڑوسی فوراً بول اٹھا: "دیکھو جی، اولیاء اللہ کے دوست ہوتے ہیں۔ قرآن میں آیا ہے۔ ان کا انکار کرنا ہی گمراہی ہے"۔ میں نے سر ہلایا۔ "بالکل درست، قرآن میں اولیاء اللہ کا ذکر ہے۔ مگر پہلے یہ دیکھ لیں کہ قرآن اولیاء کی تعریف کیا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "الا ان اولياء الله لا خوف عليهم ولا هم يحزنون، الذين امنوا وكانوا يتقون" (یونس: 62-63) یعنی اللہ کے اولیاء وہ ہیں جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کیا"۔
میں نے بات جاری رکھی: "یہاں کہیں نہیں کہا گیا کہ اولیاء وہ ہیں جن سے مانگا جائے، جنہیں پکارا جائے، یا جن کی قبروں پر جا کر فریاد کی جائے جن کے دربار بنائے جائیں"۔ تایا ابو کے بیٹے فوراً بولے: "تو کیا تم یہ کہہ رہے ہو کہ سارے بزرگ غلط تھے؟ داتا صاحب، غوث پاک، خواجہ صاحب؟ سب نعوذ باللہ؟" میں نے وضاحت کی: "میں یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ اللہ کے نیک بندے نہیں تھے۔ میرا سوال یہ ہے کہ ہم ان کے ساتھ کیا رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ اللہ سورہ الفرقان 63-68 میں مومنوں کی صفات میں یہ بھی ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو نہیں پکارتے۔
ایک بزرگ نے اعتراض کیا: "ہم اللہ ہی سے مانگتے ہیں، ولیوں کو تو بس وسیلہ بناتے ہیں"۔ میں نے آہستہ مگر واضح لہجے میں کہا: "اللہ تعالیٰ اس منطق کو خود رد کرتا ہے۔ فرمایا: "والذين اتخذوا من دونه اولياء ما نعبدهم الا ليقربونا الى الله زلفى" (الزمر: 3) وہ لوگ کہتے تھے ہم انہیں صرف اس لیے پکارتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیں۔ اللہ نے اسے شرک قرار دیا"۔
محلے کے ایک اور آدمی، جنہیں سب مولوی صاحب کہتے تھے، بول اٹھے۔ "بیٹا، تم صرف آیات کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہو۔ شریعت میں استغاثہ، توسل، نذر و نیاز جائز ہے۔ امام احمد رضا خانؒ نے "حدائق بخشش" میں لکھا کہ رسول اللہ ﷺ زندہ ہیں، حاضر و ناظر ہیں اور اولیاء بھی اپنی قبور میں زندہ ہیں۔ ان سے مدد مانگنا شرک نہیں، کیونکہ یہ اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔ کیا تم حضور ﷺ کے وجودِ مبارک کے حاضر و ناظر ہونے کا انکار کرتے ہو؟
یہ ایک شدید الزام تھا۔ میں نے سکون سے جواب دیا: "مولوی صاحب، حاضر و ناظر ہونے کا عقیدہ قرآن و صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نبی ﷺ کو غیب کا علم نہیں: "قل لا اعلم الغيب" (الانعام: 50) اور آپ ﷺ خود فرمایا کرتے تھے: "ما ادري ما يفعل بي ولا بكم" (مجھے نہیں معلوم میرے ساتھ اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ سورہ الاحقاف: 9)۔ حاضر و ناظر ہونا صفاتِ الٰہیہ میں سے ہے۔ جو ہر جگہ موجود ہو، ہر چیز دیکھ رہا ہو، وہ صرف اللہ ہے۔ نبی ﷺ کی حیاتِ برزخیہ ایک علیحدہ بحث ہے، لیکن انہیں ہر جگہ موجود اور ہر ایک کی پکار سننے والا سمجھنا، انہیں الوہیت کے قریب لے جانا ہے۔ یہ بھی عرض کر دوں کہ علمائے اہل سنت، جیسے امام غزالیؒ، امام نوویؒ، حتیٰ کہ امام ابن تیمیہؒ نے بھی مردوں سے دعا کرانے اور انہیں پکارنے کی ممانعت کی ہے"۔
یہ سن کر تایا ابو کا بیٹا غصے سے بولا: "تو اب تم ابن تیمیہ کے ماننے والے بن گئے؟ وہ تو نعوذ باللہ گستاخ تھے! ہمارے امام اعظم ابوحنیفہؒ کا مزار پاک بھی انہوں نے ڈھانا چاہا تھا! ہم تو کلمہ گو کو کافر نہیں کہتے، لیکن تم وہابی لوگ تو ہر اس شخص کو کافر سمجھتے ہو جو تمہاری راہ پر نہ چلے"۔ میں نے جھک کر اپنی چائے کا کپ اٹھایا، پھر دھیرے سے رکھتے ہوئے کہا: "بھائی صاحب، ہم سب مسلمان ہیں۔ میں بغیر کسی فرقے کی نمائندگی کرتے ہوئے قرآن و سنت کی روشنی میں صرف اعمال اور عقائد پہ اختلاف کر رہا ہوں۔ امام ابن تیمیہؒ پہ آپ کا دعویٰ تاریخی اعتبار سے ثابت نہیں۔ انہوں نے مزارات کو ڈھانے کی بجائے، ان پر بنائے گئے قبہ اور عمارتوں کو گرانے کی بات کی تھی، جو صحابہ کے دور میں نہ تھے۔ ان کا مقصد شرک کے اسباب کو مٹانا تھا"۔
محلے کے ایک اور آدمی نے اعتراض کیا: "مگر نبی ﷺ کے پاس صحابہ جاتے تھے، دعا کرواتے تھے"۔ میں نے جواب دیا: "بالکل، زندہ نبی ﷺ کے پاس اور یہی اصل فرق ہے۔ نبی ﷺ کی وفات کے بعد صحابہ نے کبھی آپ ﷺ کی قبر پر جا کر "یا رسول اللہ مدد" نہیں کہا۔ حضرت عمرؓ کے دور میں قحط پڑا تو انہوں نے حضرت عباسؓ سے دعا کروائی، نبی ﷺ کی قبر سے دعا نہیں مانگی۔ یہ صحیح بخاری میں موجود ہے۔ حالانکہ وہ نبی ﷺ کے چچا تھے، لیکن وہ زندہ تھے اور ان کا تقویٰ مشہور تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زندہ نیک بندے سے دعا کروانا جائز ہے، مردوں سے دعا مانگنا یا انہیں پکارنا نہیں"۔
مولوی صاحب دوبارہ بولے، ان کی آواز میں طنز تھا: "تم یہ حدیث تو لاتے ہو، لیکن وہ حدیث نظر انداز کر دیتے ہو جس میں نبی ﷺ نے فرمایا: جب میرا امتی مجھ پر سلام بھیجتا ہے، اللہ میری روح مجھے لوٹا دیتا ہے تاکہ میں اس کا جواب دے سکوں۔ (سنن ابو داؤد)۔ اگر آپ ﷺ برزخ میں اتنے باخبر ہیں کہ سلام کا جواب دے سکتے ہیں، تو وہ اپنی امت کی فریاد کیوں نہیں سنیں گے؟"
میں نے جواب دیا: "مولوی صاحب، رسول ﷺ کا سلام کا جواب دینا ایک برزخی عمل ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ﷺ ہر جگہ موجود ہیں، سنتے ہیں اور کام کرواتے ہیں۔ سورہ فاطر کی آیت 14 میں قاعدہ ہے: جب آپ کسی کو پکارو اور آپ کو ظاہری دنیا میں جواب سنائی دے تو ٹھیک۔ اگر وہ اس پر قادر نہیں اور آپ پھر بھی پکار رہے ہیں تو شرک ہے، کیونکہ یہی تو سورہ البقرہ کی آیت 186 کے مطابق خدا بارے عقیدہ ہے کہ وہ غیب میں سنتا اور غیب میں ہی مدد کے اسباب پیدا کرتا ہے۔ جب یہی طاقتیں آپ کسی اور کے بارے فرض کرو گے تو شرک نہیں تو اور کیا ہے؟"ورنہ دنیا میں تو ایک دوسرے سے ہم مدد مانگتے ہیں کام آتے ہیں۔ جیسے سورہ مائدہ میں نیک کاموں میں تعاون کا حکم ہے۔
اب بحث تیز ہو چکی تھی۔ کچھ لوگ میری باتوں سے خائف تھے، کچھ ناراض۔ تایا ابو بولے: "یہ سب وہابی باتیں ہیں۔ تمہارے دماغ میں یہی بھرا گیا ہے۔ بڑوں کے طریقوں پر انگلی اٹھانا۔ ہم ہمیشہ عرس، فاتحہ پڑھتے آئے ہیں۔ کیا ہمارے آبا و اجداد سب گمراہ تھے؟"
میں نے گہرا سانس لیا: "تایا ابو، اللہ نے ہمیں ناموں کا نہیں، دلائل کا پابند بنایا ہے۔ فرمایا: "قل هاتوا برهانكم ان كنتم صادقين" (البقرة: 111) اگر سچے ہو تو دلیل لاؤ"۔
"ومن يدع مع الله الها اخر لا برهان له به"(المؤمنون: 117) جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو پکارتا ہے، اس کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ ہماری وفا ہمارے بزرگوں کے ساتھ یہ ہے کہ ان کی غلطیوں پر اندھی تقلید نہ کریں، بلکہ قرآن و سنت کی روشنی میں اپنا راستہ دیکھیں۔
یہاں میرے ایک کزن نے دبے لفظوں میں کہا: "ضرغام کی باتوں میں وزن تو ہے، قرآن کی آیتیں تو واضح ہیں"۔ ابو کا چہرہ سخت ہوگیا۔ انہیں شاید محسوس ہو رہا تھا کہ محفل میں خاندان کی سبکی ہو رہی ہے۔ تایا ابو اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ "چلو، بیٹے نے سبق پڑھا دیا ہے۔ اب ہم نادان لوگ اپنی جگہ چلتے ہیں"۔ یہ کہہ کر وہ غصے سے ٹہلتے ہوئے چل دیے۔ ان کے پیچھے پیچھے کئی اور لوگ بھی اٹھ گئے۔ ابو کی نظریں زمین پر گڑی ہوئی تھیں۔ چچا کے چہرے پر ناراضگی کے بادل تھے۔ محفل بری طرح منتشر ہو چکی تھی۔
شام کو گھر کا ماحول عجیب تھا۔ جیسے ہی میں اندر داخل ہوا، بھائی احسان جھٹکے سے بولے: "تم ہر جگہ یہی سب کیوں شروع کر دیتے ہو۔ پورے محلے میں ہماری بدنامی ہوگئی۔ تمہیں معلوم ہے تایا ابو نے ابو سے کیا کہا؟ کہا کہ "تمہارے بیٹے نے تو کفر کی باتیں شروع کر دی ہیں"۔ میں نے کہا: "بھائی، میں نے"، میری بات کاٹتے ہوئے ابو سخت لہجے میں بولے، "گھر کی عزت نیلام کر دی ہے۔ سب کے سامنے ہمیں شرمندہ کر دیا۔ تم کیا سمجھتے ہو تم سے پہلے کوئی قرآن پڑھا ہوا نہیں گزرا؟ ہماری نسلیں انہی عقائد پر پلی بڑھی ہیں۔ کیا تم سب سے زیادہ عقل مند ہو؟"
میں خاموشی سے سنتا رہا۔ ان کے جذباتی طوفان کے تھمنے کا انتظار کیا۔ پھر آہستہ، لیکن ٹھوس لہجے میں کہا: "ابو، غصے میں فیصلہ نہ کیجیے۔ اللہ فرماتا ہے: "يا ايها الذين امنوا قوا انفسكم واهليكم نارا" (التحريم: 6) اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔ اگر میں حق بات جان کر، قرآن کی واضح آیتیں دیکھ کر بھی، خاموش رہوں، صرف اس لیے کہ لوگ ناراض ہو جائیں گے، تو کل قیامت کے دن اللہ کو کیا جواب دوں گا؟ کیا کہوں گا کہ ابو، میں نے آپ کی عزت کی فکر کی تھی، اس لیے حق نہیں کہا؟" ابو چیخ اٹھے: "تمھارا حق! تمھارا حق! تو کیا ہم سب باطل پر ہیں؟ کیا ہم سب جہنم میں جائیں گے اور تم اکیلے اپنی عقل پر جنت میں چلے جاؤ گے؟"
یہ بات بہت گہری چبھ گئی۔ میری آنکھیں نم ہوگئیں۔ "ابو، یہ مت کہیے۔ میں ایسا ہرگز نہیں سمجھتا۔ اللہ غفور رحیم ہے۔ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے۔ میرا مقصد کسی کو برا بھلا کہنا نہیں۔ میرا مقصد صرف یہ ہے کہ جو بات مجھے قرآن و سنت سے ملی ہے، وہ آپ تک بھی پہنچاؤں۔ آپ میرے باپ ہیں، آپ کی جنت میں داخلے کی فکر میرے دل میں سب سے زیادہ ہے"۔
بھائی احسان نے طنز کیا: "بہت اچھی فکر ہے۔ پہلے گھر میں جھگڑا کرو، رشتے تباہ کرو، پھر جنت کی فکر"۔ میں نے بھائی کی طرف دیکھا: "احسان بھائی، کیا تم سمجھتے ہو کہ حق بات کہنے سے گھر میں جھگڑا ہوتا ہے تو حق چھوڑ دینا چاہیے؟ کیا ہم اپنے عقائد کو صرف رسم و رواج کی خاطر، لوگوں کی خوشی کے لیے چھوڑ سکتے ہیں؟ ہماری زندگی کا مقصد اللہ کی رضا ہے، نہ کہ لوگوں کی تعریف"۔ چچا نے طنزیہ لہجے میں کہا: "ٹھیک ہے مفتی صاحب! اب آپ گھر میں بھی خطاب شروع کر دیں گے؟ بس کرو۔ ہم تمہاری باتیں سننا نہیں چاہتے"۔ میں نے وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے سر جھکا لیا۔
رات کو کمرے میں زہرا خاموش بیٹھی تھی۔ میں آیا تو براہ راست میرے چہرے پر نظر جماتے ہوئے کہا، اس کی آواز میں رونے کی سی کھنک تھی: "آپ اپنا عقیدہ اپنے پاس کیوں نہیں رکھتے۔ سب کے سامنے کیوں بولتے ہیں؟ آج مجھے بہت ذلت محسوس ہوئی۔ پڑوس کی خواتین مجھے ٹیڑھی نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔ کوئی کہہ رہی تھی کہ "بیچارہ غریب، اس کا شوہر راہ راست سے بھٹک گیا ہے"۔ کوئی کہہ رہی تھی کہ "دیکھنا، یہ نئے نئے مفتی صاحب گھر بھی تباہ کر دیں گے"
"زہرا، میں لڑنے نہیں جاتا۔ مگر جب سیدھا سوال پوچھا جائے، تو کیا جھوٹ بولوں؟ اللہ کہتا ہے: "وذكر فان الذكرى تنفع المؤمنين" (الذاريات: 55) نصیحت کرو، نصیحت ایمان والوں کو فائدہ دیتی ہے"۔
"نصیحت؟" زہرا کا لہجہ تیز ہوگیا۔ "یہ نصیحت نہیں، تکبر ہے۔ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کو سب سے زیادہ علم ہے۔ آپ کے علاوہ سب جاہل ہیں، وہ سب گمراہ ہیں؟"
میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا، اپنی آواز کو ممکنہ حد تک نرم رکھتے ہوئے: "زہرا، تمہیں معلوم ہے میں تمہارا احترام کرتا ہوں۔ میں کسی کی توہین نہیں کرتا، نہ اولیاء کی، نہ کسی عالم کی۔ میں صرف یہ کہتا ہوں کہ دعا، فریاد، امید اور خوف صرف اللہ سے ہو۔ یہی توحید ہے۔ میں تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو بھی اسی آگ سے بچانا چاہتا ہوں"۔
"مگر آپ کی باتوں سے تو گھر میں آگ لگ رہی ہے!" اس نے آنسوؤں کو روکتے ہوئے کہا۔ "پہلے آپ خاموش رہتے تھے۔ پڑھتے تھے، نماز پڑھتے تھے۔ سب ٹھیک تھا۔ اب آپ نے یہ نئی راہ پکڑ لی ہے۔ کیا آپ کو یقین ہے کہ صرف آپ ہی صحیح ہیں اور دنیا بھر کے مسلمان غلط ہیں؟"
میں نے کہا: "زہرا، حق کی پہچان تعداد سے نہیں ہوتی۔ شروع میں صرف حضرت ابراہیمؑ اکیلے تھے۔ نبی ﷺ مکہ میں اقلیت میں تھے۔ میں خود کو نہیں، میں یہ کہہ رہا ہوں کہ قرآن و صحیح حدیث صحیح ہیں اور ان کی روشنی میں جو راستہ نکلتا ہے، وہی میرا راستہ ہے"۔ زہرا نے سر اٹھایا، آنکھیں سرخ تھیں۔ "ہمارے خاندان کا آپ سے رویہ دیکھ کر میرے دل میں ڈر بیٹھ گیا ہے۔ ڈر ہے، ڈر ہے کہ کہیں یہ گھر ٹوٹ نہ جائے"۔ یہ کہہ کر اس کا گلا بھر آیا اور وہ رونے لگی۔ میں اس کے پاس گیا، اس کے کندھے پر ہاتھ رکھنا چاہا، مگر اس نے جھٹک کر ہٹا لیا۔ "نہیں، ابھی نہیں۔ مجھے اکیلے رہنے دیجیے"۔
میں پیچھے ہٹ گیا۔ دل بہت بھاری تھا۔ کیا حق کی راہ پر چلنا ہمیشہ اتنے ہی دکھ دیتا ہے؟ کیا گھر، رشتے، محبتیں سب اس راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں؟ میں نے کھڑکی کی طرف دیکھا۔ باہر محلے کی لائٹیں جل رہی تھیں، ایک مکان کے باہر چراغاں تھا، سبز قمقمے جگمگا رہے تھے۔ دل میں ایک ہی دعا تھی: "اے اللہ، تو ہی راہ دکھانے والا ہے۔ مجھے حق پر ثابت قدم رکھ۔ میری نیت کو خالص رکھ اور میرے گھر والوں کے دل بھی کھول دے۔ انہیں سمجھ عطا فرما کہ تو ہی معبودِ برحق ہے"۔
یہ رات طویل تھی اور راستہ اس سے بھی زیادہ لمبا اور تنہائیوں سے بھرا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ فرش پر بچھے ہوئے قالین کے ایک ٹکڑے پر سجدے میں گرتے ہوئے، میں نے محسوس کیا کہ شاید یہی وہ آزمائش ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ حق پرست کے لیے اپنوں کی مخالفت سے بڑھ کر کوئی آزمائش نہیں ہوتی۔
جاری ہے۔۔

