Saturday, 31 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Rizwan Akram
  4. Wali Ullah (5)

Wali Ullah (5)

ولی اللہ (5)

پچھلے کچھ عرصے سے گھر کی فضا میں ایک عجیب سی کشیدگی اور خاموشی تھی، ایسے میں والد صاحب نے مجھے ایک نئی ذمہ داری سونپ دی۔ "ضرغام بیٹا، اس بار کراچی سے کپڑے کا مال تم لے کر آؤ۔ اب تم مارکیٹ میں نکلو، آخر کل کو کاروبار تم نے ہی تو سنبھالنا ہے"۔

بولٹن مارکیٹ کے ایک بڑے تاجر سید باقر علی شاہ صاحب سے ہمارا دہائیوں پرانا کاروباری تعلق تھا۔ میں پہلے بھی ابو کے ساتھ دو تین بار کراچی جا چکا تھا۔ کراچی پہنچا تو ہوٹل چیک ان کرنے کے بعد میں نے شبیر بھائی سے رابطہ کیا، جو ابو کے پرانے دوست تھے اور اب اپنی ٹرانسپورٹ کمپنی چلاتے تھے۔ انہوں نے اپنا ڈرائیور اور گاڑی میرے لیے مہیا کر دی۔ میں براہ راست باقر صاحب کے دفتر پہنچ گیا۔

باقر صاحب نے نہایت گرمجوشی سے ملاقات کی۔ "ارے واہ! قاسم شیر کا چاند آ گیا!" انہوں نے گلے لگاتے ہوئے کہا۔ ان کے ساتھ ان کا بیٹا عماد اور چھوٹا بھائی جواد صاحب بھی موجود تھے۔ دوپہر کے کھانے کا اصرار ہوا، حالانکہ میری ہوٹل بکنگ تھی۔ "نہیں بیٹا، ہمارے مہمان ہوٹل نہیں جاتے۔ آج رات ہمارے ہاں گزارو گے"۔ ان کے اصرار کے آگے میں ہار گیا۔

کھانے کی میز پر بیٹھے ہم کاروبار کی عام باتوں میں مصروف تھے۔ کھانا ختم ہوا تو باقر صاحب نے عماد سے کہا، "بیٹا، ضرغام بھائی کو آج کراچی گھماؤ۔ شاہ عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر تو یہ ضرور جائیں گے"۔ میں نے نرمی سے، مگر واضح لہجے میں کہا، "انکل، آپ کی مہربانی، مگر اب میں درباروں اور مزارات پر نہیں جاتا"۔

باقر صاحب کے چہرے پر حیرت اور تشویش کی ملی جلی کیفیت تھی۔ "کیوں بیٹا؟ کیا مطلب؟ تمہارے بابا تو ہر بار ضرور جاتے تھے۔ تم بھی پچھلی بار ہمارے ساتھ گئے تھے۔ اب ایسا کیا ہوگیا؟ کہیں، کہیں فرقہ تو نہیں بدل لیا؟" میں مسکرایا، اپنے لہجے میں نرمی برقرار رکھتے ہوئے۔ "نہیں انکل، میں وہی مسلمان ہوں۔ بس، قرآن اور ہمارے نبی ﷺ کے واضح احکامات کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں"۔

جواد صاحب مسکرائے۔ "لگتا ہے قاسم بھائی کا بیٹا کسی کے ہتھے چڑھ گیا ہے؟" میں نے سنجیدگی سے جواب دیا، "نہیں انکل، میں نے قرآن کو اپنا امام بنایا ہے۔ اللہ کا فرمان ہے: "الذين يستمعون القول فيتبعون احسنه" (الزمر: 18)۔ وہ لوگ جو بات سنتے ہیں اور پھر اس میں سے بہترین کی پیروی کرتے ہیں۔ اسی آیت کو پیمانہ بنا کر میں نے بریلوی، دیوبندی، اہلحدیث اور اہل تشیع سب کی کتابیں، ان کے دلائل پڑھنے کی کوشش کر رہا ہوں"۔

باقر صاحب کا چہرہ گہرے غور و فکر میں ڈوبا ہوا تھا۔ انہوں نے آہستہ سے کہا، "تو ہمارے بارے کیا سوچتے ہو بھئی صاحب؟ ہم اہل تشیع؟ ان کی آواز میں ایک ہلکی سی کڑواہٹ تھی۔ حالانکہ اہل بیت رسول ﷺ کا مشن، ان کی وراثت تو ہمارے پاس ہے"۔ میں نے انتہائی احترام اور نرمی کے ساتھ جواب دیا۔ "انکل، اللہ قرآن میں فرماتا ہے: "كل حزب بما لديهم فرحون" (المومنون: 53)۔ ہر گروہ اسی (بات) پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے۔ جب تک ہم صرف اپنے فرقے کے "مخصوص" علماء کی بات سنیں گے، تو "حق" تک پہنچنا ناممکن ہے۔ ہر فرقے کا عالم تو اپنے فرقے کو ہی حق ثابت کرے گا۔

اکثریت اہلسنت کی آپ کو اپنا بھائی ہی سمجھتی ہے۔ صرف وہ گروہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں جنہوں نے نبوت کے دروازے کو کھولا، جیسے قادیانی، یا جنہوں نے اہل بیت کو الوہیت کے درجے تک پہنچا دیا، جیسے نصیری۔ باقی سب میں کچھ نہ کچھ کمیاں، کوتاہیاں اور کچھ نہ کچھ حقائق ضرور ہیں۔ اگر ہم سب اپنے اختلافات کو پس پشت ڈال کر قرآن و سنت رسول ﷺ کو اپنا اصل معیار اور امام بنا لیں تو ہم فرقہ واریت کے اس گھٹن بھرے دائرے سے نکل سکتے ہیں"۔

باقر شاہ صاحب بولے، "بیٹا، تمہاری بات میں اخلاص ہے۔ بس گزارش ہے کہ ذرا تاریخ پر بھی غور کر لو۔ امت کا اختلاف کسی بعد کے زمانے میں نہیں، بلکہ اسی دن ہوا جس دن رسول اللہ ﷺ کا وصال ہوا۔ یہ وہ حقیقت ہے جو خود اہلِ سنت کی تاریخ کی کتابوں میں لکھی ہوئی ہے۔ رسول ﷺ کی میت ابھی گھر میں موجود تھی، اہلِ بیتؑ غم اور تجہیز و تکفین میں مصروف تھے اور اسی دوران سقیفہ میں خلافت کا فیصلہ ہوگیا۔ اگر اس لمحے سب کچھ قرآن و سنت کے مطابق طے ہوتا تو سب سے پہلے رسول ﷺ کی وصیت کو سامنے رکھا جاتا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی میں قرآن کے ساتھ اہلِ بیتؑ کو جوڑا۔ حدیثِ ثقلین، جو صحیح مسلم میں موجود ہے، اسی طرح غدیرِ خم کا واقعہ، جو مسند احمد، ترمذی اور دیگر سنی کتب میں موجود ہے، رسول ﷺ نے حضرت علیؑ کے بارے میں اتنا واضح اعلان کیوں فرمایا۔ رسول ﷺ کے بعد جو فیصلے ہوئے، انہوں نے اہلِ بیتؑ کو عملاً قیادت سے الگ کر دیا۔ بی بی فاطمہؑ کا رسول ﷺ کے بعد ناراض ہو کر دنیا سے جانا صحیح بخاری میں درج ہے۔ امام حسنؑ کو زہر دیا گیا، امام حسینؑ کو کربلا میں ان کے اہلِ خانہ سمیت شہید کیا گیا اور یہ سب تفصیلات تاریخ طبری اور ابنِ کثیر جیسے سنی مؤرخین نے خود لکھی ہیں۔

اب بیٹا، جب آج اتحاد کی بات ہوتی ہے تو دل میں ایک سوال ضرور اٹھتا ہے۔ اتحاد کیسے ہو، اگر اہلِ بیتؑ پر ظلم کرنے والوں کو معزز سمجھا جائے، اگر آلِ امیہ کے کردار کو مثالی بنا کر پیش کیا جائے اور اہلِ بیتؑ کے زخموں پر خاموشی اختیار کی جائے، تو پھر اتحاد صرف نعرہ رہ جاتا ہے۔ ہم قرآن و سنت سے دور نہیں، بلکہ قرآن و سنت کو خود رسول ﷺ نے اہلِ بیتؑ کے ساتھ جوڑ دیا تھا۔ اگر ظلم کو ظلم کہا جائے اور اہلِ بیتؑ کے حق کو تسلیم کر لیا جائے، تو دلوں کا اتحاد ممکن ہے۔ ورنہ بغیر انصاف کے اتحاد کی بات مظلوم کے لیے بوجھ اور تاریخ کے لیے ناانصافی بن جاتی ہے"۔

میں نے بڑی تحمل سے ساری بات سنی تھی۔ "باقر صاحب، اگر خلافت واقعی رسول اللہ ﷺ کی طرف سے نصِ صریح کے ساتھ اہلِ بیتؑ کا شرعی حق مقرر کی گئی تھی، تو سب سے پہلا سوال خود حضرت علیؑ کے طرزِ عمل سے پیدا ہوتا ہے۔ شیعہ مصادر جیسے نہج البلاغہ، کتاب سلیم بن قیس اور الارشادِ شیخ مفید اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت علیؑ نے بالآخر حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کی، اگرچہ ابتدا میں ناراضگی اور اختلاف موجود تھا۔ اگر خلافت ایک الٰہی منصب تھا جس پر رسول ﷺ کا واضح، غیر قابلِ تاویل حکم موجود تھا، تو پھر حضرت علیؑ جیسی شخصیت، جو حق پر کبھی مصلحت کو ترجیح نہیں دیتی، کسی غیر منصوص خلیفہ کی بیعت نہ کرتی۔ کیا اہل بیت رسول ﷺ کے حکم پر سمجھوتہ کر سکتے تھے؟

یہ کہنا کہ بیعت مجبوری میں کی گئی، خود اس تصور کو کمزور کرتا ہے کہ خلافت ایک ناقابلِ تبدیلی الٰہی تقرر تھی۔ شیعہ کتاب الکافی میں امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ علیؑ نے امت کے انتشار اور ارتداد کے خوف سے قتال نہیں کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاملہ ایسا نہیں تھا کہ ایک واضح خدائی حکم کو پامال کیا جا رہا ہو، بلکہ ایک سیاسی و اجتماعی اختلاف تھا جسے علیؑ نے صبر اور حکمت سے سنبھالا۔ حضرت علیؑ کا دورِ خلافت خود اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خلافت کو موروثی یا خاندانی حق نہیں سمجھتے تھے، بلکہ امت کی امانت مانتے تھے۔ نہج البلاغہ میں علیؑ بار بار شوریٰ، عدل اور احتساب کی بات کرتے ہیں، نہ کہ اہلِ بیت کی ملکیت کی۔ جنگِ جمل اور صفین میں علیؑ حق پر اس لیے تھے کہ وہ وقت کے خلیفہ تھے، نہ کہ اس لیے کہ وہ اہلِ بیت سے تھے۔

اگر صرف نسب خلافت کی بنیاد ہوتا تو ان سے پہلے تین خلفاء کی حیثیت سرے سے باطل قرار پاتی، جس کا صریح اعلان نہ علیؑ نے کیا، نہ حسنینؑ نے۔ امیر معاویہ کے معاملے میں بھی خود شیعہ مصادر اس بات کو مانتے ہیں کہ وہ حضرت علیؑ کے مقابلے میں حق پر نہیں تھے، لیکن ان کے ساتھ صحابہ کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ اسی لیے اہلِ سنت ان کی خطا کو اجتہادی کہتے ہیں، کفر یا نفاق نہیں۔ اگر ہر مخالفِ علیؑ دین سے خارج ہوتا تو پھر علیؑ ان کے ساتھ مکالمہ، خط و کتابت اور صلح کی کوششیں نہ کرتے، جیسا کہ نہج البلاغہ کے خطوط میں واضح ہے۔

رہا مسئلہ امام حسینؑ کے قیام کا، تو خود شیعہ کتاب الارشاد اور لہوف میں واضح ہے کہ امام حسینؑ کا خروج خلافت پر قبضے کے لیے نہیں تھا۔ انہوں نے یزید کی بیعت اس لیے رد کی کہ خلافت شورائی اصول سے ہٹ کر ملوکیت میں بدل رہی تھی۔ امام حسینؑ نے نہ حکومت کا مطالبہ کیا، نہ تخت کا، بلکہ امت کو ایک اصولی انحراف سے بچانے کی کوشش کی۔ اگر خلافت اہلِ بیتؑ کی موروثی ملکیت ہوتی تو امام حسینؑ کا مقدمہ حقِ وراثت بنتا، اصلاحِ امت نہیں۔ ان اصولوں کی بقا کے لیے اہل بیت نے جانیں قربان کیں۔ یہی نقطہ اگر سامنے رکھا جائے تو اہلِ بیتؑ کی شان سمجھ آتی ہے"۔

باقر صاحب بولے، "ضرغام بیٹا، یہ موضوع تو بہت وقت طلب ہے جس پر پھر کبھی بات ہو سکتی ہے۔ ہماری بات تو درباروں سے شروع ہوئی تھی"۔ ہاں بھئی، ہم واقعی تھوڑا موضوع سے ہٹ گئے تھے۔ جواد صاحب، ان کے بھائی بولے۔ "میرے درباروں پر نہ جانے کی وجہ مزارات کے خلاف واضح احادیث ہیں اور "مسئلہ دعا" پر نقب زنی ہے"۔

میں نے گہرا سانس لے کر کہا، "انکل، اسلام میں دعا عبادت کی روح ہے۔ یہ بندے کا اپنے خالق سے براہ راست تعلق ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ بار بار، وضاحت کے ساتھ یہ بات کہتا ہے کہ دعا کی عبادت صرف اسی کے لیے خاص ہے۔ فرمایا: "وقال ربكم ادعوني استجب لكم" (المومن: 60) اور تمہارے رب نے فرمایا: مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہے: "وادعوه مخلصين له الدين" (الاعراف: 29) اور اسے پکارو، اسی کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے۔

میں نے اپنی بات جاری رکھی، "اب غور کیجیے، جب ہم "یا علی مدد"، "یا حسین شفاعت"، "یا غوث اعظم" یا "یا داتا گنج بخش" کہتے ہیں، تو ہماری نیت چاہے کتنی ہی پاک ہو، ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا غیب میں فریاد سننا، پریشانی دور کرنا، مشکل حل کرنا اور براہ راست مدد فرمانا، کیا یہ صفات اللہ تعالیٰ کی مخصوص صفات نہیں ہیں؟ اگر ہم یہ عقیدہ رکھیں کہ کوئی فوت شدہ ولی، خواہ وہ کتنا ہی عظیم کیوں نہ ہو، ہماری اس دنیا میں پکار سنتا ہے، ہمارے کام بناتا ہے، یا اللہ سے ہمارے لیے مدد کرواتا ہے، تو پھر عملاً اللہ اور اس "ولی" کے درمیان کیا فرق رہ جاتا ہے؟ آپ سورہ فاطر کی آیت 14، سورہ الزمر کی آیت 3، سورہ الاحقاف کی آیت 4-5 سورہ الاعراف کی آیت 188 کو سمجھیں تو پورا عقیدہ آپ کو سمجھ آجائے گا۔

یہی تصور، یہی منطق ہمیں غیر مسلم مذاہب میں بھی نظر آتی ہے۔ ہندو بھی جانتے ہیں کہ ان کے مندروں میں رکھے ہوئے بت پتھر یا دھات کے ہیں، وہ کچھ نہیں سنتے۔ مگر وہ کہتے ہیں، "یہ مورتیاں ان چھوٹے خداؤں کی ہیں جو بڑے خدا (برہما) کے درمیان وسیلہ ہیں۔ یہ ہمارے کام بڑے خدا سے کرواتے ہیں"۔ نیت وہاں بھی "وسیلاً" ڈھونڈنے کی ہوتی ہے۔ مگر قرآن اس پوری منطق کو یکسر مسترد کرتا ہے۔ پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر تصور اور عمل کا ڈھانچا ایک جیسا ہو، تو پھر ایک مورتی اور ایک مزار کے درمیان اصولی فرق کیا رہ جاتا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے اسی لیے سخت ترین الفاظ میں اس سے منع فرمایا۔ قبروں پر عمارتیں بنانا، ان کو سجدہ گاہ بنانا۔ آخری وقت میں آپ ﷺ نے امت کو وصیتیں اسی فتنے سے آگاہ کرنے کے حوالے سے تھیں"۔

عماد بولا، "ضرغام بھائی، مردوں سے مانگنا تو شرک ہے، مگر زندوں سے؟ ان سے تو فیض مانگ سکتے ہیں۔ کیا آپ نے نہیں پڑھا "ولا تقولوا لمن يقتل في سبيل الله اموات بل احياء ولكن لا تشعرون" (البقرہ: 154)۔ اگر شہید زندہ ہیں، تو پھر اولیاء، اہل بیت اور انبیاء کا مقام تو بہت آگے ہے"۔

میں مسکرایا۔ "عماد بھائی، آپ نے بالکل درست آیت پڑھی۔ یہ ایمان کا حصہ ہے کہ شہید زندہ ہیں۔ مگر غور کیجیے، قرآن یہ نہیں کہتا کہ وہ "زندہ" ہیں اس لیے ہماری اس دنیا کی دعائیں سنتے ہیں، ہمارے مسائل حل کرتے ہیں۔ نہیں۔ وہ ایک بالکل الگ قسم کی زندگی، برزخی زندگی میں ہیں۔ وہ موت کا ذائقہ چکھ چکے ہیں۔ اسی لیے شریعت میں شہید کی بیوی عدت گزارتی ہے (النساء: 4)، اس کی وراثت تقسیم ہوتی ہے۔ یہ دنیوی قوانین اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ وہ ہماری اس دنیا کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتے۔ "زندہ ہونا" ایک حقیقت ہے اور "دنیا کے معاملات سننا اور چلانا" بالکل دوسری حقیقت ہے۔ پہلی کا اقرار ایمان ہے، دوسرے کا اقرار شرک کی طرف لے جانے والا دروازہ ہے۔

اگر ہم اصول بنا لیں کہ فوت شدہ انسان، خواہ وہ کوئی ہو، سے ہمارا تعلق صرف اتنا ہے کہ اس نے اپنی زندگی میں ہمیں ہمارے پیارے نبی کا دین سکھایا، قرآن سکھایا، اچھے عمل کی تعلیم دی۔ ہم اس کے اقوال و اعمال سے سبق لیں، اس کی سیرت پر عمل کرنے کی کوشش کریں اور اس کے بعد دعا، فریاد، التجاء، امید اور ڈر صرف اور صرف اللہ رب العزت سے وابستہ ہو، تو پھر نہ درباروں کی ضرورت رہے گی، نہ ان سے جڑے ہوئے بڑے کاروباروں اور نذرانوں کے نظام کی۔ اصلاح اسی بنیاد سے شروع ہوتی ہے، کیونکہ شرک ہمیشہ عبادت، خاص کر دعا میں غیر اللہ کو شریک کرنے سے شروع ہوتا ہے"۔

باقر صاحب گہری، سنجیدہ مسکراہٹ کے ساتھ گفتگو سمیٹتے ہوئے بولے، "ضرغام بیٹا، وقت کافی ہوگیا باتوں میں، پتہ ہی نہیں چلا۔ ضرور میں تمہاری باتوں پر غور کروں گا"۔ وہ رکے۔ "اگر مزار نہیں جانا، تو کلفٹن ہی گھوم لو عماد کے ساتھ، تھوڑا فریش ہو جاؤ گے"۔ میں نے کہا، "جی انکل، پہلے عصر کی نماز ادا کر لوں"۔

رات باقر صاحب کے ہاں گزاری۔ صبح نو بجے کے بعد میں نے دفتر پہنچ کر باقر صاحب سے تمام کاروباری معاملات طے کیے، نئی و پرانی ویریٹی دیکھی۔ کپڑے کا سارا آرڈر کنفرم کیا، جدید آن لائن طریقے سے ادائیگی کی۔ کارگو کے معاملات دیکھے۔ اس طرح دن گزر گیا۔ رخصت ہوتے وقت میں نے باقر صاحب کا ہاتھ تھام کر کہا، "انکل، اگر میری کسی بات سے بے ادبی ہوئی ہو، تو معاف فرمائیں۔ میرا مقصد صرف علم کی بات کرنا تھا"۔ باقر صاحب نے میرا ہاتھ دونوں ہاتھوں میں لے کر کہا، "بیٹا، تمہاری باتوں نے سوچنے پر مجبور کیا ہے۔ اللہ تمہاری حفاظت کرے"۔

رات گیارہ بجے کی فلائٹ سے میں لاہور پہنچا۔ گھر پہنچا، تو نظر لان کی طرف گئی۔ لان میں زہرا بیٹھی تھی، موبائل ہاتھ میں لیے۔ میں نے گاڑی سے اتر کر کہا۔ "السلام علیکم، زہرا"۔ اس نے میری طرف دیکھا۔ چہرے پر نہ خوشی تھی، نہ غم۔ "وعلیکم السلام"۔ پھر، اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے، بولی، "آپ کی تبلیغ اور آپ کا کاروبار، یہی سب کچھ ہے۔ بیوی کدھر ہے، اس کی کوئی فکر ہی نہیں"۔ یہ کہہ کر وہ بغیر پیچھے مڑے دیکھے، گھر کے اندر چلی گئی۔

جاری ہے۔۔

Check Also

Aalu Powder, Wodka, Poultry Feed, Silage Aur Value Addition

By Saad Makki Shah