Saturday, 17 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Rizwan Akram
  4. Wali Ullah (4)

Wali Ullah (4)

ولی اللہ (4)

عصر کے دھیمے سورج کی روشنی میں رنگ برنگے شامیانوں سے سجی حویلی کے بیرونی حصے میں ضرغام ساؤنڈ سسٹم ترتیب دے رہا تھا۔ اس کے چہرے پر گہری سنجیدگی تھی۔

اندر ٹھنڈے ہال میں خاندان کے اراکین جمع تھے۔ قاسم شیر اپنے بڑے صوفے پر تکیے لگائے بیٹھے، پریشانی سے اپنی داڑھی سنوار رہے تھے۔ بڑے بیٹے طاہر سے بولے، "میں ضرغام کی وجہ سے کافی پریشان ہوں۔ اس کا اٹھنا بیٹھا اب نئے عقائد رکھنے والوں کے ساتھ ہوگیا ہے اور وہ گھر میں بھی ہر چیز پر اعتراض کرتا ہے۔ میں سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ اس نوجوانی کے جوش کو کیسے سنواریں، کہیں یہ بات بغاوت پر نہ اتر آئے۔

بڑی بہن مریم، جو شائستہ مگر تیکھی گفتگو کی حامل تھی، بول اٹھیں کہ ضرغام تو پہلے کبھی دوسرے فرقوں کے قریب نہیں گیا تھا، لیکن اب اس کے نظریات کیسے بدل گئے۔ ضرغام کے بھائی حسان نے دانتوں میں خلال کرتے ہوئے کہا کہ اگر پیر صاحب کو پتہ چلا تو وہ ناراض ہوں گے اور خاندان کی شبیہ خراب ہو جائے گی۔ طاہر نے عملی نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ علم کی کمی کا معاملہ ہے اور پیر صاحب اس کے سوالوں کا جواب دے سکتے ہیں۔ اگر ان سے بات کی جائے مگر قاسم شیر بولے نہیں پہلے ہمیں خود ہی پیار سے سمجھانے کی کوشش کرنی ہے۔ ورنہ میں حضرت صاحب کے خلیفہ سے رہنمائی لوں گا۔

سارا وقت خاموش بیٹھی زہرہ کے ذہن میں ضرغام کی باتوں کے بارے میں سوالات گونج رہے تھے۔ اس کے دل میں بھی کشمکش تھی۔ اسی دوران اطلاع آئی کہ محلے کے امام صاحب باہر آئے ہیں اور قاسم شیر ان سے ملنے چلے گئے۔

ان کے جانے کے بعد مریم نے والدہ سے پوچھا کہ کیا واقعی ضرغام وہابی ہوگیا ہے اور سختی کرنے لگا ہے۔ والدہ نے بتایا کہ نہیں سختی تو نہیں لیکن بزرگوں کے طریقوں کو غلط کہہ کر سب کو ٹوک دیتا ہے، جس سے ان کا دل دھڑک اٹھتا ہے۔ مہک نے زہرہ سے پوچھا کہ کیا ضرغام اسے تنگ کرتا ہے۔ زہرہ نے گھبراہٹ سے کہا کہ وہ تنگ نہیں کرتا، نرمی سے سمجھاتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ صرف اللہ سے ڈرنا اور مانگنا چاہیے۔ حسان نے طنز کیا کہ یہی تو پروپیگنڈہ ہوتا ہے۔

طاہر نے سب کو ٹوکا کہ آج کا دن بڑا دن ہے اور سب کی نظریں ان پر ہیں۔ اس کے بعد سب اٹھ کھڑے ہوئے۔ مریم اور مہک زہرہ کو ساتھ لے کر سجاواٹ دیکھنے چلی گئیں، جبکہ طاہر اور حسان باہر مہمانوں کے استقبال کے لیے نکل گئے۔

میں ہال میں قالین لگوا رہا تھا کہ طاہر نے میرے کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا کہ سب ٹھیک ہے نا۔ میں نے مسکرانے کی کوشش کی۔ حسان نے کنی کاٹتے ہوئے کہا کہ آج کسی سے دلیل کی بات نہ چھیڑنا۔ میں نے کوئی جواب نہ دیا۔

باہر سے جلوس کی آوازیں قریب آتی گئیں۔ "یا رسول اللہ" کے نعروں سے فضا گونج رہی تھی۔ یہ جلوس گلیوں سے ہوتا ہوا بالآخر ہماری حویلی کے سامنے اختتام پذیر ہوا۔ محفل کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ نعتیں پڑھی گئیں۔ ایک عالم دین نے اولیاء کرام کے مقام و مرتبے پر پرجوش خطاب کیا اور ان گروہوں پر سخت تنقید کی جو میلاد کے منکر تھے۔ آخر میں بڑے حضرت صاحب، جو تمام خاندان کے مرشد تھے، تشریف لائے۔ ان کی آمد پر ایک روحانی خاموشی چھا گئی۔ سب لوگ باادب کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے نرم و شیریں زبان میں روحانیت، اخلاق اور نماز کی پابندی کی تلقین فرمائی۔ دعا کے بعد محفل ختم ہوئی، لنگر تقسیم ہوا اور مہمان رخصت ہو گئے۔

انتظامات نمٹا کر جب میں اپنے کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا کہ پورا خاندان اب بھی جمع ہے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ میرا ہی انتظار کر رہے ہوں۔

میں نے ہمت کرکے کہا، "کیا باتیں چل رہی ہیں؟ آج تو ماشاءاللہ گھر پر بہت رونق تھی"۔

والدہ نے نرمی سے کہا، "بیٹا، جس گھر اللہ کا ولی آ جائے، وہاں اللہ برکت ڈالتا ہے۔ پھر وہاں رونق ہی رونق ہوتی ہے"۔

میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، "جی ماں جی"۔

میرے والد قاسم شیر بولے، "بیٹا ضرغام، آج تم نے بہت اچھا انتظام کروایا۔ محفل بہت اچھی اور منظم طریقے سے اختتام تک پہنچی۔ اللہ ہم سب کو اس کا اجر دے"۔

سب نے آہستہ سے "آمین" کہا۔

اس کے بعد ایک گہری خاموشی چھا گئی۔ پھر میرے بھائی احسان، جو اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے، بول اٹھے، "ہمیں تو پتہ چلا ہے ضرغام آج کل وہابیوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے۔ ان کے عقائد پر آ گیا ہے۔ ولیوں کا منکر ہوگیا ہے، درباروں کو شرک کہتا ہے۔ مجھے حیرت تھی کہ اس نے میلاد کا انتظام کیسے مینج کر لیا"۔

میری بہن مہک نے معاملہ سمیٹنے کی کوشش کی، "میلاد تو ابو ہر سال کرواتے ہیں۔ مگر ضرغام کہ محنت بھی نظر آئی"۔

میں سمجھ گیا کہ اصل معاملہ اب شروع ہونے والا ہے۔ پورے خاندان کا سامنا تھا۔ میں تھوڑا سا گھبرایا، مگر سنبھل گیا۔

زہرا کے والد نے سکون کا لہجہ اپناتے ہوئے کہا، "آؤ بیٹے ضرغام، بیٹھو۔ تمہاری تربیت جن ہاتھوں میں ہوئی ہے، وہ اتنی جلدی کسی کے فتنے میں نہیں آ سکتے"۔

میں نے گہرا سانس لے کر، ٹھوس لہجے میں جواب دیا، "احسان بھائی، میں نہ تو وہابی ہوا ہوں اور نہ ہی اولیاء اللہ کا منکر۔ لیکن میں اس فرقہ واریت میں سے کسی کے ساتھ بھی نہیں ہوں۔ دوسری بات، ولی اللہ کوئی بھی بن سکتا ہے۔ اللہ کے ہاں انسان یا تو اس کا دوست ہے یا دشمن۔ اب جو شخص مسلمان ہے، کیا وہ اللہ کا دشمن ہو سکتا ہے؟ کیوں مریم آپی؟"

مریم آپی تھوڑی گھبرا گئیں، "ہاں۔۔ مگر۔۔ "

میں نے بات جاری رکھی، "یہی بات! ہر مسلمان اللہ کا ولی ہے۔ بس وہ جتنا اسلام کے اصولوں پر عمل کرے گا، اتنا ہی اللہ کا مقرب بندہ بنتا جائے گا۔ اللہ تو قرآن میں بار بار فرماتا ہے: "ان الذين امنوا وعملوا الصالحات اولئك هم خير البرية" (البینہ: 7)۔ بیشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، وہی بہترین مخلوق ہیں۔ اس کے علاوہ اللہ نے بے شمار مقامات پر اپنے بندوں کی صفات بیان کی ہیں، جیسے سورۃ الفرقان، المومنون، آل عمران، المعارج، الشوریٰ میں۔ یہ صفات کسی خاص خاندان یا سلسلے کے لیے مخصوص نہیں۔ "

میرے والد نے سنجیدگی سے کہا، "لیکن بیٹا، اولیاء کا ذکر قرآن میں ہے۔ "الا ان اولياء الله لا خوف عليهم ولا هم يحزنون" (یونس: 62) اور حدیث میں ہے: "من عادى لي وليا فقد آذنته بالحرب" (صحیح بخاری)۔ جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی، میں اس سے جنگ کا اعلان کرتا ہوں۔ تو بیٹا، یہ مقام ولایت اللہ نے انہیں دیا ہے۔ وہ ریاضتیں کرتے ہیں، ہم گناہ گار بندے اپنے کاروباروں میں مصروف رہتے ہیں جب کہ اولیاءکرام اللہ کو منانے میں"۔

میں نے احترام سے جواب دیا، "بابا جان، میں نے کب ولیوں کا انکار کیا؟ میں تو صرف صحیح فکر آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ قرآن کے مطابق، جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کیا، وہی اللہ کا ولی ہے۔ درجے عمل کے مطابق ہوں گے۔ جیسا کہ فرمایا: "ان اكرمكم عند الله اتقاكم" (الحجرات: 13)۔ تم میں سب سے زیادہ معزز اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ نبی ﷺ نے بھی فرمایا: "اتق الله حيثما كنت" (سنن ترمذی، صحیح)۔ جہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈرتے رہو۔ یہی تقویٰ ولی بناتی ہے"۔

میں نے بات جاری رکھی، "دوسری بات بابا جان، نبی تو یہ فرما سکتا ہے کہ مجھے اللہ نے نبی بنایا، میرے پاس وحی آتی ہے، فرشتہ آتا ہے۔ لیکن ولی کو "مقام ولایت" کا سرٹیفکیٹ کون دیتا ہے؟ کس نے یہ یقین دہانی کرائی کہ فلاں بزرگ قبر میں بھی بچائیں گے اور قیامت کے دن شفاعت کریں گے؟ کیا یہ سرٹیفکیٹ ان کے مریدین نے خود ہی جاری نہیں کر دیا؟"

میرے بھائی طاہر، جو اب تک خاموش تھے، غصے میں بھرے ہوئے بولے، "اللہ کے ولیوں پر الہامات ہوتے ہیں، کشف ہوتا ہے۔ حدیث میں ہے نبی ﷺ نے فرمایا: "ان من عباد الله من لو اقسم على الله لابره" (صحیح بخاری)۔ اللہ کے بندوں میں سے کچھ ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کی قسم کھا لیں تو اللہ انہیں سچا کر دیتا ہے۔ یہ ان کی کرامت ہے"۔

میں نے نرمی سے کہا، "بھائی جان، یہ حدیث تو ان کے تقویٰ اور اللہ سے ان کے قریب ہونے کی دلیل ہے، نہ کہ یہ کہ وہ فیصلے کرنے یا شفاعت کی ضمانت دینے کے مجاز ہیں اور رہی بات کشف و الہام کی، تو وحی کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔ ایک مومن کو سچا خواب آ سکتا ہے، لیکن وہ بھی تب پتہ چلے گس جب وہ خواب پورا ہو جائے۔ ہر شخص حالات و واقعات کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔ اللہ کسی کے سینے کو حق کے لیے کھول سکتا ہے، مگر یہ نجی معاملہ ہے، دین کا حصہ نہیں بنا جا سکتا"۔

میری بہن مہک بولیں، "لیکن اللہ کے ولی قبر اور قیامت کے دن شفاعت کریں گے۔ کیا آپ ان حدیثوں کو بھی جھٹلا دیں گے؟"

"نہیں آپی، ایسا نہیں ہے۔ شفاعت کا حق اللہ نے اپنے پاس رکھا ہے۔ قرآن میں بار بار صاف کہا گیا ہے: "من ذا الذي يشفع عنده الا باذنه" (البقرہ: 255)۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر شفاعت کر سکے؟ اور "يومئذ لا تنفع الشفاعة الا من اذن له الرحمن ورضي له قولا" (طہ: 109)۔ اس دن شفاعت کسی کے کام نہ آئے گی سوائے اس کے جسے رحمن نے اجازت دے دی ہو اور جس کی بات سے وہ راضی ہو۔ تو شفاعت کا مکمل اختیار اللہ کا ہے۔ وہ جسے چاہے گا، اپنی مرضی سے، اجازت دے گا۔ کوئی دھونس زبردستی سے کسی کو نہیں بخشوا سکتا"۔

میرے بھائی احسان پھر غصے میں بھر گئے، "دیکھا! میں نے کہا تھا یہ وہابی ہوگیا ہے!"

میرا لہجہ مضبوط تھا، "بھائی، میں وہابی نہیں ہوا۔ میں نے قرآن و حدیث پڑھی ہے۔ اب اگر قرآن و حدیث کی یہ باتیں وہابیوں سے مل رہی ہیں، تو کیا وہابیوں سے نفرت میں، میں قرآن کی بات چھوڑ دوں؟ کیا میں اللہ کی کتاب کو کسی گروہ کی غلطیوں سے آلودہ سمجھوں؟ کیا حق کا تعلق کسی گروہ سے ہے یا حق صرف حق ہے؟"

احسان بولا، "ضرغام تم نے انوکھا قرآن و حدیث پڑھ لیا ہے۔ کیا ہمارے علماء نے نہیں پڑھا؟ آخر وہ خود جہنم جانا چاہتے ہیں؟ کیا ہمارے بزرگ غلط تھے؟"

میرا چہرہ سنجیدہ ہوگیا۔ میں نے دھیمے پر اثرانگیز لہجے میں کہا، "بھائی جان، یہ بات سمجھنی ضروری ہے کہ دین میں بگاڑ کبھی اچانک نہیں آتا۔ یہ نسل در نسل آہستہ آہستہ آتا ہے۔ جب لوگ اللہ کے احکام کے بجائے اشخاص کو دین کا مرکز بنا لیتے ہیں، تو یہی ہوتا ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ پچھلی قوموں میں یہی ہوا۔ انہوں نے نیک لوگوں کو حد سے بڑھا کر ماننا شروع کر دیا، یہاں تک کہ وہی عقیدت آگے چل کر عبادت کی شکل اختیار کر گئی۔ "وقالوا لا تذرن الهتكم ولا تذرن ودًا ولا سواعًا ولا يغوث ويعوق ونسرا" (نوح: 23) اور کہنے لگے: تم اپنے معبودوں کو مت چھوڑنا، نہ ودّ کو، نہ سواع کو، نہ یغوث کو، نہ یعوق کو اور نہ نسر کو۔ یہ سب درحقیقت نیک لوگ تھے جن کی تعظیم میں انہوں نے ان کی مورتیں بنا لیں"۔

میں تھوڑا رکا، پھر بولا، "جب کوئی شخصیت مرکز بن جائے تو اس کے غیر شرعی اعمال بھی شریعت سمجھے جانے لگتے ہیں، حالانکہ نبی کے سوا کوئی معصوم نہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "وايامكم ومحدثات الامور، فان كل بدعة ضلالة" (سنن ابو داؤد، ترمذی، صحیح)۔ خبردار! نئی ایجادات سے بچو، کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے۔ بدعت کا آغاز ہمیشہ عقیدت اور اچھی نیت سے ہوتا ہے، مگر چونکہ وہ دین میں نئی بات ہوتی ہے، اس لیے ہر آنے والی نسل اس میں اپنی طرف سے اضافہ کرتی رہتی ہے۔ اسی لیے قرآن نے تنبیہ کی: "اتخذوا احبارهم ورهبانهم اربابا من دون الله" (التوبہ: 31)۔ انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا۔ یعنی ان کی بات کو بغیر دلیل مان لیا۔ مسئلہ یہ نہیں کہ علماء یا بزرگ ہمیں جان بوجھ کر گمراہ کرتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب دین دلیل کے بجائے عقیدت پر چلنے لگے، تو نیک نیتی کے باوجود بھی گمراہی جنم لیتی ہے اور نجات کا معیار پھر بھی وہی رہتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے مقرر کیا ہے"۔

احسان اچانک کھڑے ہو گئے، غصے سے لال پیلا ہوتے ہوئے بھنبھنائے، "تم اور تمہاری تاویلیں! صاف مطلب ہے تم ہمیں گمراہ سمجھتے ہو، بدعتی سمجھتے ہو، مشرک سمجھتے ہو اور خود کو قرآن و سنت کا وارث! میں چلتا ہوں"۔

یہ کہہ کر وہ تیزی سے کمرے سے نکل گئے۔ ان کے بعد ایک بھاری خاموشی پھیل گئی۔ ہر کوئی مجھے ایسے دیکھ رہا تھا جیسے میں کوئی مجرم ہوں۔

طاہر بھائی نے تلخ لہجے میں کہا، "ضرغام، جب انسان زیادہ پڑھ لکھ جاتا ہے تو دماغ میں ایسی شیطانیت آ جاتی ہے۔ اپنوں کو گمراہ سمجھنے لگتا ہے"۔

میں نے دیکھا کہ زہرا شرمندگی اور رونے کے قریب ہے۔ اس کے اپنے والدین ہکا بکا بیٹھے تھے، شاید پہلی بار میری اس شدت سے بات چیت سن رہے تھے۔

بہرحال، آہستہ آہستہ سب لوگ خاموشی سے کمرے سے نکلنے لگے۔ میں خاموش کھڑا رہا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ایسے حالات کو کیسے ہینڈل کرنا ہے۔ فی الحال خاموشی ہی میں عافیت نظر آ رہی تھی۔

آخری مہمان بھی رخصت ہو گئے تھے۔ مگر مجھے اب احساس ہو رہا تھا کہ بات اب محض گھر تک محدود نہیں رہی۔ یہ پورے خاندان، بلکہ پورے سماجی حلقے کا سامنا تھا۔ یہ جنگ اب خاموش جنگ نہیں رہی تھی۔ یہ کھلی جنگ کا اعلان تھا۔

میں اکیلا کمرے میں رہ گیا۔ میری نظر قرآنِ پاک کی طرف گئی جو میری میز پر پڑا تھا۔ میں اس کے پاس گیا، اسے ہاتھ میں لیا۔ اس کی جلد کو چھوا۔ یہی تو میرا واحد سہارا تھا۔ یہی میرا راستہ، میرا نور تھا۔ میں نے دل ہی دل میں پھر دعا کی:

"اے میرے رب، تو ہی جانتا ہے کہ میرا دل کس کشمکش میں ہے۔ میں نے اپنے پیاروں کو جھڑکا نہیں، انہیں سمجھانے کی کوشش کی ہے تیری کتاب اور تیرے رسول کی سنت سے۔ اگر میں نے کوئی غلطی کی ہو تو مجھے معاف فرما اور مجھے اس راہ پر ثابت قدم رکھ جس پر تو راضی ہے۔ میرے خاندان کے دلوں کو نرم فرما۔ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے"۔

رات گہری ہو رہی تھی۔ لیکن مجھے معلوم تھا کہ میرا سفر ابھی شروع ہوا ہے اور اس سفر میں، میرا زادِ راہ صرف اور صرف اللہ کی ذات، اس کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت تھی۔ باقی سب کچھ اس راہ کی آزمائشیں تھیں۔۔

جاری ہے۔۔

Check Also

Duaon Ka Khazana

By Rao Manzar Hayat