Monday, 02 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Rizwan Akram
  4. Wali Ullah (10)

Wali Ullah (10)

ولی اللہ (10)

میں نے اپنا سارا سونا، جو زندگی کی ضرورت تھا، بیچ دیا۔ کوئی ساڑھے چار تولے بنا اور اس سرمائے سے ایک پرانی مگر قابلِ اعتماد 1000 سی سی کار خرید لی۔ لاہور جیسے بڑے شہر میں یہ کار میرا روزگار بن گئی۔ میں نے اسے رینٹ پر چلانا شروع کیا۔ صبح سویرے نکلتا، دن کے پانچ چھے گھنٹے شہر کے مختلف حصوں میں گزارتا اور روزانہ دو ہزار روپے کی کمائی ہو ہی جاتی۔ یہ رقم معمولی تھی، مگر یہ میری محنت اور آزادی کا پہلا ثمر تھی۔ ہر روپیہ مجھے یہ باور کراتا کہ میں اب کسی کے احسان کا محتاج نہیں، بلکہ اپنے رب کے وعدے پر چلنے والا ایک آزاد بندہ ہوں۔

اب گھر میں کوئی روک ٹوک نہیں تھی، میں سکون سے مولانا احمد کی خدمت میں قرآن و سنت سیکھتا تھا۔ گھر میں زہرہ کے ساتھ بھی یہ سلسلہ جاری تھا۔ رات کے پرسکون لمحات میں ہم اکٹھے بیٹھتے، قرآن پاک کی تلاوت کرتے اور احادیث مبارکہ پر غور کرتے۔ زہرہ بھی دین سیکھنے میں میری ساتھی بن گئی تھی۔ یہ ایک چھوٹا سا گھر تھا، مگر اس میں ایمان کا سکون اور علم کی روشنی بسی ہوئی تھی، جو کسی محل سے کم نہیں تھی۔ ایک دن، اپنے والد صاحب کی پرانی دکان کے پاس سے گزر ہوا۔ دل چاہا، ان سے مل لوں، خیریت پوچھ لوں۔ میں دکان میں داخل ہوا۔ انہوں نے مجھے دیکھا اور فوراً منہ پھیر لیا، دل پر چوٹ لگی، میں پیار سے ان کے پاس گیا اور انہیں جپھی میں لے لیا۔ "بابا جان"، میں نے دھیمے لہجے میں کہا، "آپ مجھے جتنا دھتکاریں، میں آپ کو چھوڑ نہیں سکتا۔ آپ میرے باپ ہیں۔ آپ کے بغیر میری کوئی زندگی نہیں"۔ میرے اس نرم رویے پر ان کی آنکھیں نم ہوگئیں، اگرچہ انہوں نے کچھ نہیں کہا۔

اسی دوران طاہر بھائی، جو میرے چچا زاد بھائی ہیں، وہاں آ گئے۔ "ارے ضرغام! اچھا کیا تم آ گئے۔ ہمارا گھر تو تمہارے جانے کے بعد رونے دھونے کا مرکز بن چکا ہے۔ امی جان تو ہر وقت تیرا نام لے لے کر روتی رہتی ہیں۔ سنو، آج ہر حالت میں گھر آنا ہے۔ تمہیں پتہ ہے، امی تم سے بہت اداس ہیں۔ کیسے بیٹے ہو تم؟ ماں کی یاد تک نہیں آتی؟" ان کی باتوں نے میرے دل کو دہرے کر دیا۔ میں نے کہا، "طاہر بھائی، کیا بتاؤں۔ امی جان تو ہر پل میری آنکھوں کے سامنے رہتی ہیں۔ یہ دل ہی سمجھے"۔

اگلے دن شام کو، زہرہ کے ساتھ، میں گھر کی طرف چل پڑا۔ وہ راستہ، وہ کوچہ، وہ دروازہ۔۔ سب کچھ وہی تھا، مگر اب سب کچھ نیا نیا لگ رہا تھا۔ تایا ابو گھر کے دروازے کے باہر کھڑے تھے۔ انہوں نے مجھے دیکھا اور بغیر کچھ کہے اپنے گھر چلے گئے۔ محلے کے ایک پڑوسی نے شرماتے ہوئے سلام کیا، میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ گھر میں داخل ہوتے ہی وہ منظر تھا جس کی توقع تھی۔ امی جان دروازے کے پاس ہی کھڑی تھیں، جیسے کسی کا انتظار کر رہی ہوں۔ مجھے دیکھتے ہی وہ لپک کر میرے گلے سے لگ گئیں اور زور زور سے رونے لگیں۔ "میرے بیٹے۔۔ میرے لال۔۔ " پھر اپنے ہی ہاتھوں سے میری پیٹھ پر ہلکی سی چپت لگائی، "کتنے سخت دل ہو تم؟ اتنے دن ماں کا حال تک نہیں پوچھا؟ کیا ہوگیا تھا اگر باپ نے غصے میں کچھ کہہ دیا؟ وہ تمہارے باپ ہیں نا!"

رات گئے تک گھر کے سب لوگ آ گئے۔ بھائی، بھابھی، چچا۔۔ سب۔ چائے کے دور چلے، باتیں ہوتی رہیں۔ ماضی کی تلخیوں کا ذکر نہیں تھا، بس ایک دوسرے کی موجودگی کا سکون تھا۔ رات دس بجے، میں نے اٹھ کر امی اور ابو سے کہا، "امی، ابا، مجھے اجازت دیں، میں چلتا ہوں"۔

یہ سنتے ہی طاہر بھائی بول اٹھے، "کدھر؟ تم ادھر ہی رہو گے آج رات"۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا، "نہیں بھائی، میں اپنے گھر جاؤں گا"۔ "اپنے گھر؟ کون سا اپنے گھر؟ ییہی تمہارا گھر ہے!" بھائی نے اصرار کیا۔

میں نے نرمی سے، مگر ٹھوس لہجے میں وضاحت کی، "بھائی، اب میں وہاں ٹھیک ہوں۔ ایک الگ گھر ہے، اپنی ذمہ داریاں ہیں۔ میں آتا جاتا رہوں گا، امی ابو سے ملتا رہوں گا"۔ پھر میں نے والدین کی طرف رخ کرتے ہوئے کہا، "امی، ابا، مجھے مت روکنا۔ میں دین سیکھ رہا ہوں اور میں بہت سکون سے ہوں۔ آپ سے جدا ہونے کا تو خیال بھی میری ہمت کے باہر ہے۔ مگر اب میرا ایک راستہ ہے اور میں اس پر چلنا چاہتا ہوں"۔

کچھ دیر خاموشی چھائی رہی۔ امی کی آنکھوں میں آنسو تھے، ابو کا چہرہ سنجیدہ تھا۔ پھر، اللہ جانے کیسے، مگر میرے دل نے محسوس کیا کہ اجازت مل گئی ہے۔ ابو نے ہلکا سا سر ہلایا، جو شاید منظوری تھی، یا بس ایک تسلیم کر لینا تھا کہ اب سب کچھ بدل چکا ہے۔

امی مجھے دروازے تک چھوڑنے آئیں۔ رات کی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ انہوں نے میرا ہاتھ تھاما اور انتہائی خفیف آواز میں، جیسے کوئی راز بتا رہی ہوں، کہا، "بیٹا۔۔ میں بھی اب قرآن سیکھ رہی ہوں۔ تمہاری باتیں۔۔ واقعی ٹھیک ہیں"۔ پھر انہوں نے مسکراتے ہوئے، آنکھوں میں چمک لاتے ہوئے کہا، "مگر اب چپ رہنا۔ تمہارے بابا کو پتا نہ چلے، ورنہ مجھے ہی نہ نکال دیں"۔

یہ ایک معمولی جملہ نہیں تھا۔ یہ میرے صبر کا پھل تھا، میری آنکھیں بھر آئیں۔ میں نے ان کے ہاتھوں کا بوسہ لیا۔ دل میں اطمینان تھا۔ راستہ اب بھی کانٹوں بھرا تھا، مگر اب اس پر چلنے والے اکیلے نہیں تھے اور اب تو گھر کے سب سے مقدس مقام، ایک ماں کے دل میں بھی، حق کی ایک چنگاری سلگ چکی تھی، یہ اللہ کا فضل تھا۔ فرمانِ الٰہی یاد آیا: "وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهُدِيَنَّهُمُ سُبُلَنَا" (اور جو ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں، ہم انہیں اپنے راستے دکھا دیتے ہیں۔ العنکبوت: 69)۔

اگلے دن کی شام تھی جب میں مولانا احمد صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ان کے چہرے پر ایک غیر معمولی سنجیدگی تھی، جیسے کوئی اہم ترین معاملہ زیرِ بحث آنے والا ہو۔ چائے کے پہلے گھونٹ کے بعد ہی انہوں نے بات کا آغاز کیا اور ان کے الفاظ میں ایک ایسی گہرائی اور گیرائی تھی جو دل کی گہرائیوں تک اتر جاتی تھی۔

"ضرغام بیٹا"، انہوں نے آہستہ سے کہا، "تم نے توحید کا راستہ اختیار کیا ہے اور یہ بہت بڑی نعمت ہے۔ مگر اب وقت آ گیا ہے کہ تم اس راستے کی حقیقی وسعتوں اور چیلنجوں کو سمجھو۔ دین کو انفرادی ہی نہیں بلکہ اجتماعی نظر سے دیکھو۔ پاکستان میں بہت سے مافیاز ہیں، جن میں مذہب کو استعمال کرنے والا تو صرف ایک مافیا ہے جبکہ یہاں کا نظامِ زندگی اتنا گل سڑ چکا ہے کہ ایک کے بعد ایک مافیا اس ملک کی مظلوم عوام کو نہ صرف لوٹ رہا ہے، بلکہ ان کی نسلوں کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ یہاں ہر قدم پر، ہر شعبے میں ایک مافیا بیٹھا ہے جو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر حربہ استعمال کرتا ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ دین، جو ہدایت اور نجات کا سرچشمہ ہے، اسے بھی یہاں کمائی کا ایک بہت بڑا ذریعہ بنا لیا گیا ہے"۔

مولانا صاحب کی آواز میں درد تھا، مگر اس درد کے پیچھے ایک واضح تجزیہ بھی تھا۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھی، "اگر واقعی دین کا کام کرنا ہے، تو ہماری سوچ اور عمل دونوں کو ہر سطح پر فعال ہونا ہوگا۔ ہم صرف ایک عقیدے کی اصلاح تک محدود نہیں رہ سکتے۔ دیکھو، ایک طرف فحاشی اور عریانی کا ایک طغیانی آمیز سیلاب ہے جو ہمارے گھروں، ہمارے موبائل اسکرینز تک کو بہا لے جا رہا ہے۔ دوسری طرف غربت اور مہنگائی کے مارے ہوئے لوگ ہیں۔ انہی غریبوں کے خون پسینے کی کمائی پر سودی بینکاری کے محل کھڑے ہو رہے ہیں، جو ترقی پر ترقی کر رہے ہیں۔ ذخیرہ اندوز، قلت پیدا کرنے والے، ملاوٹ کرنے والے، ان سب کو کون پوچھے؟ پوچھنے والے ہی تو سارے دھندے میں مصروف ہیں۔ ہماری بیوروکریسی کی لوٹ مار، ہمارے سیاستدانوں کا اخلاقی اور قومی دیوالیہ پن، ہر کوئی اس ملک کو، اس کی دولت کو لوٹ کر یورپ کے محفوظ ٹھکانوں کی طرف بھاگنے کو تیار بیٹھا ہے"۔

ان کی نگاہیں گہری ہوگئیں، جیسے وہ مستقبل کے کسی خوفناک منظر کو دیکھ رہے ہوں۔ "آج کا سب سے بڑا آسیب، سب سے بڑا فتنہ، صرف شرک ہی نہیں، بلکہ ارتداد ہے۔ سوشل میڈیا اور جدید میڈیا نے ہماری نوجوان نسل کو اخلاقیات اور ایمان دونوں لحاظ سے تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ لوگ نہ صرف خدا کو بھول رہے ہیں، بلکی اس کے وجود ہی کے منکر ہوتے جا رہے ہیں۔ مادیت پرستی نے ان کی روحوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ مغربی تہذیب اپنے تمام تر فکری اور ثقافتی ہتھیاروں کے ساتھ ہمارے معاشرے کے خون میں اتر چکی ہے، اس کے پنجے ہماری بنیادوں میں گڑھ چکے ہیں اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے جو لوگ اسلام کے پہرے دار اور علمبردار بننے تھے، وہ یا تو اقتدار کی راہداریوں میں اپنے مفادات گم کر چکے ہیں، یا پھر فرقہ وارانہ تنگ نظری میں الجھ کر اپنی اصل ذمہ داری بھول گئے ہیں"۔

وہ ایک لمحے کے لیے رکے، پھر انتہائی واضح لہجے میں بولے، "ضرغام، یہ سمجھ لو۔ آج پاکستان میں اسلام کا نظام صرف کاغذوں پر، ہمارے آئین کی ایک شق کی حد تک زندہ ہے۔ حقیقت میں تو یہاں وہی استعماری، گوروں کا بنایا ہوا نظام چل رہا ہے جس کی بنیاد ہی استحصال اور ناانصافی پر ہے۔ ہماری حثیت آج بھی اسی غلام کی سی ہے۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ ہم واقعی آزاد ہوئے تھے؟ ہم نے تو محض آقا بدلے ہیں"۔

مولانا صاحب نے اپنی بات کو ایک نتیجہ کی طرف موڑتے ہوئے کہا، "ضرغام صاحب، مشنِ دین کوئی عام یا آسان کام نہیں ہے۔ یہ دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ اتنا مشکل کہ اللہ رب العزت کو اس کے لیے انبیاء و رسل بھیجنے پڑے اور ہر نبی کے ساتھ، ہر قدم پر، فرشتوں کے ذریعے رہنمائی اور مدد کا سلسلہ جاری رکھنا پڑا۔ یہ راستہ انتہائی درجے کا صبر آزما راستہ ہے۔ اس پر چلنے کے لیے تمہیں دنیا کی بیشتر آسائشوں، راحتوں اور خواہشوں کو دل سے چھوڑنا ہوگا۔ سادگی اور قناعت کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہونا ہوگا۔ یہ صرف ایک عقیدے کی دعوت نہیں، یہ ایک مکمل نظامِ حیات کے نفاذ کی جدوجہد ہے۔ اس کے لیے تمہیں لڑنا ہوگا۔ علم اور عمل، حکمت اور صبر، استقامت اور جرات کے ہتھیاروں سے لیس ہو کر لڑنا ہوگا"۔

انہوں نے میری آنکھوں میں گہرائی سے دیکھا، جیسے میرے ارادوں کو پرکھ رہے ہوں۔ "اب تمہیں فیصلہ کرنا ہے۔ کیا بس یہی مقصد ہے کہ درباروں کو برا کہہ کر، فرقہ پرست مولویوں کو لتاڑ کر اپنے آپ کو ایک "توحید پرست" کہلوانا ہے؟ یا پھر تم اس توحید کے حقیقی خادم بننے کو تیار ہو، جو صرف زبان پر نہیں، بلکہ پورے وجود، پوری زندگی اور پوری جدوجہد کا نام ہے؟ کیا تم اس راستے پر چلنے کو تیار ہو جس پر چل کر انبیاء علیہم السلام چلے، جس میں تکالیف اور آزمائشیں ہی آزمائشیں ہیں، مگر جن کا انجام جنت کی بہاریں اور اللہ کی رضا ہے؟"

ان کی آواز میں ایک چیلنج تھا، ایک للکار تھی۔ "سوچو، غور سے سوچو اور اگر واقعی تیار ہو، اگر تمہارے دل میں محض ردعمل نہیں بلکہ ایک مثبت، تعمیری انقلاب کا جذبہ موجزن ہے، تو میں تمہاری ملاقات چند ایسے نوجوانوں سے کرواؤں گا جو اسی سوچ اور جذبے سے سرشار ہیں۔ تم مل کر نہ صرف ایک دوسرے کا سہارا بنو گے، بلکہ منصوبہ بندی کے ساتھ دین اسلام کے غلبے کے لیے کام کرو گے۔ صرف ملکی سطح پر نہیں، بلکہ عالمی سطح پر اس نور کو پھیلانے کے لیے۔ کیونکہ اسلام کی دعوت ہمیشہ سے عالمگیر رہی ہے: "قُلُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيُكُمُ جَمِيعًا" (کہہ دیجیے: اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔ الاعراف: 158)"۔

مولانا صاحب کا خطاب ختم ہوا، مگر ان کے الفاظ ہوا میں گونجتے رہے۔ یہ محض ایک گفتگو نہیں تھی، یہ ایک امتحان تھا، ایک نئے دور میں داخل ہونے کا دروازہ تھا۔ کیا میں واقعی اس کے لیے تیار تھا؟ کیا میرے اندر وہ استقامت تھی؟ یہ سوال میرے ذہن میں گردش کرنے لگے اور میں جانتا تھا کہ اب میرے سامنے دو ہی راستے تھے: ایک آرام دہ، محدود توحید کی راہ اور دوسرا وہ دشوار گزار راہ جس پر چل کر تاریخ بدلی جا سکتی ہے۔

Check Also

Wo To Khushbu Hai Hawaon Mein Phail Jaye Gi

By Azhar Hussain Azmi