Saturday, 31 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Rizwan Akram
  4. Tableeghi

Tableeghi

تبلیغی

عرفان کی موت کے بعد میرے اندر ایک عجیب بے قراری اور پختگی دونوں پیدا ہوگئی تھی۔ خالی پن تھا تو عزم بھی تھا۔ میں اب ہر چیز کو قرآن و حدیث کی کسوٹی پر پرکھنے لگا۔ ایک دن جمعہ کی نماز کے بعد گھر لوٹا تو دیکھا کہ زہرا نے گلے میں بڑا سا کالا تعویز باندھا ہوا تھا میں نے پوچھا یہ کیوں لٹکایا ہے تو کہنے لگی پیر صاحب نے کہا اسکو سات دن گلے میں لٹکانا ہے اس سے بیٹا پیدا ہوگا۔ میں نے کہا زہرا کیا آپ نے سورہ شوری کی آیت 49 اور 50 کا ترجمہ نہیں پڑھا جس میں اللہ فرماتا ہے اولاد دینے کا سارا اختیار اسکا ہے۔

میں نے واضح لہجے میں کہا، "زہرا، امی، یہ سب دھاگے، لوبان، یہ کالی ٹیکہ، یہ سب جادو ٹونے، تعویذ گنڈے جیسی چیزیں ہیں۔ اسلام میں ان کی کوئی جگہ نہیں۔ یہ شرک کے دروازے ہیں"۔ یہ ہمیں کوئی نفع نقصان نہیں دیتیں مگر ہمارے ایمان پہ ڈاکہ ضرور ڈالتی ہیں کیا تم نے نہیں پڑھا "وان يمسسك الله بضر فلا كاشف له الا هو" (الأنعام: 17) اور اگر اللہ آپکو تکلیف دینا چاہے تو کوئی تمہیں اس نقصان سے نہیں بچا سکتا۔

زہرا کے چہرے پر اچانک غصہ اور حیرت کی ملی جلی کیفیت طاری ہوگئی، جیسے اس پر پانی پھیر دیا گیا ہو۔ "تم ہر چیز میں اعتراض کیوں کرتے ہو؟ یہ ہمارا عقیدہ ہے، ہمارے بزرگوں کا طریقہ ہے۔ صدیوں سے ہمارے خاندان میں یہی چلا آ رہا ہے۔ تم کون ہوتے ہو اسے غلط کہنے والے؟ کیا تم بزرگوں سے زیادہ دین اسلام کو سمجھتے ہو؟"

ماں نے نرمی سے مداخلت کی، لیکن ان کی آواز میں ملامت تھی، "بیٹا، چھوڑو یہ باتیں۔ ہم نے تو ہمیشہ یہی کیا ہے، تمہارے دادا، پر دادا بھی یہی کرتے تھے۔ کیا ہماری ساری نسلیں غلط تھیں؟"

میرے سینے میں درد ہونے لگا۔ اپنے پیاروں کو جواب دیتے ہوئے کانپ رہا تھا۔ "امی، ہمارے نبی ﷺ نے تو جادو، ٹونے، جھاڑ پھونک، تعویذ گنڈے سب کو شرک قرار دیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "ان الرقى والتمائم والتولة شرك" (سنن ابو داؤد، صحیح)۔ بیشک جھاڑ پھونک، تعویذ گنڈے اور محبت کا جادو (یہ سب) شرک ہے۔ ہم صرف اللہ سے مدد مانگ سکتے ہیں۔ اس کے سوا کوئی نفع نقصان نہیں پہنچا سکتا"۔ باقی ہمارے بڑے جو فوت ہوچکے انکا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔

گھر میں ایک ٹھنڈی جنگ چھڑ گئی تھی، جہاں الفاظ کم تھے اور خاموشیوں میں الجھن اور رنج بہت تھا۔ زہرا نے مجھ سے بات کرنی کم کر دی، میرے ساتھ کھانا بھی خاموشی سے کھانے لگی۔ ماں بھی ناراض تھیں، وہ مجھے ٹوکتی کبھی کبھار دیکھتیں۔ صرف والد صاحب خاموش تھے، جو زیادہ تر اپنے کمرے میں رہتے یا کاروبار میں مصروف رہتے، مگر میں جانتا تھا کہ وہ بھی اندر ہی اندر کڑھ رہے ہیں، اپنے بیٹے کی اس نئی راہ پر جو خاندانی روایات کے برعکس تھی۔

مگر اس تجربے کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ مزید علم حاصل کروں گا اور اپنے خاندان سے بات کرنے کا کوئی دانشمندانہ طریقہ ڈھونڈوں گا۔ میں عرفان کے ساتھ ایک بار مسجد کے امام مولانا احمد سے ملا تھا۔ جو مجھے بہت اچھے لگے تھے۔ میں ان کے پاس گیا، جو شہر کے ایک پرانے مدرسے میں قرآن پڑھاتے تھے۔ امام صاحب سادہ زندگی گزارتے، کسی درگاہ یا بزرگی کے دعوے دار نہ تھے اور ان کا زور قرآن و سنت کی تعلیم پر تھا۔

اندر داخل ہوتے ہی میں نے گہرا سانس لیا۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے اشارہ کیا، "آؤ بیٹے، بیٹھو۔ تمہارا چہرہ بوجھل لگ رہا ہے۔

"میں نے جھٹ سے اپنا غبار نکال دیا امام صاحب، رہنمائی چاہیے۔ میری دنیا الٹی ہوتی جا رہی ہے"۔

"بتاؤ بیٹے، کیا معاملہ ہے؟"

"مولانا صاحب، میں ضرغام رئیس ہوں۔ ہمارا گھرانا روشن پور کے کاروباری حلقوں میں معروف ہے۔ ہم پانچ بہن بھائی ہیں۔ میرا بڑا بھائی فرنیچر کا کارخانہ چلاتا ہے۔ دوسرے بھائی کا اپنا کپڑے کا کاروبار ہے۔ میری دو بہنیں ہیں، جو اپنے گھروں میں آباد ہیں۔ میرے والد صاحب بھی کپڑے کا بہت بڑا ہول سیل اور ریٹیل کا کاروبار کرتے ہیں۔ میری اپنی شادی بھی اسی شہر کے ایک بڑے تاجر کی بیٹی سے ہوئی ہے۔ مختصراً، اللہ نے دنیاوی رزق میں ہمیں کوئی کمی نہیں رکھی"۔

مولانا نے سر ہلایا، "اللہ کا شکر ادا کرو۔ پھر پریشانی کس بات کی ہے؟"

میں نےاپنی بات جاری رکھی، "رزق کی فراوانی ہے، مگر میرے ذہن میں ایک قحط الرجال طاری ہے، امام صاحب۔ ہماری سب کی تعلیم جدید سکولوں، کالجوں میں ہوئی۔ مگر مذہبی تعلیم محض بچپن میں قاری صاحب سے قرآن پڑھنے تک محدود رہی۔ نماز کی عادت بھی کچھ مضبوط نہیں تھی، حالانکہ میرے والدین باقاعدگی سے نماز پڑھتے ہیں۔ ہمارا سارا مذہبی عمل، سارا عقیدہ چند رسومات کے گرد گھومتا ہے۔ ہر سال بڑی دھوم دھام سے محفل میلاد، بڑے لنگر، گیارہویں کے چاول بانٹنا۔۔ والد صاحب فرماتے ہیں کہ اس دن فلاں بزرگ کا وصال ہوا تھا"۔

مولانا نے غور سے سنتے ہوئے کہا، "یہ تو نیکی کے کام ہوئے۔ غریبوں کو کھانا کھلانا بڑا اجر رکھتا ہے"۔

"امام صاحب مگر سوال تو طریقے کا ہے، ہمارا پورا شہر، ہمارا خاندان، ایک خاص عقیدے پر کاربند ہے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ جو بزرگ وفات پا گئے، وہ اپنی قبور میں زندہ ہیں۔ وہ ہماری سنتے ہیں، ہماری مرادیں پوری کرتے ہیں۔ ہمارا یقین ہے کہ وہ اللہ کے ہاں ہماری سفارش کراتے ہیں، ہماری حاجات پوری کرواتے ہیں۔ ہم کسی بھی مشکل، بیماری یا حاجت کے وقت براہ راست اپنے پیر، اپنے مرشد کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ ان کے عرس ہر سال عبادت کے جوش و خروش سے منائے جاتے ہیں، جس میں مالی تعاون اور حاضری دونوں شامل ہوتی ہیں"۔

امام صاحب بڑی اطمینان سے میری بات سن رہے تھے، "ہمارا عقیدہ ہے کہ ہمارے مرشد "ولایت" کے بلند مقام پر فائز ہیں۔ یہ مقام ہر کسی کو نہیں ملتا۔ انہوں نے بڑی ریاضتیں کی ہیں، کسی بڑے بزرگ کی نظرِ کرم ان پر پڑی اور وہ "مقبول بارگاہِ الٰہی" ہو گئے۔ اس لیے وہ قبر میں بھی ہمیں بچائیں گے اور قیامت کے دن بھی ہماری شفاعت کریں گے۔

اگر بزرگوں کا یہ حال ہے، تو نبی کریم ﷺ اور حضرت علیؓ کے بارے میں ہمارا عقیدہ کیا ہوگا؟ ہم تو انہیں ہر جگہ حاضر و ناظر سمجھتے ہیں، ہر مشکل میں انہیں پکارتے ہیں۔ ہم اپنے مرشد کی اولاد کو بھی معمولی انسان نہیں سمجھتے۔ وہ ہم سے اعلیٰ ہیں، کیونکہ وہ "اولادِ ولی" ہیں"۔

رک کر گلا صاف کیا۔ مولانا کی آنکھوں میں گہری سوچ تھی، وہ بغیر کچھ کہے سنتے رہے۔

"مولانا صاحب، میں بچپن سے ہی ان باتوں پر سوچتا تھا۔ اسلام تو مساوات کا درس دیتا ہے، پھر یہ "خاکِ پا" اور "اعلیٰ و ادنیٰ" کے درجات کیوں؟ قرآن تو کہتا ہے کہ تم میں سے سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ "ان اكرمكم عند الله اتقاكم" (الحجرات: 13)۔ پھر یہ "ولایت" کا ٹیگ صرف چند خانوادوں کے لیے مخصوص کیوں؟ میں کیوں ولی اللہ نہیں بن سکتا اگر میں تقویٰ اختیار کروں؟ اسلام سادگی کی تعلیم دیتا ہے۔ پھر یہ "اولیاء اللہ" لینڈ کروزر میں کیوں سفر کرتے ہیں؟ ان کے یورپ اور امریکہ میں بنگلے کیوں ہیں؟ یہ کون سی روحانی سادگی ہے؟

سب سے بڑا سوال: آخر انہیں "ولی اللہ" ہونے کا سرٹیفکیٹ کس نے دیا؟ کس نے یقین دہانی کرائی کہ یہی لوگ بخشے ہوئے ہیں اور یہی شفاعت کریں گے؟ جو مزاروں میں دفن ہیں، ان کے "بخشے بخشائے" ہونے کا فیصلہ کس نے کیا؟"

میرا لہجہ جذباتی ہوگیا، "یہ سوال میرے ذہن میں کھدبداتے رہے، مگر جواب کہیں نہیں ملتا تھا۔

پھر میرے ایک دوست عرفان کی بدولت، میں نے قرآن کو سمجھ کر پڑھنا شروع کیا۔ ایسا لگا جیسے قرآن میرے اپنے دل کی بات کر رہا ہے۔ قرآن تو صالحین، متقین کی صفات بتاتا ہے اور وہ یہ بھی کہتا ہے کہ یہ بلند مقام ہر اس شخص کے لیے ممکن ہے جو تقویٰ اور اخلاص اختیار کرے۔ مگر نبی وہ نہیں بن سکتا، کیونکہ نبوت کا سلسلہ ختم ہو چکا، مگر صالحین اور اللہ کے مقرب بندے تو ہر دور میں ہوتے رہیں گے۔

میں نے جب قرآن و حدیث سمجھ کر اپنے عقائید کی اصلاح کی تو بہت سارے عقائید اہلحدیث سے موافق نظر آنے لگے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ انہی سے ہمیں بچپن سے نفرت سکھائی گئی تھی، انہیں کافر، گمراہ قرار دیا جاتا تھا۔ مگر جب میں نے چار پانچ سال کی ذاتی محنت سے دین کو سمجھنے کی کوشش کی، تو ایک بات واضح ہوئی کہ دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث، اہل تشیع۔۔ یہ سب مسلمان بھائی ہیں۔ ہر گروہ میں کہیں کمزوریاں ہیں، کہیں بدعات ہیں، کہیں شرکیہ خیالات ہیں، مگر بنیادی طور پر یہ سب "مسلمان" کے دائرے میں آتے ہیں۔ میرے سامنے ایک اہم سوال تھا: کیا میں اپنے پہلے سے موجود عقائد کو قرآن و حدیث سے ثابت کرنے کی کوشش کروں، یا پھر قرآن و صحیح حدیث کو سامنے رکھ کر اپنے عقائد ازسرِنو تشکیل دوں؟ میرے نزدیک ایمان کا تقاضہ دوسرا راستہ تھا"۔

اب آواز میں مایوسی گھلنے لگی، "پہلے پہل گھر میں کسی کو شک تک نہ گزرا۔ مگر جب میں نے گھریلو محافل میں، اپنی بیوی زہرا سے، چھوٹی چھوٹی بدعات، تعویذ گنڈے، قبر پرستی پر آہستہ آہستہ روک ٹوک شروع کی، تو سب کی نظریں بدل گئیں۔ اب مجھے شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ میرے لیے "وہابی" کا لیبل لگ چکا ہے۔ میں ان کے نزدیک "اولیاء کا منکر" بن گیا ہوں۔ وہ تمام الزامات جو عام طور پر "وہابیوں" پر لگائے جاتے ہیں، اب میرے اپنے گھر والے مجھ پر لگا رہے ہیں۔ مولانا صاحب، میں تنہا ہو چکا ہوں۔ میں اپنوں کے درمیان اجنبی بن کر رہ گیا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ میں حق پر ہوں، مگر اس حق کو پیش کرنے کا طریقہ، اس کسمپرسی کو برداشت کرنے کا حوصلہ۔۔ میں کھو چکا ہوں۔ مجھے بتائیے، اب میرا قدم اٹھے تو کس طرف؟"

آنکھیں نم ہوگئیں۔ میں نے اپنا سارا بوجھ ایک دانشمند کے سامنے رکھ دیا تھا۔ اب خاموش تھا، اپنے جذبات پر قابو پانے کی کوشش کر رہا تھا۔

مولانا نے مسکراتے ہوئے، اپنی لمبی سفید داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا، "بیٹا، اللہ تمہاری نیت (اخلاص) قبول فرمائے۔ جس اکثریت سے آپکا تعلق ہے مجھے انکے نظریات کا بخوبی علم ہے لیکن کیونکہ آپ رہنمائی کے لیے میرے پاس آئے ہو تو اخلاق کا تقاضہ تھا کہ آپکی بات پوری سنوں۔

لیکن بیٹا، تبلیغ کا طریقہ یہ نہیں کہ تم گھر میں تلوار لے کر گھس جاؤ اور سب کچھ تہس نہس کر دو۔ تمہیں حکمت سے کام لینا ہوگا۔ پہلے اپنے عمل سے، اپنے اخلاق سے، اپنی محبت سے ثابت کرو، پھر بات کرو۔ تمہاری نماز کی پابندی، تمہارا دعا میں سچا رونا، تمہارا والدین سے حسن سلوک، بیوی سے نرمی، یہی تمہاری سب سے بڑی اور مؤثر دعوت ہوگی۔ رسول اللہ ﷺ نے کس طرح مکہ میں 13 سال صبر کیا؟ لوگوں کو آہستہ آہستہ سمجھایا۔ یاد رکھو: "فبما رحمة من الله لنت لهم" (آل عمران: 159)، اللہ کی رحمت سے تم ان کے لیے نرم دل ہو گئے تھے"۔ القرآن - ادع الى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة اے نبی ﷺ، اپنے ربّ کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ، "(النحل 125)

میں نے پوچھا، "لیکن مولانا صاحب، وہ رسمیں، وہ بدعتیں، وہ شرکیہ امور جن میں وہ ملوث ہیں؟ کیا میں خاموش رہوں؟"

"نہیں بیٹا، خاموشی احتساب نہیں ہے۔ مگر موقع اور محل دیکھو۔ جب تمہیں قرآن کی کوئی واضح آیت، رسول ﷺ کی کوئی صریح حدیث سمجھ آئے، تو محبت کے ساتھ، نرمی سے ان کے سامنے پیش کرو۔ انہیں احساس دلاؤ کہ تم ان کی بھلائی چاہتے ہو، انہیں تنقید کا نشانہ نہیں بنا رہے اور سب سے اہم بات: ہر معاملے میں دعا کرو۔ دعا سے دل کھلتے ہیں"۔

گھر لوٹا تو دل ہلکا تھا اور میرے پاس ایک منصوبہ تھا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ مولانا کے بتائے ہوئے طریقے پر چلوں گا۔ پہلا قدم یہ اٹھایا کہ زہرا کے ساتھ میرا رویہ پہلے سے زیادہ نرم اور خوش اخلاق ہوگیا۔ میں اس کی چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کا خیال رکھنے لگا۔

اسی دوران زہرا کی طبیعت خراب ہوگئی۔ ڈاکٹر نے کہا کہ یہ موسمی بخار اور کمزوری ہے، مگر زہرا کی ماں اور میری ماں دونوں نے اصرار کیا کہ فلاں درگاہ پر منتیں مانی جائیں، کچھ چڑھاوے چڑھائے جائیں۔ میں نے پہلے تو خاموشی اختیار کی، ڈاکٹر کی دوائیں لائیں۔ پھر ایک دن زہرا کے ساتھ کمرے میں بیٹھ کر نرمی سے کہا، "زہرا، ڈاکٹر کی دوائی باقاعدہ کھاؤ، پوری نیند لو اور خوب دعا کرو۔ سچے دل سے صرف اللہ سے شفا مانگو۔ وہی شفا دینے والا ہے "واذا مرضت فهو يشفين" (الشعراء: 80) اور جب میں بیمار پڑتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے"۔

زہرا، جو کمزوری سے چور تھی، نے غصے میں، لیکن کمزور آواز میں کہا، "تمہیں تو ہر بات پر، ہر راستے پر اعتراض ہے۔ تم ہمیں کافر سمجھتے ہو؟ تمہارے نزدیک ہماری سب عبادتیں، ہمارا سب ایمان باطل ہے؟"

میری آنکھیں بھر آئیں۔ "نہیں زہرا، میں تمہیں اپنا سمجھتا ہوں، اپنی زندگی کا حصہ سمجھتا ہوں۔ کیا تم نے اللہ کا فرمان نہیں سنا: "يا ايها الذين امنوا قوا انفسكم واهليكم نارا وقودها الناس والحجارة" (التحریم: 6)۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اُس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔ اسی لیے تمہیں، تم سب کو وہ صحیح راستہ دکھانا چاہتا ہوں جو جنت کی طرف لے جائے۔ میں نہیں چاہتا کہ ہم میں سے کوئی بھی اللہ کے غضب کا شکار ہو"۔

زہرا نے کوئی جواب نہیں دیا، صرف منہ پھیر لیا۔ مگر میری آواز میں درد اور محبت نے اس کے دل میں ایک شگاف سا کر دیا تھا۔ مگر مجھے محسوس ہورہا تھا کہ برف پگھلنا شروع ہوگئی ہے۔

جاری ہے۔۔

Check Also

Aalu Powder, Wodka, Poultry Feed, Silage Aur Value Addition

By Saad Makki Shah