Sunday, 11 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Rizwan Akram
  4. Madam

Madam

میڈم

پرائیویٹ سکولوں کی چمکتی عمارتیں، شیشے کے محل اور رنگ برنگے بینرز دیکھ کر ہر والدین کا دل یہی سمجھتا ہے کہ یہاں ان کے بچوں کو معیاری تعلیم ملے گی۔ یہ فخریہ دعوے، نام نہاد "مونٹیسوری"، "آئی جی سی ایس ای" اور "بین الاقوامی معیار" کے نعرے ہمارے معاشرے میں تعلیم کے تجارتی ہونے کی واضح علامت ہیں۔ پرائیویٹ سکول آج کے معاشرے میں محض تعلیمی ادارے نہیں رہے، بلکہ ایک منافع بخش صنعت بن چکے ہیں، جہاں بچے "کلائنٹ" ہیں، تعلیم "پرڈکٹ" ہے اور استاد "لیبر" ہے۔

والدین پہلے ہی بھاری فیسوں، مہنگی کتابوں، مخصوص یونیفارم، ٹرانسپورٹ، کو-کریکولر ایکٹیویٹیز اور نت نئے مطالبات کے بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں۔ مگر چونکہ ہمارا سماج دکھاوے اور نام نہاد معیارِ تعلیم کا اسیر ہے، اس لیے یہ نظام بغیر کسی مزاحمت کے چلتا رہتا ہے۔ ہر مڈل کلاس گھرانے کا خواب ہوتا ہے کہ اس کا بچہ "اچھے" نامی پرائیویٹ اسکول میں پڑھے، چاہے اس کے لیے ماں باپ اپنی بنیادی ضروریات پر کٹوتی کیوں نہ کر لیں۔ یہ ایک سماجی دباؤ، ایک ریس بن چکی ہے، جس کا فائدہ اسکول مالکان خوب اٹھاتے ہیں۔

لیکن اس چمک دمک، ہر سال بڑھتی ہوئی فیسوں اور والدین کی امیدوں کے پہاڑ کے پیچھے ایک ایسی کڑوی حقیقت چھپی ہے جس پر کم ہی بات کی جاتی ہے، جسے جان بوجھ کر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ یہ حقیقت ہے پرائیویٹ سکولوں کی استانیوں کی، وہ خواتین جو قوم کے بچوں کو سنوارنے، ان کے ذہنوں کو روشن کرنے اور انہیں انسان بنانے کے لیے دن رات محنت کرتی ہیں، لیکن خود مسلسل ٹوٹ پھوٹ، ذہنی اذیت اور معاشی مجبوریوں کا شکار رہتی ہیں۔ یہ وہ چہرے ہیں جو ہمارے بچوں کو مستقبل سے روشناس کرواتے ہیں، مگر جن کے اپنے حال پر اکثر اندھیرا چھایا رہتا ہے۔

اس استحصالی نظام کی سب سے بھیانک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں سرکاری طور پر طے شدہ کم از کم ماہانہ تنخواہ 37,000 روپے ہے، مگر یہ پرائیویٹ سکول مافیا اس قانون کو کھلم کھلا روندتا چلا آ رہا ہے۔ بے شمار استانیاں، خصوصاً چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں، محض 8,000 سے 15,000 روپے ماہانہ پر کام کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ رقم اتنی کم ہے کہ ایک فرد کا گزارہ بھی مشکل سے ہوتا ہے، پھر وہ اپنے خاندان کی کفالت کیسے کر سکتی ہیں؟ کیا یہ ظلم نہیں کہ جو استانی ایک بچے کی فیس 8,000 روپے ماہانہ وصول کرتی ہے، اس کی اپنی محنت کا معاوضہ اسی سے کم ہو؟ یہ پرائیویٹ سکول مافیا نہ صرف اپنے ملازمین کے حقوق غصب کرتی ہے، بلکہ قانون کو بھی بالائے طاق رکھتی ہے۔ ان کے پاس ایسے طاقتور کنیکشنز اور "تعلقات" ہوتے ہیں جو انہیں ہر قسم کے قانونی پیچیدگیوں سے بچا لیتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ کس طرح متعلقہ محکموں کو "بلیک" کیا جاتا ہے، انسپکشن کیسے روکی جاتی ہیں، یا انہیں صرف کاغذی کارروائی تک محدود رکھا جاتا ہے۔ یہ ایک منظم مافیا ہے جو تعلیم کے مقدس شعبے کو خون چوسنے کی مشین بنا چکی ہے۔

ان استانیوں کے ساتھ نظم و ضبط کے نام پر جو سلوک روا رکھا جاتا ہے، وہ کسی مہذب معاشرے کا عکس نہیں، بلکہ ایک ایسی مشینی کارخانے کی یاد دلاتا ہے جہاں انسانیت کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ تصور کریں سات سے آٹھ گھنٹے مسلسل کھڑے رہنا، کلاس روم میں بیٹھنے کے لیے ایک کرسی تک میسر نہ ہونا۔ انتظامیہ کی جانب سے یہ عجیب و غریب دلیل دی جاتی ہے کہ استاد کے بیٹھنے سے "کلاس روم کا ڈسپلن خراب ہو جائے گا"، "بچے سنجیدگی نہیں برتیں گے"۔

سوچنے والی بات یہ ہے کہ آخر یہ کیسا نظم و ضبط ہے جو انسان کو ایک بے جان مشین بنا دیتا ہے؟ جس میں انسانی جسم کی بنیادی ضرورتوں، تھکن، درد اور تکلیف کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ پیروں میں درد ہو، کمر ٹوٹ رہی ہو، جسم جواب دے جائے یا خواتین کو ماہانہ مخصوص دنوں کی تکلیف ہو، کسی حالت میں رعایت نہیں دی جاتی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب بچے اپنے استاد کو اس انتہائی تھکے ہوئے، بے بسی کے عالم میں، کھڑے ہوئے تھرتھراتے ہوئے دیکھیں گے تو ان کے ذہنوں پر کیا نقش پڑے گا؟ کیا وہ انسانیت، احترام، ہمدردی اور باہمی تعاون کی قدر سیکھ پائیں گے؟ یا یہ کہ وہ یہ سبق لیں گے کہ طاقتور کا کمزور پر حکم چلانا، اس کی بنیادی ضرورتوں کو نظر انداز کرنا معیاری انتظام ہے؟ تعلیم محرفظات رٹوانے کا نام نہیں، تربیت کا عمل ہے اور تربیت سب سے پہلے عمل سے ہوتی ہے۔ استاد اگر ذلت و مجبوری کی زندگی گزار رہا ہے تو وہ بچوں میں عزت نفس اور انسانی وقار کا جذبہ کیسے پیدا کر سکے گا؟

یہ استحصال صرف جسمانی نہیں، بلکہ ذہنی اور جذباتی بھی ہے، جو ان استانیوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ اسکول کے اوقات کار کے نام پر ان پر عجیب و غریب پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ اسکول کھلنے سے پہلے حاضری لازمی ہے، ایک منٹ کی تاخیر پر تنخواہ میں کٹوتی کا ڈر۔ مگر چھٹی کے بعد اضافی وقت رکوانا، میٹنگز لینا، کوئی نا ضروری پروگرام تیار کرانا معمول کی بات سمجھی جاتی ہے، جس کا کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا۔ یہ گھنٹوں کی اضافی مزدوری مفت لی جاتی ہے۔ بعض ادارے تو حد ہی کر دیتے ہیں۔ ابتدائی تین سے چھ ماہ کی تنخواہ "سیکیورٹی" یا "پروفیشنل ڈویلپمنٹ فیس" کے نام پر روک لی جاتی ہے، جو اکثر واپس نہیں کی جاتی، یا ہر ماہ بلاوجہ معمولی سی باتوں پر تنخواہ سے کٹوتی کو انتظامیہ کا حق سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ ایسے ہوتا ہے جیسے یہ استانیاں کوئی قیدی ہوں، جن کی محنت کی قدر اور اجرت کو من مانی طریقے سے ضبط کیا جا سکتا ہے۔

یہ استانیاں درحقیقت ایک ایسے غیر تحریری "کالے قانون" کے تحت کام کرتی ہیں جہاں غلطی کی تعریف مالک یا منیجر کی مرضی سے بدلتی رہتی ہے۔ یہاں اصول نہیں، صرف اغراض ہیں۔ آج کپڑے میں استری معمولی سی دھنسی ہوئی ہے، اگر تھکن کے عالم میں چند لمحے بیٹھ بھی گئیں، تو جواب طلبی۔ کسی دن چہرے پر مسکراہٹ کم ہے، یا بچے سے ذرا سختی سے بات کر دی، یہ جرم ہے۔ ہر چھوٹی بڑی بات جرمانے، ڈانٹ ڈپٹ یا نوٹس میں بدل سکتی ہے۔

بعض اسکولوں میں تو اساتذہ کو باقاعدہ ایک "فائنل لسٹ" دی جاتی ہے جس میں درجنوں ایسی باتیں درج ہوتی ہیں جن پر پابندیاں ہوتی ہیں اور ان پابندیوں کی کوئی منطق نہیں ہوتی۔ یہ صرف کنٹرول اور خوف کے ہتھکنڈے ہیں۔ مزید برآں، بعض اسکولوں میں موجود کوآرڈینیٹرز یا سینئر ٹیچرز کا رویہ اصلاح سے زیادہ تحقیر اور ذلت آمیز ہوتا ہے۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو بڑھا چڑھا کر انتظامیہ تک پہنچاتے ہیں، جس سے استانی کی زندگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔ یہ ایک زہریلا ماحول ہے جہاں تعاون کی بجائے جاسوسی اور حوصلہ افزائی کی بجائے مایوسی پروان چڑھتی ہے۔

صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ کئی نامور پرائیویٹ اسکولوں میں استانیوں کے موبائل فون تک صبح کے وقت جمع کر لیے جاتے ہیں اور شام کو واپس دیے جاتے ہیں۔ اس دوران وہ دنیا سے مکمل طور پر کٹ جاتی ہیں۔ گھر میں کوئی ایمرجنسی ہو، بچہ بیمار ہو، والدین کو کوئی تکلیف ہو، یا کوئی اہم فون آئے، استانی اس سے بے خبر رہتی ہے۔ یہ طرز عمل کسی تعلیمی ادارے سے زیادہ ایک قید خانے یا فیکٹری کی یاد دلاتا ہے، جہاں ملازم کو انسان نہیں ایک آلہ سمجھا جاتا ہے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ جب ایک ماں، ایک بیٹی، ایک بیوی اپنے گھر والوں کی فکر میں ذہنی طور پر پریشان ہوگی، تو وہ کس طرح اپنا پورا دل لگا کر پڑھا سکے گی؟ یہ پابندی نہ صرف ان کی انسانی آزادی کی خلاف ورزی ہے، بلکہ ان کے تدریسی معیار کو بھی بری طرح متاثر کرتی ہے۔

ان سب کے پیچھے ایک بنیادی وجہ معاشی مجبوری اور روزگار کے متبادل مواقع کا فقدان ہے۔ سرکاری سیکٹر میں ملازمتوں کی کمی، امتحانی نظام کی دقتوں اور بے روزگاری کی بلند شرح نے پرائیویٹ اسکول مالکان کو بے لگام کر دیا ہے۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہزاروں پڑھی لکھی لڑکیاں نوکری کے منتظر ہیں۔ اگر ایک استانی ناراض ہو کر چلی بھی جائے، تو دس تیار ہیں اس کی جگہ لینے کو۔ یہی خوف اور مجبوری استانیوں کو خاموش رہنے پر مجبور کرتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ آواز اٹھانے کا مطلب نوکری چلے جانا ہے اور گھر میں معاشی دباؤ بڑھ جانا ہے۔ یہی وہ ہتھیار ہے جس کے ذریعے ان کی محنت کا استحصال بلا روک ٹوک جاری رہتا ہے اور ان اسکولوں کا مافیا ہر سال اربوں روپے کا منافع کما کر بھی قانونی محاذ پر مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے، کیونکہ انہوں نے نظام کو اپنے مفادات کے مطابق ڈھال لیا ہے۔

سوچنے کی اصل بات یہ ہے کہ جو استانیاں خود روزانہ ذہنی دباؤ، بے عزتی، تحقیر اور جسمانی اذیت کا شکار ہوں، جو مسلسل خوف اور عدم تحفظ کے ماحول میں کام کر رہی ہوں، وہ بچوں کی تخلیقی، اخلاقی اور نفسیاتی تربیت کیسے کر سکیں گی؟ تعلیم کا مقصد صرف کتابی معلومات دینا نہیں، بلکہ متوازن، حساس، تخلیقی اور بااخلاق شہری تیار کرنا ہے۔ ایک پریشان، مظلوم اور غیر مطمئن استاد بچوں میں وہ مثبت جذبات، تجسس اور محبت پیدا نہیں کر سکتی جو تعلیم و تربیت کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ اس طرح ہم ایک ایسی نسل تیار کر رہے ہیں جو کتابیں تو رٹ لے گی، مگر انسانیت، ہمدردی اور انصاف کا سبق حقیقی معنوں میں نہیں سیکھ پائے گی اور جب یہی بچے بڑے ہو کر معاشرے کے کارکن بنیں گے، تو کیا وہ اس ظالمانہ نظام کو تبدیل کرنے کی جرات کریں گے، یا پھر اسی کو اپنا لیں گے؟

اب سوال یہ نہیں رہا کہ یہ نظام غلط ہے، سوال یہ ہے کہ اس کے خلاف آواز کب اٹھے گی؟ کب ہماری معاشرتی اور قانونی ادارے اس طرف توجہ دیں گے؟ کب محکمہ تعلیم پرائیویٹ اسکولوں میں محنت کش اساتذہ کے حقوق کے لیے واضح قوانین اور ان پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گا؟ کب حکومت اس پرائیویٹ سکول مافیا کے خلاف کارروائی کرے گی جو نہ صرف کم از کم تنخواہ کے قانون کی خلاف ورزی کر رہی ہے، بلکہ متعلقہ محکموں کو بلیک کرکے اپنا کام چلا رہی ہے؟ کب اساتذہ یونینز یا ایسوسی ایشنز وجود میں آئیں گی جو اجتماعی طور پر ان کے حقوق کے لیے آواز بلند سکیں؟ موجودہ حالات میں اکثر پرائیویٹ اسکول ٹیچرز کو مزدور یا ملازم قانون کے تحت بھی تحفظ حاصل نہیں ہوتا، کیونکہ انہیں باقاعدہ قراردادوں، سروس بکس یا دیگر مراعات سے محروم رکھا جاتا ہے۔ یہ ایک منظم ڈھنگ سے چلائی جانے والی غلامی ہے جس کے خلاف اجتماعی آواز کی ضرورت ہے۔

اس صورتحال کے حل کے لیے کئی محاذوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اول، والدین کو شعور دینا ہوگا۔ جب والدین ان اسکولوں کی چمک دمک کے پیچھے چھپے استحصال کو جان لیں گے اور اس پر آواز اٹھائیں گے، تو اسکول انتظامیہ مجبور ہوگی۔ دوم، میڈیا کو اس مسئلے پر روشنی ڈالنی چاہیے۔ تیسرا اور سب سے اہم، خود استانیوں کو اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنی ہوگی۔ خاموشی اور ڈر کے باعث ہی یہ نظام قائم ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ اجتماعی طور پر متحد ہوں، باہمی حمایت کا نیٹ ورک بنائیں اور قانونی چارہ جوئی کریں۔ چوتھا، قانون ساز اداروں کو چاہیے کہ وہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں کام کرنے والے تمام عملے کے لیے واضح قوانین، کم از کم تنخواہ جو فی الحال 37,000 روپے ہے اس پر سختی سے عملدرآمد، کام کے اوقات، مراعات اور تحفظ کے ضوابط طے کریں اور ان پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔ ان اسکولوں کے خلاف فوری کارروائی ہونی چاہیے جو قانون کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔

جب تک قوم کے معمار، یہ استانیاں، خود اپنے حق کے لیے کھڑے نہیں ہوں گے، جب تک ہم سب بحیثیت معاشرہ اس غلط نظام کی مذمت نہیں کریں گے، یہ استحصالی ڈھانچہ یونہی مضبوط ہوتا رہے گا۔ تعلیم ایک مقدس فریضہ ہے، ایک عبادت ہے۔ اسے محض کاروبار بنا کر رکھ دینا ہماری آنے والی نسلوں کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہے۔ اساتذہ کی عزت اور ان کے حقوق کا تحفظ درحقیقت ہمارے بچوں کے روشن مستقبل اور ایک صحتمند معاشرے کی ضمانت ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اس چمکتی ہوئی دھات کے پیچھے چھپی ہوئی زنگ آلود حقیقت کو تسلیم کریں اور اسے بدلنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ یہ صرف استانیوں کا مسئلہ نہیں، یہ پورے معاشرے کے اخلاقی وجود کا مسئلہ ہے۔

Check Also

Zorain Nizamani Ghalat Nahi Keh Raha

By Javed Chaudhry