Darbar
دربار

ناول ولی اللہ کی قسط اول، شہر کے پرانے حصے میں، جہاں گلیاں تنگ اور عمارتیں زمانے کی دھول چاٹ رہی تھیں، وہاں ایک دربار تھا۔ یہاں ہر جمعرات کو ہجوم امڈ آتا، فاتحہ خوانی کی آوازیں گونجتیں، چادریں چڑھتیں اور خوشبوؤں کا ایک عجیب مرکب ہوا میں تیرتا رہتا۔ ضرغام رئیس جو کہ ایک مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ اپنے والد کے ساتھ اس دربار کے صحن میں بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک نوٹ تھا، پانچ ہزار روپے کا، جو اس کے والد نے اسے تھماتے ہوئے کہا تھا، "بیٹا، پیر صاحب کے قدمین میں رکھ آؤ، دعا ہو جائے گی، کاروبار میں برکت آئے گی، گھر میں سکون رہے گی"۔
ضرغام نے نوٹ قبر کے پاس رکھتے ہوئے اپنے ذہن میں ایک سوال کو جنم دیتے دیکھا۔ یہ سوال اس کے اندر کہیں پرانا تھا، مگر آج پھر سے زندہ ہوگیا۔ "کیا واقعی یہ مردہ ہستی ہماری دعا سن رہی ہے؟ کیا یہی توحید ہے؟" اس نے اپنے ہونٹ بند کر لیے، جیسے کوئی غلطی ہوگئی ہو۔ یہ خیال اس کے خاندان کے عقیدے کے خلاف تھا، اس کے ماحول کے خلاف تھا اور اس کے اپنے اٹھارہ سالوں کے ایمان کے خلاف تھا۔ مگر پھر بھی، وہ سوال وہیں تھا۔
دور سے ایک قاری صاحب قرآن پڑھ رہے تھے۔ آواز میں درد تھا، لہجے میں عجز۔ ضرغام کے والد نے آنکھیں بند کر لیں اور ہونٹ ہلانے لگے۔ ضرغام نے دیکھا کہ کئی لوگ قبر کو چھو رہے تھے، منہ سے باتیں کر رہے تھے، اپنی مرادیں مانگ رہے تھے۔ ان میں سے کچھ کے چہرے پر یقین تھا، کچھ پر صرف رسم۔ اچانک اس کے ذہن میں قرآن کی وہ آیت گونجی جسے وہ بچپن سے پڑھتا آ رہا تھا:
ومن اضل ممن يدعوا من دون الله من لا يستجيب له الى يوم القيامة وهم عن دعائهم غافلون ۞آخر اُس شخص سے زیادہ بہکا ہوا انسان اور کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتے بلکہ اِس سے بھی بے خبر ہیں کہ پُکارنے والے اُن کو پکار رہے ہیں (الاحقاف 5)۔ مگر یہاں تو صورت حال برعکس تھی۔
"بیٹا، تم خاموش کیوں ہو؟" والد نے آنکھیں کھولتے ہوئے پوچھا۔
"کچھ نہیں، ابا۔ بس سوچ رہا تھا"۔
"سوچا کرو، مگر ایمان پر شک مت کرو۔ یہ بزرگ ہماری شفاعت کے لیے ہیں۔ ہمارے خاندان نے صدیوں سے ان کی درگاہ سے برکتیں حاصل کی ہیں"۔
ضرغام نے ہاں میں سر ہلایا۔ مگر اس کا دل نہیں مان رہا تھا۔ شفاعت؟ کیا قرآن نے شفاعت کا اختیار صرف اللہ کے حوالے نہیں کیا تھا؟"قل لله الشفاعة جميعا" (الزمر: 44) کہہ دو کہ ساری کی ساری شفاعت اللہ ہی کے لیے ہے۔ یہ خیالات اس کے اندر ایک طوفان برپا کر رہے تھے۔
گھر واپسی پر، جب وہ اپنی گاڑی میں بیٹھا تو اس کا ذہن عرفان کی طرف چلا گیا۔ عرفان اس کا بچپن کا دوست تھا، جو اب ایک الگ راہ پر چل پڑا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ دین کو سمجھو، قرآن کو پڑھو اور ہر بات کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی باتوں سے تولو۔ ضرغام نے کئی بار اس سے بحث کی تھی، یہ کہتے ہوئے کہ ہمارے بزرگوں کا راستہ بھی تو دین ہی ہے۔ مگر عرفان ہمیشہ کتاب و سنت کی طرف بلاتا۔ آج اسے لگا کہ شاید عرفان کی باتوں میں کوئی وزن ہے۔ کیا واقعی ہم نے اپنے بزرگوں کے راستوں کو کتاب و سنت پر ترجیح دے دی ہے؟
گھر پہنچتے ہی ماں نے کہا، "ضرغام، کل تمہاری ملکہ خالہ آ رہی ہیں، وہ تمہارے لیے ایک لڑکی دیکھ رہی ہیں۔ تمہاری شادی کی بات چل رہی ہے۔ خاندان کی روایت ہے، پہلے دربار سے دعا کروائی جائے گی، پھر منگنی ہوگی"۔
ضرغام نے مسکرانے کی کوشش کی۔ شادی، یہ ایک نیا باب تھا، مگر اس کے ذہن میں ابھی بہت سے سوال تھے جو بے جواب تھے۔ کیا ایک نئی زندگی کی شروعات بھی انہی رسومات کے بغیر نہیں ہو سکتی؟
رات کو وہ اپنے کمرے میں بیٹھا قرآن پڑھنے لگا۔ سورہ اخلاص۔ "قل هو الله احد * الله الصمد * لم يلد ولم يولد * ولم يكن له كفوا احد"۔ وہ اس آیت پر رک گیا۔ ایک۔ بے نیاز۔ نہ جس کی اولاد ہو، نہ وہ جسے اولاد ہو۔ اس کا کوئی ہمسر نہیں۔ پھر وہ کیوں اتنی ہستیاں اپنی دعاؤں اور امیدوں میں شامل کر رہا تھا؟ کیا یہی وہ شرکِ اصغر نہیں جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: "اخوف ما اخاف عليكم الشرك الاصغر" (سنن احمد)۔ سب سے زیادہ مجھے جس چیز کا ڈر ہے کہ تم اس میں مبتلا ہو جاؤ گے، وہ شرکِ اصغر ہے۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ، شرکِ اصغر کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "الرياء"۔ یعنی دکھاوہ۔ مگر کیا عقیدے کی یہ خرابی، یہ مردوں سے دعا اور مدد مانگنا، اس سے بھی بڑھ کر نہیں؟
اچانک اس کے موبائل کی گھنٹی بجی۔ یہ عرفان کا فون تھا۔
"ضرغام، کہاں ہو؟"
"گھر پر۔ تم کیسے ہو؟"
"میں ٹھیک ہوں۔ سنو، کل ہماری ایک چھوٹی سی محفل ہے، قرآن کی تفسیر پر بات ہوگی۔ آیا کروگے؟"
ضرغام نے ہچکچاتے ہوئے کہا، "دیکھتا ہوں"۔
"ضرغام، تمہیں پتہ ہے، ہم صرف بات نہیں کرتے، ہم سمجھتے ہیں اور سمجھنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ اللہ نے قرآن میں بار بار غور و فکر کا حکم دیا ہے۔ "افلا يتدبرون القران" (النساء: 82)۔ کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے؟"
فون رکھتے ہی ضرغام نے سوچا۔ شاید یہ موقع ہے۔ شاید یہی وہ راستہ ہے جس پر اسے چلنا چاہیے۔ مگر خاندان کا ردِ عمل؟ ماں باپ کی ناراضی؟ یہ سوچ کر اس کا دل دھڑک رہا تھا۔
اگلے دن وہ عرفان کے گھر پہنچا۔ وہاں چار پانچ نوجوان بیٹھے تھے، سب کے ہاتھ میں قرآن اور تفسیر کی کتابیں تھیں۔ عرفان نے مسکراتے ہوئے استقبال کیا۔ "آؤ ضرغام، خوش آمدید۔ ڈرو مت، یہاں کوئی تمہیں جہنم میں جانے والا نہیں کہے گا۔ ہم سب سیکھنے آئے ہیں"۔
محفل شروع ہوئی۔ وہ سورہ فاتحہ پر بات کر رہے تھے۔ "اهدنا الصراط المستقيم * صراط الذين انعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين"۔ عرفان نے کہا، "یہ صراط مستقیم وہ راستہ ہے جو اللہ نے اپنے رسول ﷺ کے ذریعے بتایا، نہ کہ وہ راستہ جو ہمارے بزرگوں، گروؤں یا مفتیوں نے اپنی طرف سے بنا لیا ہو۔ نعمت یافتہ لوگ انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین ہیں اور یہ صراط، مغضوب علیہم (یہود) اور ضالین (نصاریٰ) کے راستوں سے بالکل الگ ہے۔ ان دونوں گروہوں کی سب سے بڑی برائی یہ تھی کہ انہوں نے اپنے علماء و مشائخ کو رب بنا لیا تھا۔ "اتخذوا احبارهم ورهبانهم اربابا من دون الله" (التوبہ: 31)۔ کیا ہم بھی اسی راہ پر تو نہیں چل پڑے؟"
ایک نوجوان نے پوچھا، "مگر ہمارے بزرگوں کا راستہ، جنہوں قرآن پڑھا، نماز پڑھی، غریبوں کی مدد کی، وہ غلط کیسے ہو سکتا ہے؟"
عرفان نے نرمی سے جواب دیا، "ہم کسی کے اخلاص یا نیکی پر سوال نہیں اٹھا رہے۔ ہم طریقے پر بات کر رہے ہیں۔ ہر عمل کی بنیاد عقیدہ ہوتا ہے۔ اگر عقیدہ کتاب و سنت کے مطابق نہیں، تو عمل بھی رد ہو سکتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "من عمل عملا ليس عليه امرنا فهو رد" (صحیح مسلم)۔ یعنی جس نے کوئی ایسا عمل کیا جو ہمارے دین (کے مصادر) پر نہ ہو، تو وہ مردود ہے۔ ہمارا معیار محبت یا روایت نہیں، بلکہ قرآن و سنت ہے۔ اگر مل جائے تو ٹھیک، نہ ملے تو چھوڑ دو۔ اللہ کا حکم ہے: "فان تنازعتم في شيء فردوه الى الله والرسول" (النساء: 59)۔ اگر کسی معاملے میں تمہارا باہم اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو۔ "
ضرغام خاموش بیٹھا سنتا رہا۔ ہر بات اس کے دل کو چھو رہی تھی۔ یہ منطق، یہ دلیل، یہ کتاب و سنت سے براہ راست رشتہ، یہ سب کچھ نیا تھا۔
محفل کے بعد عرفان نے اسے الگ لے جا کر کہا، "ضرغام، تمہیں پتہ ہے، میں نے تمہیں ہمیشہ سمجھدار پایا۔ تم سوچتے ہو اور سوچنا ہی ایمان کی پہلی سیڑھی ہے۔ اللہ نے عقل دی ہے، اسے استعمال کرنے کا حکم دیا ہے"۔
"مگر میرے گھر والے، وہ سمجھیں گے نہیں۔ وہ کہیں گے میں راستہ بھٹک گیا ہوں، میں نے بزرگوں کی بے ادبی کی ہے"۔
"گھر والے تم سے محبت کرتے ہیں۔ مگر محبت کا مطلب یہ نہیں کہ حق کو چھوڑ دو۔ تم آہستہ آہستہ چلو، حکمت سے پیش آؤ۔ دلائل سے بات کرو۔ سب سے پہلے اپنی نمازوں کی پابندی کرو، قرآن کو سمجھ کر پڑھو۔ اللہ سے دعا کرو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "من يرد الله به خيرا يفقهه في الدين" (صحیح بخاری)۔ جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ تم آہستہ آہستہ چلو، مگر ٹھراؤ مت"۔
ضرغام گھر واپس آیا تو اس کے ذہن میں ایک نئی کشمکش جنم لے رہی تھی۔ ایک طرف اس کا ماحول، اس کے رشتے، اس کی روایات تھیں، جو اس کی پہچان کا حصہ لگتی تھیں۔ دوسری طرف ایک نئی راہ تھی، جو صاف ستھری لگ رہی تھی، مگر نامعلوم تھی اور سماجی طور پر مشکل۔ کیا وہ اپنے خاندان، اپنے دوستوں، اپنی شناخت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے؟ کیا اس راہ پر تنہائی نہیں ہوگی؟
شام کو اس کے والد نے اسے بلایا۔ "بیٹا، تمہاری خالہ نے ایک اچھی لڑکی دیکھی ہے۔ اب تمہاری ٹال مٹول نہیں۔ چلے گی اور تمہاری شادی جلد ہو جائے گی۔ تم تیار رہو۔ منگنی کے لیے اگلے ہفتے دربار پر حاضری ضروری ہے، تاکہ بزرگوں کی دعا لے کر کام شروع کیا جائے"۔
ضرغام نے بظاہر ہاں کہہ دی۔ مگر اس کے دل میں ایک آواز گونج رہی تھی، "پہلے اپنے رب کو پہچانو، پھر اپنی زندگی بناؤ۔ کیا میں ایک نیا گھر بساؤں گا، جس کی بنیاد ہی میں شک ہو؟"
وہ رات کو دیر تک جاگتا رہا۔ اس نے قرآن اٹھایا اور سورہ زمر کی آیات پڑھیں: "الا لله الدين الخالص" (الزمر: 3)۔ "سن لو! خالص دین اللہ ہی کے لیے ہے" اور پھر آگے: "قل اني امرت ان اعبد الله مخلصا له الدين * وامرت لان اكون اول المسلمين" (الزمر: 11-12)"۔ کہہ دیجیے کہ مجھے یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں، اس کے لیے دین کو خالص رکھتے ہوئے اور مجھے یہ حکم ہے کہ میں سب سے پہلا مسلمان (اللہ کے آگے جھکنے والا) بنوں"۔
یہ آیات اس کے لیے ایک واضح پیغام تھیں۔ خالص دین۔ وہ دین جس میں کسی کی شراکت نہ ہو، نہ عقیدے میں، نہ عبادت میں، نہ دعا میں۔ کیا اس کا آج کا عمل، اس نوٹ کو قبر پر چڑھانا، خالص دین تھا؟ وہ اٹھا اور کھڑکی کے پاس جا کھڑا ہوا۔ باہر چاند نکلا ہوا تھا، ستارے جگمگا رہے تھے۔ اتنی وسیع کائنات اور صرف ایک ہی معبود۔ اس نے دل ہی دل میں ہاتھ اٹھائے اور کہا، "اے اللہ، میرے رب، مجھے سیدھی راہ دکھا۔ مجھے وہ راستہ دکھا جو تیرے پسندیدہ ہو۔ میرے دل میں جو کشمکش ہے، اسے دور فرما۔ میرے والدین کے دلوں کو نرم فرما اور مجھے حق بات کہنے اور اس پر عمل کرنے کی ہمت عطا فرما۔ میں تیری ہی پناہ مانگتا ہوں علم کے بعد بھی جہالت سے اور تیری ہی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں خود اپنے نفس کو پاک سمجھوں۔ تو ہی راہ دکھانے والا ہے"۔
یہ دعا اس کی زندگی کی پہلی حقیقی، بے ساختہ، بغیر کسی وسیلے کے براہ راست اللہ سے کی گئی دعا تھی اور اس نے محسوس کیا کہ شاید، صرف شاید، اس کے سینے کی بھاری گیند ہلکی ہونے لگی ہے۔ یہی وہ آغاز تھا، جس کی اسے تلاش تھی۔ راہِ حقیقت کا پہلا قدم، شک کے دلدل سے نکل کر یقین کے سفر پر اور یہ سفر اب شروع ہو چکا تھا۔ اگلے مراحل میں اسے کس کس آزمائش، کس کس کشمکش اور کس کس انکشاف کا سامنا ہوگا، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ لیکن آج اس نے ایک فیصلہ کر لیا تھا: وہ قرآن کو سمجھے گا، سنت کو جانے گا اور پھر ہر عمل کو اس کسوٹی پر پرکھے گا۔ خواہ اس کی قیمت کچھ بھی چکانی پڑے۔

