Turkiye Chalo
ترکیہ چلو

لو جی ہم بھی آخر کار ترکیہ سے ہو ہی آے اور استنبول کی اونچی نیچی پہاڑیوں پر چلتے، گرتے پڑتے صحیح سلامت واپس بھی آگئے۔ گویا ترکیہ سے اپنے صدیوں پرانے تعلقات کی تجدید کر آئے۔ ہم سے پہلے گزرے سیانے کہ گئے کہ "خوش ہو تو سفر کرو، پریشان ہو تو سفر کرو، علم حاصل کرنا ہو تو سفر کرو"۔
اور خود ہمارا ماننا ہے کہ کرنے کو کچھ نہیں تو لازمی سفر کرو۔ ایسے مسافر جو دنیا دیکھنے کو نکلیں وہ سیاح کہلاتے ہیں اور دنیا میں بہت سے نامور سیاح گزرے کہ جن کی وجہ سے مختلف علاقوں کی تہذیبیں ایک دوسرے میں خلط ملط ہوگئیں اور آج یہ حال ہے کہ دنیا کے کئی ممالک رسومات، فنون اور حتی کہ کھانوں کی ملکیت کے لئیے ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہیں۔ یہ سب کیا دھرا سیاحوں کے پیر میں موجود کیڑے کی وجہ سے ہوا جو ان کو چین سے ایک جگہ بیٹھنے نہیں دیتا۔
تو بات ہو رہی تھی ترکیہ یاترا کی جہاں پہنچتے ہی ہم نے اپنے جوتے اتارے اور ان میں بڑی محنت سے چھید بنائے تاکہ ارض ترکیہ کی خاک اچھی طرح چھانی جا سکے۔ اس خاک گردی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم نے مملکت خوباں کے وہ کونے جہاں تک ہم جا سکے، اچھی طرح چھان لئیے اور یہ نتیجه اخذ کیا کہ عوام اور خواص کا ترکیہ، سب دیکھنے لائق ہے۔ ان کے سمندر انکے ساحل، انکے پہاڑ اور وہاں کے غار، وہاں کے پھل اور سبزیاں، وہاں کے کریانہ سٹور اور وہاں کے بازار اور سب سے بڑھ کر وہاں کے لوگ، سبھی کی چھب من کو بھاتی تھی۔ اپنی عوام کو ورزش کے ذریعے تندرست رکھنے کے واسطے ترک سرکار نے نئی اور پرانی اتنی سیڑھیاں بنا رکھی ہیں کہ وہ پاکستانی جو ترک یاترا پر گیا ہو اور اپنے ملک میں دوکان کے بس اندر ہی گاڑی لے جانے کا عادی ہو، اس کا حال یا وہ جانے اور یا اس کا رب۔ بس ایک مشکل تھی کہ بقول کسی دل جلے شاعر کہ
زبان یار من ترکی
و من ترکی نا می دانم
اور اسی سبب وہ اپنا برا حال کسی ترک کو نہیں بتا سکتا۔
گو کہ ترکی ڈرامے دیکھ کر کچھ مشترک اردو الفاظ کی سمجھ آ جاتی تھی مگر وہاں جا کر سمجھے کہ انہوں نے اپنی زبان بہت سنبھال کر رکھی ہے اور آپ بھلے اپنی انگریزی کے زعم میں ہوں، بہتر ہے کہ آپ بنیادی ضرورت کے ترکی جملے سیکھ کر جائیں۔ کاش ہم اردو کو بھی یہ مقام دے سکیں۔ ہماری اردو تو بیچاری اپنی املا اور زیر، زبر اور پیش ہی ڈھونڈ رہی ہے۔
ایک بات عجب دیکھی کہ وہاں کی بلیاں اور کتے نا صرف بے شمار تھے بلکہ انکے انداز بھی نرالے تھے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ترکیہ میں بلیوں اور کتوں کی تعداد شاید انسانوں سے زیادہ ہے اور سب کے سب بہت پلے ہونے۔ ہر جگہ مطمئین اور فربہ کتے اور بلیاں دھوپ میں سوتے نظر آتے ہیں۔ لوگوں نے ان کے لئیے گلیوں اور سڑکوں میں گھر بنا رکھے ہیں اور انہیں بروقت کھانا بھی ملتا ہے تبھی وہ انسانوں کو کچھ نہیں کہتے۔ انہین دیکھ کر اپنے پاکستانی کتے یاد آگئے، دبلے پتلے، لاغر، لیکن چست و چالاک ہمہ وقت حملہ کرنے کو تیار۔ یقین کیجئے جب تک وہاں رہے انہیں بولتے، معاف کیجئے بھونکتے نہیں دیکھا۔ کتوں اور بلیوں کی پر تعیش زندگی دیکھ کر آنکھوں میں رشک بھرے آنسو آ جاتے ہیں۔
ترکیہ کی سرزمین تاریخ سے بھری ہوئی ہے بلکہ یوں کہا جا سکتا ہے کہ اپنے بارڈر سے باہرتک پھیلی ہوئی ہے۔ اگر آپ تاریخ کے کھوجی ہیں تو آپ کی سہولت کے لئیے یونانی، رومی، عیسائی اور مسلم ادوار کے آثار ایک ہی ملک میں جمع ہیں تاکہ آپ تسلی سے ان آثار کو اچھی طرح کھوج لیں۔
ترکیہ میں لگا بین الاقوامی آرٹ میلہ بھی دیکھنے کا موقع ملا اور یہ جان کر تسلی ہوئی کہ دنیا بھر کے آرٹسٹ پاکستانی آرٹسٹوں کی طرح اپنی ذات ہی کی کھوج میں ہیں اور پریشان ہیں کہ کچھ مل کیوں نہیں رہا۔۔ کہیں تو پاکستان باقئی دنیا کے برابر کھڑا نظر آیا۔
ایک سیاح کی نظر سے دیکھنے پر ترکیہ کی معیشت اپنی سی لگی یعنی سمجھ سے باہر۔ ڈالر کے مقابلے میں انکی کرنسی لیرے لیرے ہو چکی اور پرانے سیاحوں کے بقول بہت مہنگائی ہوگئی ہے۔ لیکن ہمیں تو اپنے ملک کا سا ماحول لگا۔ ان حالات میں سرکار وہاں سیاحوں کو بلانے اور ان کو سہولتیں دینے کے نئے نئے طریقے متعارف کرواتی رہتی ہے۔ بازاروں میں ام الخبائث یعنی شراب خانہ خراب سے سجی دکانیں ہر جگہ موجود ہیں لیکن ترکوں کا ماننا ہے کہ "جن کو ہو جان و دل عزیز، انکی گلی میں جائے کیوں" لہٰذا سرکار اپنے ایمان کی حفاظت عوام کے ذمہ ہی لگاتی ہے اور غیر ملکی سیاحوں کو خوش رکھتی ہے۔
سیاحوں کے لئے ایک سہولت اور دے رکھی ہے کہ ہر بڑے چھوٹے ہوائی اڈے پر گاڑی کراے پر لینے کی سہولت موجود ہے بس آپ کے پاس بین لاقوامی لائسنس ہونا چاہیئے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہمیں یہ سسٹم بہت پسند آیا اسی کی بدولت وہ جگہیں بھی دیکھیں جو عام طور سے سیاحوں کی نظر سے اوجھل رہتی ہیں۔ تاریخ اور فنون کے علاوہ وہ سب سے زیادہ اپنے غروب آفتاب، ناشتے اور کیفے بیچ رہے ہیں اور اس میں پوری طرح کامیاب ہیں۔ ترکی کھانوں کا الگ باب ہے جس کی کہانی پھر سہی۔

