Kya Kitab Ghair Zaroori Ho Chuki?
کیا کتاب غیر ضروری ہوچکی؟

ایک زمانہ تھا جب کتاب انسان کی سب سے بڑی دوست، استاد اور رہنما سمجھی جاتی تھی۔ گھروں میں الماریاں کتابوں سے بھری ہوتی تھیں، شامیں مطالعے میں گزرتی تھیں اور بچے کہانیوں کی کتابوں کے ذریعے خواب دیکھنا سیکھتے تھے۔ آج یہ سوال شدت سے پوچھا جا رہا ہے کہ کیا کتاب غیر ضروری ہوچکی ہے؟ کیا موبائل فون، سوشل میڈیا اور شارٹس ویڈیوز کے دور میں کتاب کی اہمیت ختم ہوگئی ہے؟ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کتاب پیچھے رہ گئی ہے، جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ کتاب آج بھی انسانی شعور، فہم، تہذیب اور شخصیت کی تعمیر کا سب سے طاقتور ذریعہ ہے۔ فرق صرف یہ آیا ہے کہ انسان نے اپنی توجہ اور ترجیحات بدل لی ہیں۔
کتاب صرف کاغذ پر لکھی ہوئی سطریں نہیں ہوتیں بلکہ یہ انسان کے تجربات، خیالات، احساسات اور صدیوں کی دانش کا خزانہ ہوتی ہے۔ ایک اچھی کتاب انسان کو سوچنا سکھاتی ہے، سوال پیدا کرتی ہے، ذہن کو وسعت دیتی ہے اور شخصیت میں گہرائی پیدا کرتی ہے۔ دنیا کی ہر بڑی تہذیب نے کتاب کو علم اور ترقی کی بنیاد سمجھا۔ جن قوموں نے مطالعے کو اپنایا، وہ سائنس، فلسفہ، معیشت اور سیاست میں آگے بڑھ گئیں جبکہ جن قوموں نے کتاب سے رشتہ توڑا، وہاں فکری زوال پیدا ہوا۔
آج کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انسان کے پاس معلومات تو بہت ہیں مگر علم کم ہوتا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا نے معلومات کی رفتار تیز ضرور کی ہے لیکن سوچنے کی صلاحیت کمزور کردی ہے۔ پہلے انسان ایک کتاب پڑھنے کے لیے کئی دن صرف کرتا تھا، اب چند سیکنڈ کی ویڈیوز اور مختصر پوسٹس پر اکتفا کر لیتا ہے۔ فیس بک، ٹِک ٹاک، یوٹیوب اور انسٹاگرام نے انسان کی توجہ کو ٹکڑوں میں تقسیم کردیا ہے۔ لوگ لمبا مضمون پڑھنے سے گھبراتے ہیں، کتاب کھولتے ہی بوریت محسوس کرتے ہیں کیونکہ ان کا ذہن مسلسل بدلتی ہوئی اسکرینوں اور تیز رفتار مواد کا عادی ہوچکا ہے۔
سوشل میڈیا نے صرف مطالعے کا وقت نہیں چھینا بلکہ انسان کی ذہنی ساخت کو بھی متاثر کیا ہے۔ کتاب انسان کو خاموشی، یکسوئی اور گہرے غور و فکر کی عادت دیتی ہے جبکہ سوشل میڈیا فوری ردِعمل، سطحی سوچ اور جلد بازی پیدا کرتا ہے۔ کتاب پڑھنے والا شخص الفاظ کے درمیان چھپے مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے جبکہ سوشل میڈیا استعمال کرنے والا اکثر صرف سُرخیوں پر ردِعمل دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج معاشرے میں برداشت کم اور جذباتی ردِعمل زیادہ نظر آتا ہے۔
خاص طور پر بچوں کی دنیا بہت بدل چکی ہے۔ پہلے بچے کہانیوں کی کتابیں پڑھتے، رسائل خریدتے اور لائبریریوں کا رخ کرتے تھے۔ اب ان کے ہاتھ میں موبائل فون ہے، جہاں ہر لمحہ نئی ویڈیو، نئی گیم اور دلچسپ تفریح موجود ہے۔ ماڈرن والدین بچوں کو مصروف رکھنے کے لیے موبائل تھما دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بچوں کی توجہ، تخیل اور مطالعے کی عادت کمزور ہوگئی۔ ایک بچہ جو روزانہ گھنٹوں مختلف ویڈیوز دیکھتا ہو، اس کے لیے کتاب کے ساتھ چند منٹ بیٹھنا مشکل ہوجاتا ہے۔
یہ کہنا غلط ہوگا کہ ٹیکنالوجی یا سوشل میڈیا مکمل طور پر نقصان دہ ہیں۔ مسئلہ دراصل ان کے بے تحاشا استعمال کا ہے۔ اگر سوشل میڈیا علم کے لیے استعمال ہو تو یہ مفید ہوسکتا ہے، لیکن جب یہ انسان کے مطالعے، سوچ اور حقیقی زندگی کے تجربات پر قبضہ کر لے تو پھر نقصان یقینی ہے۔ لوگ روزانہ کئی گھنٹے موبائل استعمال کرتے ہیں مگر ایک صفحہ کتاب نہیں پڑھتے۔ یہی رویہ فکری کمزوری کو جنم دیتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ بچوں اور نوجوانوں کو دوبارہ کتاب کی طرف کیسے لایا جائے؟ اس کا آغاز گھر سے ہونا چاہیے۔ اگر والدین خود کتاب نہیں پڑھتے تو بچے بھی مطالعے کی عادت اختیار نہیں کریں گے۔ بچوں کے سامنے موبائل میں مصروف رہنے کی بجائے کتاب پڑھنے کی مثال پیش کرنا ہوگی۔ گھروں میں چھوٹی لائبریریاں بنانی چاہئیں، بچوں کو تحفے میں کتابیں دینی چاہئیں اور سونے سے پہلے کہانیاں سنانے کی روایت کو زندہ کرنا چاہیے۔
سکولوں کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں کتاب کو صرف امتحان پاس کرنے کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ بچوں کو نصابی کتابوں کے بوجھ تلے دبا دیا جاتا ہے مگر مطالعے کی خوشی نہیں سکھائی جاتی۔ اگر سکولوں میں لائبریری کلچر کو فروغ دیا جائے، کہانی سنانے کی سرگرمیاں ہوں، ادبی تقریبات منعقد کی جائیں اور بچوں کو اپنی پسند کی کتابیں پڑھنے کی آزادی دی جائے تو مطالعے کا شوق دوبارہ پیدا ہوسکتا ہے۔
حکومت اور معاشرے کو بھی اس حوالے سے سنجیدگی دکھانا ہوگی۔ پاکستان میں لائبریریاں کم ہوتی جارہی ہیں جبکہ کتابیں مہنگی ہوتی جارہی ہیں۔ ایک متوسط طبقے کے بچوں کے لیے اچھی کتاب خریدنا مشکل بنا دیا گیا ہے۔ اگر شہروں اور دیہات میں جدید عوامی لائبریریاں قائم کی جائیں، کتاب میلوں کا انعقاد کیا جائے اور مقامی زبانوں میں معیاری ادب کو فروغ دیا جائے تو مطالعے کی فضا دوبارہ قائم ہوسکتی ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ کتاب کو بوریت کی بجائے دلچسپی کے ساتھ جوڑا جائے۔ بچوں کو صرف نصیحت سے کتاب کی طرف نہیں لایا جاسکتا بلکہ انہیں دلچسپ کہانیاں، تصویری کتابیں، سائنسی معلومات اور ان کی دلچسپی کے مطابق مواد فراہم کرنا ہوگا۔ جب بچہ کتاب میں اپنی دنیا دیکھے گا تو وہ خود اس کی طرف مائل ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ کتاب کبھی غیر ضروری نہیں ہوسکتی کیونکہ انسان کو صرف معلومات نہیں بلکہ شعور، حکمت اور گہرائی بھی چاہیے اور یہ چیزیں صرف کتاب فراہم کرتی ہے۔ سوشل میڈیا وقتی تفریح دے سکتا ہے مگر کتاب انسان کی شخصیت بناتی ہے۔ موبائل چند لمحوں کے لیے ذہن کو مصروف رکھتا ہے مگر کتاب پوری زندگی بدل سکتی ہے۔ اگر ہم نے نئی نسل کو کتاب سے وابستہ نہ رکھا تو آنے والے وقت میں ہمارے پاس ٹیکنالوجی تو ہوگی مگر سوچنے والے انسان کم ہوں گے۔ کتاب انسان کی ذہنی آزادی کی علامت ہے، جو قومیں کتاب سے رشتہ توڑ دیتی ہیں وہ آہستہ آہستہ فکری غلامی کا شکار ہوجاتی ہیں۔

