Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Umar Farooq
  4. Ilm e Nafsiyat Ka Mukhtasir Jaiza

Ilm e Nafsiyat Ka Mukhtasir Jaiza

علم نفسیات کا مختصر جائزہ

جدید علم نفسیات میں جن مسائل کا مطالعہ کیا جاتا ہے یہ اس وقت تک فلسفہ کا موضوع رہے جب تک علم نفسیات بذات خود سائنسی بنیادوں پر استوار نہیں ہوا۔ قدیم یونانی فلاسفرز نے ہمارے اردگرد کی دنیا کے بارے میں جاننے کی جستجو کی۔ ہم کیسے سوچتے ہیں؟ کس طرح رویوں کا اظہار کرتے ہیں؟ یہاں تک کہ آج شعور اور ذات، دماغ اور وجود، معلومات اور نظریات ہماری مباحث کا حصہ ہیں۔ آج ہم اس چیز پر بھی بحث کرتے ہیں کہ معاشرے کیسے قائم ہوتے ہیں اور اچھی زندگی کیسے گزاری جاسکتی ہے؟

سائنس کی تمام شاخیں فلسفہ کی ارتقاء یافتہ شکل ہیں جو سولہویں صدی کے بعد پھلتی پھولتی رہیں یہاں تک کہ سائنسی انقلاب برپا ہوگیا۔ سائنسی ترقی نے جس دنیا میں ہم رہتے ہیں اس کہ متعلق بیشمار جوابات فراہم کیے ہیں تاہم یہ آج بھی ہمارا "دماغ" کیسے کام کرتا ہے کہ متعلق مصدقہ جواب دینے سے قاصر ہے۔ جو بھی ہو سائنس کی مدد سے آج ہم اس مقام پر آکھڑے ہوئے ہیں جہاں ہم دماغ کے متعلق نہ صرف ٹھیک سوالات پوچھ سکتے ہیں بلکہ مختلف نظریات پر عمل کر کہ ان کی صداقت کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے۔

سائنسی انقلاب میں وقوع پذیر ہونے والی ایک قابل قدر چیز "دماغ اور وجود" کے درمیان تفریق کا نظریہ تھا۔ سترھویں صدی کے مشہور فلسفی اور ماہر ریاضیدان رینے ڈیکارٹ نے Mind & Body کا نظریہ پیش کیا۔ جس نے آگے چل کر علم نفسیات کی راہیں ہموار کیں۔ رینے ڈیکارٹ کا ماننا تھا: تمام انسان دہرے وجود کے حامل ہیں جو مشینی انداز میں کام کرنے والے جسم اور غیر مادی، سوچنے کی صلاحیت رکھنے والے دماغ یا روح کا مجموعہ ہے۔ بعد ازاں جان فریڈرک ہربرٹ نے دماغ کے کام کرنے کی نوعیت پر روشنی ڈالی۔ جسم اور دماغ (روح) میں کس نوع کا فرق ہے یہ موضوع سائنسدانوں کے درمیان شدید بحث کی شکل اختیار کرگیا۔ سائنس دان یہ جاننے کے متمنی تھے کہ حیاتیاتی اور ماحولیاتی (Biological & environmental) عناصر کس طرح دماغ کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

چارلز ڈارون کے نظریہ ارتقاء نے Nature versus narture جیسی اہم بحث کا آغاز کردیا۔ فرانسس گیلٹن نے نظریہ ارتقاء کی مدد سے چند اہم موضوعات جیسے شخصیت کی تعمیر، فرد کے سیکھنے کا عمل اور اختیار پر خامہ فرسائی کی جو ابھی تک فلسفہ کی نظر سے اوجھل رہے تھے۔ اسی عرصے کے دوران ہپناٹزم کی دریافت نے دماغ کی پراسرار صلاحیتوں پر گرما گرم بحث چھیڑ دی۔ اس بحث نے بیشمار قابل سائنسدانوں کو دماغ کی شعوری صلاحیتوں کی جانب توجہ مبذول کرنے پر مجبور کیا تاکہ "شعور کی فطرت" سے آگاہی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اس کا ہماری سوچ اور ہمارے کردار پر اثر واضح ہوسکے۔

تمام گزشتہ معلومات سے قطع نظر جدید علم نفسیات کی ابتداء 1879 میں ہوئی جب ولیم ونڈ نے جرمنی کے شہر لپزگ میں تجرباتی نفسیات کی تجربہ گاہ کی بنیاد رکھی۔ اس دوران امریکہ اور انگلستان کی معروف یونیورسٹیوں میں علم نفسیات کے شعبہ کا آغاز ہونے لگا۔ جس طرح فلسفہ مختلف محاذوں پر سرگرم عمل ہوتا ہے بلکل ویسے ہی علم نفسیات نے مختلف شعبوں میں مہم جوئی کا آغاز کیا۔ جرمنی میں ولیم ونڈ، ہیرمن ایڈنگئوس، ایمل کریپلن نے ہر ممکنہ طور پر سائنسی بنیادوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ امریکہ میں ولیم جیمز اور ہارورڈ کے ساتھیوں نے نظریاتی اور فلسفیانہ فکرکے زیر اثر آگے بڑھنے کی ٹھانی۔ اس سب کے دوران پیرس میں نیورولوجسٹ ڈاکٹر جین مارٹن چارکوٹ جنہوں نے ہپناٹزم کے ذریعہ ہسٹیریا کے مریضوں کا علاج کیا تھا کے کام کو دیکھتے ہوئے Influential مکتبہ فکر زور پکڑنے لگا۔

اس مکتبہ فکرنے پیری جینٹ جیسے مشہور ماہرینِ نفسیات کو اپنی جانب متوجہ کیا جن کی فکر سے متاثر ہوکر سگمنڈ فرائڈ نے "لاشعور" کی کھوج کی تھی۔ انیسویں صدی کی آخری دو دہائیوں میں علم نفسیات تیزی کے ساتھ پھلا پھولا اور اس کے ساتھ ایسے سائنسی طریقہ کاروں کو تلاش کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی جن کی مدد سے دماغ کا مطالعہ کیا جاسکے بلکل اسی طرح جس طرح انسانی جسم کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ علم نفسیات کی مدد سے ہم پہلی مرتبہ اس قابل ہوئے کہ نظریات کی تہہ، فکر، حافظہ اور ذہانت کی مفکرانہ کھوج لگاسکیں۔

اس ساری محنت کے نتیجہ میں گراں قدر معلومات ہمارے ہاتھ لگی۔ دماغ کے متعلق اس ساری معلومات تک رسائی میں بنیادی کردار introspective (ایسا طریقہ جس میں فرد کی جانب سے اپنے دماغ کی کاروائیوں کا دقت نظر سے مشاہدہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے) طریقہ کار تھا۔ مزید یہ کہ ماہرین نے انتہائی غیر جانبداری سے اپنی تحقیقات مکمل کرنے کی کوشش کی اور نئی نسل کو ایسی بنیادیں فراہم کیں جن کو استعمال کرتے ہوئے مستقبل کے قابل ماہر نفسیات نہ صرف نئے نئے نظریات قائم کرسکیں بلکہ دماغی امراض کا علاج بھی دریافت کرسکیں۔

Check Also

Kya Kitab Ghair Zaroori Ho Chuki?

By Dr. Uzma Noreen