Boomers Par Nojawano Ki Tanqeed Kahan Tak Baja?
بومرز پر نوجوانوں کی تنقید کہاں تک بجا؟
ہماری نسل کے لوگوں کو، جنہیں آج کل بعض نوجوان بڑی سہولت اور بے نیازی کے ساتھ "بومرز" کہہ کر مخاطب کرتے ہیں، شاید یہ یاد دلانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے کہ ہم نے اپنی زندگیاں صرف اپنے لیے نہیں گزاریں۔ ہم نے اپنے آج کی آسائشیں، اپنی خواہشیں، اپنی جوانیاں اور اپنے بے شمار خواب اس لیے قربان کیے تاکہ آنے والی نسلوں کا کل محفوظ، مستحکم اور بہتر ہو سکے۔ یہ قربانیاں کسی احسان کے جذبے سے نہیں بلکہ ذمہ داری، محبت اور اپنے وطن سے وابستگی کے احساس کے تحت دی گئیں۔
پاکستان جیسے ملک میں، جہاں ہر چند سال بعد کوئی نہ کوئی سیاسی، معاشی یا سماجی بحران سر اٹھاتا رہا، جہاں لوگوں نے جنگوں، مہنگائی، بے روزگاری، دہشت گردی، ادارہ جاتی کمزوریوں اور غیر یقینی حالات کا سامنا کیا، وہاں پچھلی نسلوں نے نہ صرف خود مشکلات برداشت کیں بلکہ اپنے بچوں کو ان مشکلات سے بچانے کی حتی المقدور کوشش بھی کی۔ آج جو تعلیمی ادارے، پیشہ ورانہ مواقع، شہری سہولتیں، بہتر طرزِ زندگی اور دنیا سے جڑنے کے ذرائع نوجوان نسل کو میسر ہیں، وہ یک دم پیدا نہیں ہو گئے۔ ان کے پیچھے کئی دہائیوں کی محنت، جدوجہد، قربانی اور مسلسل تعمیر کا عمل کارفرما ہے۔
یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ہر نسل کو سوال کرنے، اختلاف کرنے اور معاشرے کی خامیوں کی نشاندہی کرنے کا حق حاصل ہے۔ نوجوانوں کی آواز کو دبانا نہ دانشمندی ہے اور نہ انصاف۔ لیکن اختلافِ رائے اور بے توقیری میں ایک واضح فرق ہوتا ہے۔ جب کسی پوری نسل کو محض چند نعروں یا مغربی اصطلاحات کے سہارے "بومرز" کہہ کر ایسے پیش کیا جائے جیسے وہ تمام مسائل کی جڑ ہو، تو یہ رویہ نہ صرف غیر منصفانہ محسوس ہوتا ہے بلکہ اُن لاکھوں لوگوں کی قربانیوں کو بھی نظرانداز کر دیتا ہے جنہوں نے اپنی زندگیوں کا بہترین حصہ اس ملک اور اپنے خاندانوں کے لیے وقف کر دیا۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہر نسل اپنی آنے والی نسل کے لیے راستہ ہموار کرتی ہے۔ آج کے نوجوان جن آزادیوں، سہولتوں اور امکانات کے ساتھ اپنی زندگیاں تشکیل دے رہے ہیں، ان کی بنیاد اُن لوگوں نے رکھی جو ان سے پہلے آئے۔ اس حقیقت کا اعتراف کرنا کسی کی آزادیِ اظہار چھیننا نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور تہذیبی ذمہ داری ہے۔
ساتھ ہی یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر نئی نسل کو پچھلی نسلوں سے شکوہ ہے، تو وہ خود اس ملک، اس معاشرے اور اپنے مستقبل کے لیے کیا کردار ادا کر رہی ہے؟ تنقید کرنا آسان ہے، لیکن تعمیر کرنا مشکل۔ بہتر زندگیوں سے لطف اندوز ہونا، جو دوسروں کی دہائیوں پر محیط محنت اور قربانیوں سے ممکن ہوئیں، یقیناً خوش آئند ہے، مگر اصل امتحان یہ ہے کہ آنے والی نسلیں خود کیا تعمیر کرتی ہیں، کیا اقدار چھوڑ کر جاتی ہیں اور اپنے بعد آنے والوں کے لیے کیسا پاکستان بناتی ہیں۔
درحقیقت ایک مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں نسلیں ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہونے کے بجائے ایک دوسرے کی کاوشوں کو سمجھیں، تسلیم کریں اور آگے بڑھائیں۔ بزرگ نسل اگر تجربے، صبر اور قربانی کی علامت ہے تو نوجوان نسل توانائی، نئے خیالات اور تبدیلی کی خواہش کی نمائندہ ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اختلاف کو دشمنی نہ بنایا جائے اور مکالمے کو احترام، توازن اور تاریخی شعور کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔

