Pakistan Mein Barish Rehmat Se Ziyada Zehmat
پاکستانی بارش رحمت کم زحمت زیادہ

پاکستان میں بارش کا انتظار اس طرح کیا جاتا ہے جیسے کوئی پرانا دوست برسوں بعد ملنے آ رہا ہو۔ لوگ خوش ہوتے ہیں، دعائیں مانگتے ہیں اور بارش کی پہلی بوند گرتے ہی خوشی سے چھت پر دوڑ جاتے ہیں۔ مگر یہ خوشی زیادہ دیر نہیں چلتی کیونکہ پاکستانی بارش رحمت کے ساتھ ساتھ اپنے ساتھ کئی مہمان بھی لے کر آتی ہے اور یہ مہمان بن بلائے آتے ہیں اور جلدی جاتے بھی نہیں۔
بارش شروع ہوتے ہی پہلا کام یہ ہوتا ہے کہ گھر کی چھت سے پانی ٹپکنا شروع ہو جاتا ہے۔ ہر گھر میں ایک نہ ایک ایسی جگہ ضرور ہوتی ہے جہاں پانی آتا ہے اور گھر والے برسوں سے اس جگہ کو جانتے ہیں مگر ٹھیک کرنا بھول جاتے ہیں۔ بارش آتے ہی برتن نکالے جاتے ہیں، تسلے رکھے جاتے ہیں اور گھر کا فرش ایک چھوٹے سے تالاب کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہ منظر ہر سال آتا ہے اور ہر سال نیا لگتا ہے۔
سڑکوں کا حال تو اور بھی دلچسپ ہوتا ہے۔ پاکستانی سڑکیں بارش کا انتظار اس لیے کرتی ہیں کہ انہیں بھی پتہ ہے کہ ان کی اصل حالت بارش میں ظاہر ہوگی۔ جو گڑھے سالوں سے چھپے ہوئے تھے وہ سامنے آ جاتے ہیں۔ موٹرسائیکل سوار پانی میں ڈوبی سڑک پر اس طرح چلتے ہیں جیسے سمندر عبور کر رہے ہوں اور گاڑیاں اس طرح پھنستی ہیں جیسے انہوں نے وہاں مستقل رہائش اختیار کر لی ہو۔ ٹریفک جام ہوتا ہے، لوگ پھنستے ہیں اور گھنٹوں بعد گھر پہنچتے ہیں۔
بارش میں پاکستانی نوجوانوں کا جوش دیدنی ہوتا ہے۔ پہلی بارش آتے ہی سوشل میڈیا پر تصویریں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ کوئی بھیگتے ہوئے تصویر لگاتا ہے، کوئی چائے کی پیالی کے ساتھ، کوئی پکوڑوں کے ساتھ۔ بارش اور پکوڑے کا رشتہ پاکستان میں اتنا پرانا ہے کہ شاید یہ آئین میں لکھا ہونا چاہیے کہ بارش میں پکوڑے کھانا قومی فریضہ ہے۔
مگر اسی بارش میں ایک اور طبقہ بھی ہے جو بہت پریشان ہوتا ہے اور وہ ہیں طالبعلم۔ امتحان کی تیاری چل رہی ہو، بجلی پہلے سے غائب ہو اور اوپر سے بارش شروع ہو جائے تو پڑھائی کا جو حشر ہوتا ہے وہ بیان سے باہر ہے۔ کتابیں بچانی ہیں، چھت سے پانی روکنا ہے، گھر والوں کی مدد کرنی ہے اور ساتھ میں پڑھنا بھی ہے۔ ایسے میں پاکستانی طالبعلم جو کچھ سیکھتا ہے وہ کسی یونیورسٹی میں نہیں سکھایا جاتا۔
بارش کے بعد کا منظر بھی کم دلچسپ نہیں ہوتا۔ گلیوں میں پانی کھڑا ہے، مچھر خوش ہیں، بجلی غائب ہے اور ہر طرف کیچڑ ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو فون کرتے ہیں کہ "آپ کے علاقے میں پانی کتنا ہے" اور یہ گفتگو اس وقت تک جاری رہتی ہے جب تک موبائل کی بیٹری ختم نہ ہو جائے۔
مگر سچ یہ ہے کہ بارش کے ساتھ جو خوشی آتی ہے وہ ان تمام تکلیفوں سے بڑی ہے۔ مٹی کی سوندھی خوشبو، ہوا کی ٹھنڈک، بچوں کی خوشی اور چائے کی چسکی، یہ سب مل کر ایک ایسا لمحہ بناتے ہیں جو یاد رہتا ہے۔ پاکستانی بارش سے تنگ بھی ہوتے ہیں اور بارش کا انتظار بھی کرتے ہیں کیونکہ یہی ان کی فطرت ہے۔
آخر میں بس اتنا کہنا ہے کہ پاکستانی بارش ہو یا نہ ہو، پاکستانی ہر حال میں مسکراتے ہیں۔ بارش آئے تو پکوڑے بناتے ہیں اور بارش نہ آئے تو چائے پیتے ہیں۔ اس قوم کو کوئی موسم نہیں روک سکتا!

