Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Basharat Ali Chaudhry
  4. Ilm Ke Culture Ka Firogh

Ilm Ke Culture Ka Firogh

علم کے کلچر کا فروغ

علم کے کلچر کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔۔ علم صرف معلومات فراہم نہیں کرتا بلکہ شعور بھی بانٹتا ہے۔۔ فکر کی آبیاری بھی کرتا ہے۔۔ قوت استدلال و استنباط کو بھی پختہ کرتا ہے۔۔ کردار سازی میں بھی مدگار بنتا ہے۔۔ مثبت رویوں کی جان کاری کے ساتھ مثبت بننے کی طرف راہنمائی بھی کرتا ہے۔۔ جذبات و احساسات کی نمو کرتے ہوئے ان کو پروان بھی چڑھاتا ہے۔۔ غلط و صحیح میں تمیز بھی سکھاتا ہے۔۔ انسان کو صحیح معنوں میں انسان بھی بناتا ہے۔۔ گرتے ہووں کو بھی اٹھاتا ہے۔۔ حق کے بول بالا کی تڑپ جگاتا ہے۔۔ ایمانی کیفیات کو بڑھاتا ہے۔۔ کچھ کر گزرنے پر آمادہ بھی کرتا ہے۔۔ معاشرتی تعلقات ہوں یا اخلاقی قدروں کی بابت راہنمائی، علم ہر اعتبار سے معاون ہی رہتا ہے۔۔ سیاسی سوجھ بوجھ ہو یا عائلی زندگی کی جان کاری، علم سے ہی تقویت پاتے ہیں۔۔

لاعلمی بے راہروی ہے۔۔ جہالت فتنہ ہے۔۔ علم سے دوری حماقتوں کی طرف لے جاتی ہے۔۔ بے حسی کو پروان چڑھاتی ہے۔۔ عدم برداشت کو بڑھاتی ہے۔۔ انتہا پسندانہ رجحانات کو تقویت دیتی ہے۔۔ "توں توں میں میں" بڑھتی ہے۔ حسد و بدگمانی کا راج ہوتا ہے۔۔ منفی سوچوں کا دل و دماغ پے ڈھیرہ لگتا ہے۔۔ انسانیت کی تذلیل ہوتی ہے۔۔ بدمعاشی نئے رنگ میں جلوہ گر ہوتی ہے۔۔ سیاست عدم استحکام پاتی ہے۔۔ روایات دم توڑ جاتی ہیں۔۔ معاشرتی زندگی جمود و تعطل کا شکار بن جاتی ہے۔۔ اخلاقی قدریں پامال ہوتی ہیں۔۔ جب یہ سب کچھ ہو رہا ہے تو کیا ایسا ہی ہوتا رہیگا؟ اور کیا ایسا ہی ہوتا رہنا چاہیے؟ کوئی اس کے خاتمے کی تدبیر نہیں کرئے گا؟ بہترین امت تو تبھی بنیں گے جب نیکی کا حکم اور برائی سے منع کرنے والے بنیں گے۔۔ نبوی تعلیمات سے قوم کو روشناس کریں گے۔۔ تب کہیں جا کر "چمن میں دیدہ ور پیدا" ہوگا۔۔

علم کے فروغ کے لئے ایسی ہی ایک کوشش میں حاضری کا موقع ملا۔۔ "علم و فضیلت علم" کے موضوع پر نشست بھی ہوئی۔ کچھ سیکھنے سیکھانے کا موقع بھی ملا۔۔ کچھ آہوں و سسکیوں میں مقصدیت کی طرف بلاوئے کی باز گشت بھی سنائی دی۔۔ کچھ فکری و خلوص بھرے لوگوں کی سنگت بھی میسر آئی۔۔ کچھ علمی شہسواروں کی صحبت سے فیضیابی مقدر بنی اور ایک نئے عزم کا پتہ چلا کہ پانچ سالوں میں 25000 مراکز علم قائم کئے جائیں گے۔۔ ہر خاص و عام مرد و خواتین علم کی خیرات پائیں گے۔۔ کوئی نئی عمارت نہیں خریدی جائے گی۔ نہ ہی کرائے پے لی جائیگی۔۔ ہر گھر و مسکن "مرکز علم" بنے گا۔۔ ماں پھر سے پہلی "درس گاہ" بننے کا حق ادا کرئے گی۔۔

مسکن سے علم مسجد کی دہلیز سے ہوتا ہوا مکتب سے گزرتا ہوں ہر شعبہ میں بدلاؤ کی کوشش کرئے گا۔۔ معاشروں کو سنوارنے کی ایک اجتماعی، فعال اور موثر کوشش کی جائیگی۔۔ وہ بھی بالکل "فری" قران و صاحب قرآن سے جوڑنے کی ایک عمدہ کوشش کی جائیگی۔۔ نسل نو کو "فتنہ الحاد" سے بچاتے ہوئے معاشرے کے ایک اہم فرد بنانے تک کی سعی خالصتا رضائے الٰہی اور رضائے نبوی ﷺکی جائیگی۔۔ یہ "علمی کوشش" ڈاکٹر طاہر القادری اور ان کی ٹیم کے علاوہ باقی درد دل بھی کر سکتے ہیں اور یقیناً کچھ کرتے بھی ہوں گے۔۔ بقول اشفاق احمد "طلب صادق اور نیت خالص ہو تو منزل مل ہی جاتی ہے"۔۔

اس عمدہ کوشش پے ٹیم منہاج القرآن میرپور کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔۔ اللہ سے دعا ہے کہ علم کے اس سفر میں برکتیں ہوں۔۔ رحمتیں ہوں۔۔ عمدہ معاشرہ بنے۔۔ قوم کو عروج ملے۔۔ جذبے رنگ لائیں اور رب کی بارگاہ میں سرخروئی مقدر بنے۔۔ علم کا کلچر فروغ پائے۔۔ "اپنے آباء کی کتب سے استفادہ کرتے ہوئے دلوں کو سی پارہ" ہونے سے بچاؤ کی تدبیر میسر آئے۔۔ "انما بعثت معلما" کی آواز و فیض ہمارے کانوں میں صرف رس نہ گھولے بلکہ روح کی گہرائیوں تک ہمیں عمل میں بھی ڈھالے۔ ہمارے ظاہر و باطن منور ہوں ہمارے کردار و احوال سنوریں اور ہمارے وجود و افکار سے معاشرے میں "بدلاؤ " آئے۔۔

Check Also

Taqat, Maeeshat Aur Technology Ki Nai Jang

By Tehreem Ashraf