Kahani Dunya Ko Bigar Bhi Rahi Hai
کہانی دنیا کو بگاڑ بھی رہی ہے

ہم نے ایک جگہ پڑھا کہ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کی ایک تحقیق کے مطابق امریکہ میں کسی بچے کے اغوا ہونے کا امکان 0.00007 فیصد سالانہ ہوتا ہے، یعنی 14 لاکھ میں ایک۔ یہ امکان اتنا کم ہے کہ اسے ماہرین صفر کے برابر قرار دیتے ہیں۔ لیکن 2022 میں پیو ریسرچ کے ایک سروے میں پایا گیا کہ 59 فیصد فیصد امریکی والدین اپنے بچوں کے اغوا ہونے کے بارے میں تشویش کا شکار ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ تقریباً 60 فیصد امریکیوں کو ایک انہونی کا خدشہ کھائے جا رہا ہے جس کا امکان قریب قریب صفر ہے۔
ادھر 24 کروڑ کے پاکستان میں کسی بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کی خبر چھپتی ہے تو گوادر سے گلگت تک مائیں بچوں کا گلی میں جانا بند کر دیتی ہیں۔
شماریات کی ایک اور مثال دیکھیے: تازہ اعداد و شمار کے مطابق ہوائی جہاز کے حادثے میں مرنے کا امکان ایک کروڑ دس لاکھ میں ایک ہوتا ہے، لیکن آپ جہاز میں سفر کریں تو دیکھیں کہ اڑان بھرتے وقت کئی مسافروں کی آنکھوں میں خوف لکھا نظر آتا ہے۔ سروے کہتا ہے کہ 40 فیصد مسافر ہوائی سفر سے کسی نہ کسی حد تک ڈرتے ہیں۔
ایسا کیوں ہے؟ ہم ایسی چیزوں سے کیوں خواہ مخواہ اپنے آپ کو ہلکان کیے رکھتے ہیں جن کے ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے؟ اور اس بات کا ہماری کہانی سے کیا تعلق ہے؟
ان دونوں سوالوں کے جواب حاصل کرنے کے لیے ماضیِ قریب کی تاریخ کا ایک چھوٹا سا سفر کر لیتے ہیں۔
خبروں کی بمباری
1980 میں ٹیڈ ٹرنر نامی ایک سرپھرے امریکی کاروباری شخص کو، جس نے کیریئر کا آغاز بل بورڈ کے اشتہاروں کے سیلزمین کی حیثیت سے کیا تھا، بڑے دور کی کوڑی سوجھی کہ کیوں نہ 24 گھنٹے خبروں کا چینل کھولا جائے۔
یہ بات اس وقت کے امریکہ میں ان سنی تھی۔ لوگوں نے سوچا کہ اول تو 24 گھنٹے تک مسلسل خبریں آئیں گی کہاں سے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ڈھونڈ ڈھانڈ کر اگر دن رات خبریں دے بھی دی جائیں تو کون پاگل 24 گھنٹے خبریں دیکھے گا؟
لیکن ٹرنر کو اس کی پروا نہیں تھی، اس نے یہ چینل کھول ہی دیا اور اس کا نام رکھا کیبل نیوز نیٹ ورک، یعنی سی این این۔ 11 سال تک سی این این گرتا پڑتا چلتا رہا اور اس کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا گیا، لیکن پھر ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے نیوز انڈسٹری ہی نہیں، دنیا کو بدل کر رکھ دیا۔
ہوا یوں کہ 1991 میں امریکہ نے عراق پر آپریشن ڈیزرٹ سٹورم، کے تحت ہلہ بول دیا۔ جس رات بغداد پر امریکی طیاروں نے بم برسانا شروع کیے، حسنِ اتفاق سے، اس وقت سی این این کا ایک رپورٹر عراق کے الرشید ہوٹل میں موجود تھا جس نے سی این این کی سکرین پر تاریک بغدادی آسمان کو امریکی بموں سے روشن ہوتے کیا دکھایا کہ امریکہ کیا، دنیا بھر کے چودہ طبق روشن ہو گئے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ دنیا کوئی جنگ لائیو دیکھ رہی تھی۔
یہ صحافت کے لیے واٹر شیڈ لمحہ تھا، جس کے بعد دنیا بھر میں 24 گھنٹے کے نیوز چینل چٹ پٹی افواہوں کی طرح پھیل گئے اور ہر بڑا نشریاتی ادارہ لگاتار خبریں نشر کرنے والے چینل کھولنے کی بھیڑ چال میں شریک ہوگیا۔
عجیب بات یہ ہے کہ 1927 میں دنیا کا پہلا ٹیلی ویژن سٹیشن کھلنے کے بعد نصف صدی تک جس بات کی کسی کو ضرورت محسوس نہیں ہوئی، 91 کے بعد اس کے بغیر ٹیلی ویژن کا تصور ہی محال ہوگیا۔
اس سے پہلے کی دنیا میں اکثر ریڈیو اور ٹی وی چینلوں پر دن میں دو ایک بار خبریں چلا دی جاتی تھیں، جن میں دن بھر کے اہم واقعات کا خلاصہ پیش کر دیا جاتا تھا۔ خود ہمارے ہاں خبرنامہ، رات کو نو بجے آتا تھا اور لوگ اسے دیکھ کر واقعات کی گھڑی کی سوئیاں درست کر لیتے تھے، یا جنہیں بہت شوق ہوتا تھا، وہ آٹھ بجے ریڈیو پر لمبا ایریئل لگا کر بی بی سی کا پروگرام سیربین، سنا کرتے تھے۔ اگر دن کو کوئی واقعہ ہو بھی گیا، مثال کے طور سکھر میں ٹرین پٹری سے اتر گئی اور کسی طریقے سے ایبٹ آباد کے لوگوں کو پتہ چل بھی گیا تو وہ کہتے تھے، چلو رات کی خبریں میں تفصیل آ جائے گی، ورنہ کل کا اخبار پڑھ لیں گے اور اس وقت تک اگر ایک ایک جزئیات کا علم نہ ہو تو کوئی آسمان نہیں ٹوٹنے والا۔
گویا فوری طور پر ایک ایسی خبر کے بارے میں ہمیں لائیو اور لمحہ بہ لمحہ تفصیلات جاننے کا شوق نہیں ہوتا تھا جس کا ہماری زندگیوں سے کوئی خاص تعلق نہ ہو۔
اس شدید کمی، کو پہلے تو لائیو نیوز چینلوں نے دور کیا جن کی ڈی ایس این جی گاڑیاں ملک بھر میں بھنبھناتی پھرتی ہیں اور کہیں کوئی سلنڈر پھٹا نہیں یا ٹرانسفارمر سے چنگاریاں اڑی نہیں کہ یہ ترنت وہاں پہنچ گئیں اور ان کے رپورٹر پھولی ہوئی سانسوں سے چیخ چیخ کر پوری قوم کو اس تہلکہ خیز، دھماکے دار، بڑی خبر، سے یوں آپ ڈیٹ کرنے لگے جیسے قیامت ابھی آئی کہ آئی۔
رہی سہی کسر سوشل میڈیا کی ہڑبونگ نے پوری کر دی ہے۔ اب یہ عالم ہے کہ بچہ بڑا، مرد عورت گردن نیہوڑائے خود کو سیکنڈ بہ سیکنڈ آپ ڈیٹ رکھتا ہے چاہے وہ سیاسی واقعات ہوں، حادثات ہوں یا جرائم، ہر کسی کو ہر جگہ کے بارے میں سب کچھ پتہ ہوتا ہے، جس کو نہ ہو وہ موبائل کی سکرین سکرولتا پھرتا ہے۔
یہ کیوں مسئلہ ہے؟ اس لیے کہ ہم جان چکے ہیں کہ کہانی کی کون سی چیز ہمیں جکڑتی ہے۔ اوپر ہم نے جو کہانی نمبر 1 سنائی تھی، جس میں سب اچھا، کی رپورٹ تھی، وہ کسی کو متاثر نہیں کرے گی۔
روس میں ایک آن لائن اخبار نے ایک دلچسپ فیصلہ کیا کہ قتل و غارت، حادثوں اور چوری ڈاکے کی خبریں معاشرے میں مایوسی پھیلاتی ہیں اس لیے آئندہ سے ہم صرف اچھی اور مثبت خبریں چھاپا کریں گے۔ مثلاً
برفانی طوفان کے باوجود سڑکیں کھلی ہیں۔۔
کھمبے گرنے کے باوجود ماسکو کے چار ہزار گھر اب بھی روشن۔ علیٰ ہذا القیاس۔
نتیجہ کیا نکلا کہ صرف ایک دن کے اندر اندر اخبار کی اشاعت میں دو تہائی کی کمی واقع ہوگئی اور اسے مجبوراً اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔
اخبار کی ایڈیٹر نے فیس بک پر لکھا، ہم دن بھر کی خبروں کے صرف مثبت پہلو دیکھتے تھے اور ہمارا خیال ہے کہ ہم انہیں ڈھونڈنے میں کامیاب بھی رہے تھے۔ مگر مصیبت یہ ہے کہ کوئی انہیں پڑھنا نہیں چاہتا۔۔
یہی چیز دنیا کو کھائے چلی جا رہی ہے۔
ہم نے اوپر آپ کو بتایا تھا کہ تقریباً 60 فیصد امریکیوں کو دھڑکا لگا ہے کہ ان کا بچہ اغوا ہو جائے گا حالانکہ اس کا امکان 14 لاکھ میں ایک ہے۔ اس دھڑکے کا باعث یہ ہے کہ میڈیا بچوں کے اغوا کو لگاتار وال ٹو وال کوریج دیتا ہے۔ 33 کروڑ کے ملک میں ایک بچہ اغوا ہو جائے تو ٹی وی چینل چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں اور لوگ اپنے بچوں کو غیر محفوظ تصور کرنے لگتے ہیں۔
یہی حال ہوائی سفر کا ہے، جو چاہے کار اور ریل کے مقابلے پر کتنا ہی محفوظ کیوں نہ ہو، لیکن چونکہ جہاز کے حادثوں کو غیر معمولی کوریج ملتی ہے، اس لیے ان کے ساتھ غیر معمولی خوف بھی نتھی ہوگیا ہے۔
ہم نے آپ کو بتایا تھا کہ کہانی کا ارتقائی مقصد انسان کی تربیت اور رہنمائی ہوتا ہے۔ حقائق بھول جاتے ہیں، کہانی یاد رہتی ہے، ایک تحقیق کے مطابق روکھے پھیکے حقائق کی نسبت کہانی میں 22 گنا زیادہ یاد رہنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اس لیے کہانی میں اتنی طاقت، کشش اور اثرانگیزی رکھ دی گئی ہے۔
ہم نے جو عظیم ادبی شاہکاروں کا تذکرہ کیا، وہ کبھی کبھی پڑھے جاتے تھے، جن پر ہفتوں (روسی ناولوں کی صورت میں مہینوں!) لگا کر تنہائی میں غور و فکر کیا جاتا تھا، ناولوں کے کردار ساری زندگی ساتھ رہتے تھے اور ان سے انسان اپنی زندگی کے قطب نما کی درستگی (کیلیبریشن) میں مدد ملتی تھی۔
لیکن 24 گھنٹے کے نیوز چینلوں اور آج کے سوشل میڈیا نے اس گھوڑے کو ایڑ لگا کر بگٹٹ کر دیا ہے اور اب نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں۔
یہ وہ چیز ہے جسے مس انفارمیشن یا فیک نیوز کہا جاتا ہے۔ اس کی مدد سے لوگوں میں بددلی، خوف اور نفرت اس پیمانے پر پھیلائی جا رہی ہے جس کا ہٹلر کے پراپیگنڈسٹ گوئبلز نے کبھی خواب بھی نہ دیکھا ہوگا۔
کہانی کی سب سے بڑی خوبی، یعنی اس کی تاثیر، سب سے بڑی خامی بن گئی ہے۔ وہی کہانی جو دنیا کو معنویت عطا کرتی ہے، اس سے انتشار اور لایعنیت پھیلائی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف ملکوں نے روایتی میڈیا اور سوشل میڈیا دونوں کو کنٹرول کرنے کے نت نئے طریقے وضع کرنا شروع کر دیے ہیں۔ فیس بک اور ٹوئٹر جیسے سوشل میڈیا ادارے مس انفارمیشن کو محدود کرنے کے طریقے سوچ رہے ہیں مگر فی الحال تو ناکام ہی رہے ہیں۔
کہانی میں انسانی اس لیے کشش محسوس کرتا ہے کہ وہ اس کی زندگی کو معنویت بخشتی ہے۔ انسان کو سماجی جانور کہا گیا ہے، مگر زیادہ بہتر تعریف قصہ گو جانور ہو سکتی ہے، لیکن اگر یہ قصہ گو اپنے قصوں کی دو دھاری تلوار کو احتیاط سے استعمال نہ کرے تو اب تک اس نوع نے جتنا فائدہ اٹھایا ہے، اتنے ہی نقصان کا خدشہ ہے۔

