Sarkari Naukri Kyun Chori?
سرکاری نوکری کیوں چھوڑی؟

سینکڑوں قریبی لوگوں نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارے پاس سرکاری سکیل سترہ کی مستقل اور با عزت جاب تھی۔ کیسا پاگل پن کیا تم نے کہ ریزائن کر دیا۔ اب تو ملازمت ملتی ہی نہیں ہے۔ اپنی ملازمت چھوڑنے کا ایک پہلو بس آج مختصرا بیان کروں گا۔ اسکے علاوہ اور بھی کئی وجوہات ہیں۔ جن کی بنا پر اب سرکاری نوکری میں رہنا ممکن نہیں تھا۔
سال 2015 اگست میں میری پہلی سرکاری تنخواہ آئی۔ رقم تھی 49,882 مجھے آج بھی یاد ہے اور اسی ماہ سونے کا ایک تولہ 44 ہزار سے چند سو اوپر تھا۔ یعنی ایک تولہ سونے سے بھی زیادہ ماہانہ اجرت۔ آپ یقین کریں یہ اس وقت بہت پیسے تھے۔ ہر چیز اتنی مہنگی نہیں تھی یہ پیسے آج کے پانچ لاکھ روپے کے برابر تھے۔ سال گزرتے رہے تنخواہ بڑھتی رہی مگر اتنی ایک سال بھی نہیں بڑھی جس سرکاری اعداد و شمار سے مہنگائی بڑھ رہی تھی۔ دس سال گزر گئے اور سال آگیا 2024 جب میں نے جاب چھوڑ دی۔ میری لاسٹ سیلری ڈیڑھ لاکھ روپے کے قریب تھی۔ یعنی ان پیسوں سے چار ماشے سونا مل سکتا ہے۔ دو تہائی ان دس سالوں میں تنخواہ کم ہوگئی۔ چاہئیے تو یہ تھا کہ دس سال بعد دس فیصد سالانہ اضافے کے بعد سونے کی قیمت یا مہنگائی کے تناسب سے ڈبل ہوتی۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اگر ایک تولہ سونے کے برابر بھی ہوتی تو پانچ لاکھ ہوتی۔ یعنی دس سال میں ایک فیصد بھی نہ بڑھتی۔
اور جب میں نے اپنے سے آگے بیس تیس سالہ سروس والوں کو دیکھا تو انکے ساتھ مجھ سے بھی بڑا پرینک ہو چکا تھا۔ بس پھر فیصلہ کیا اور ملازمت کو الوداع کہہ کر بھرے میلے سے نکل گیا۔ آپ کرتے رہیں میلہ اجڑنے کا انتظار۔ اپنا اور اپنے اہل و عیال کا پیٹ کاٹ کر جاب کو گلے لگائے رکھیں۔ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کوئی عیش نہیں بس گزارہ بھی مناسب سا آپ کی تنخواہ کرا سکتی ہے۔ آپ کی نان اے سی لائف اور بائیک ہے بغیر گاڑی و اے سی کے بھی دس میں سے چار ضرورتوں پر آپ کمپرومائز کرکے ان کو پینڈنگ کر دیں گے۔ یہ ہے حقیقت جاب کی جو کوئی کھل کر نہیں بتاتا اور جنکے پاس سرکاری جاب نہیں وہ اسے نجانے کیا توپ چیزسمجھتے ہیں۔
اسی سال 2015 میں میرا ایک دوست مسقط سپیشل ایجوکیشن ٹیچر کی ملازمت پر آگیا۔ جب میری سکیل سترہ میں سلیکشن ہوئی۔ اسکی ابتدائی تنخواہ تین سو عمانی ریال لگی جو اب نو سو عمانی ریال ہوچکی ہے۔ جو پاکستانی ساڑھے چھ لاکھ روپے بنتی ہے اور ہر سال گرمی میں چھٹیوں کے دوران دو ماہ Paid leave پر پاکستان رہ کر آتا ہے۔ اسکا جی پی فنڈ جو سکول کی طرف جمع ہو چکا ہے وہ ساڑھے آٹھ ہزار عمانی ریال یعنی اکسٹھ لاکھ روپے ہے اور میرا جی پی فنڈ تھا کوئی تین چار لاکھ روپے آئی تھنک۔
پڑھے لکھے اور قابل لوگوں کو سرکاری ملازمت کا آج کے دن تک کتنا بڑا دھوکہ ملتا ہے۔ یہ سمجھ آتے اور ظالمانہ غیر منصفانہ سیلری و انکریمنٹ سسٹم کے فارمولے اور ریٹائرمنٹ پلان کی سوجھ بوجھ ہونے تک بہت وقت گزر چکا ہوتا ہے۔ پھر گلے پڑا ڈھول بجانا پڑتا ہے۔ تنخواہ نہ تو بھوکا مرنے دیتے ہے نہ ہی خوشحال ہونے دیتی ہے اگر آمدنی بس حلال کی ہو اور کوئی دوسرا ذریعہ آمدن نہ ہو۔
آپ نوجوان ہیں۔ پڑھے لکھے ہیں۔ قابل ہیں۔ اگر آپ روزگار کے لیے ملازمت کرنا چاہ رہے ہیں تو اور کچھ بھی کر لیں۔ وہاں رہیں یا کہیں ہجرت کر لیں اب پوری دنیا کو اپنا ملک سمجھیں۔ سرکاری جاب ہر گز نہ کریں۔ یہ روز مرہ کے معمولات چلانے کی اوقات اور حیثیت نہیں رکھتی۔ ہاں آپ کی شادی اچھی جگہ ہو جائے گی وہ لوگ آپ کی عزت بھی کریں گے جو سرکاری جاب میں نہیں ہیں۔ یا وہ جن کو آپ سے کام ہیں۔ ٹور ٹپہ بنانا ہے، کوئی اور ذریعہ آمدن بھی ہے، بس تنخواہ سے گھر نہیں چلانا تو چپڑاسی، کسی بھی فورس میں سپاہی، کلرک وغیرہ بھی بن کے آپ کی رشتہ داروں اور گاؤں وغیرہ میں بلے بلے ہو جائے گی۔ کہ سرکاری ملازمت ملی ہے۔ وہ آپ کو چند سال بعد معلوم ہوگا کہاں ذلیل ہونے آگیا ہوں۔ تب نوکری سانپ کے منہ میں آئی چھپکلی بن چکی ہوگی، کھائے تو مرے چھوڑے تو عزت نہ رہے۔

