Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Saleem Zaman
  4. Tufan e Nooh: Aik Global Reset

Tufan e Nooh: Aik Global Reset

طوفانِ نوحؑ: ایک گلوبل ری سیٹ

1۔ دنیا بھر کے "آثارِ قدیمہ" (پرانی تہذیبوں کے نشانات) کے ماہرین اور بالخصوص مسیحی محققین دہائیوں سے کوہِ ارارات کی برفانی چوٹیوں پر لکڑی کا ایک ایسا ڈھانچہ تلاش کر رہے ہیں جسے وہ "کشتیِ نوح" ثابت کر سکیں۔ ان کی تمام تر تگ و دو بائبل کی فراہم کردہ اس "ٹائم لائن" (زمینی ترتیب) کے گرد گھومتی ہے جو اس عظیم واقعے کو محض چھ سے آٹھ ہزار سال قدیم بتاتی ہے۔ لیکن یہاں ایک ہولناک سائنسی تضاد کھڑا ہوتا ہے کہ "ارضیات" (زمین کی بناوٹ کا علم) کا کوئی بھی ریکارڈ گزشتہ دس ہزار سال میں کسی ایسے طوفان کی گواہی نہیں دیتا جس نے سترہ ہزار فٹ بلند پہاڑوں کو ڈبو دیا ہو۔ اگر ہم مسیحی "ٹائم لائن" (زمینی ترتیب) کو مان لیں تو ہمیں سائنس کا انکار کرنا پڑے گا اور اگر سائنس کو مانیں تو بائبل کا بیانیہ کمزور پڑ جاتا ہے۔

2۔ آج ہمیں اس مروجہ تاریخ کو چیلنج کرنا ہوگا اور سائنس کو یہ باور کرانا ہوگا کہ وہ لکڑی کے تختے ڈھونڈنا چھوڑ دے۔ یہ واقعہ محض ایک مقامی سیلاب نہیں بلکہ زمین کا "گریٹ ری سیٹ" (عظیم عالمی بحالی) تھا جو آج سے تقریباً پچاس لاکھ سال پہلے پیش آیا۔ یہ وہ دور تھا جب زمین کے تمام "براعظم" (خشکی کے بڑے ٹکڑے) ایک دوسرے کے قریب تھے اور انسانیت اپنی دوسری پیدائش کے دہانے پر کھڑی تھی۔

3۔ قرآنِ کریم اس طوفان کے ہولناک آغاز کو ایک منفرد اصطلاح "وفار التنور" (اور تنور ابل پڑا) سے بیان کرتا ہے۔ عام قاری اسے روٹی پکانے والا تنور سمجھتا ہے، لیکن سائنسی و ارضیاتی نقطہ نظر سے یہ اس شدید "ہائیڈرولک پریشر" (پانی کے اندرونی دباؤ) کی علامت تھی جب سمندروں کے غیر معمولی دباؤ نے زمین کے اندرونی "آبی ذخائر" (زمین کے نیچے پانی کے ٹینک) کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اس عظیم طوفان کا آغاز اس وقت ہوا جب بحرِ اوقیانوس کے بے پناہ پانی نے "جبلِ طارق" (ایک مشہور پہاڑی درہ) کے قدرتی بند کو توڑ دیا۔ اس کائناتی حادثے نے بحیرہ روم کے خشک "بیسن" (گہرے زمینی پیالے) کو ایک ہولناک رفتار سے بھرنا شروع کیا۔ یہ پانی کا ایسا ریلا تھا جو فلسطین اور لبنان کے ساحلوں سے ٹکرا کر ایک ایسی عظیم "سونامی" (سمندری طوفان کی لہر) کی صورت اختیار کر گیا جو سطحِ سمندر سے سترہ ہزار فٹ کی بلندی تک چڑھ گئی اور کوہِ ارارات جیسے بلند پہاڑوں کو اپنے نیچے چھپا لیا۔ یہ محض بارش کا پانی نہیں تھا، بلکہ سمندر کا خشکی پر ایسا قبضہ تھا جس نے زمین کو دوبارہ "ری سیٹ" (نئے سرے سے بحال) کر دیا۔

4۔ جب یہ عظیم طوفان تھما اور پانی نے واپسی کا راستہ اختیار کیا، تو زمین کا نقشہ پہلے جیسا نہیں رہا تھا۔ اس "ری سیٹ" (عالمی بحالی) کے نتیجے میں وہ تین بڑے آبی راستے اور سمندر بنے جو آج بھی زمین کے سینے پر اس واقعے کا ثبوت بن کر موجود ہیں۔ بحیرہ اسود تب بنا جب بحیرہ روم کا دباؤ انتہا کو پہنچا اور اس نے "باسفورس" (پانی کا ایک تنگ راستہ) کے مقام سے زمین کو چیر دیا، اسی طرح بحیرہ احمر زمین کی "ٹیکٹونک پلیٹوں" (زمین کی اندرونی تہوں) کے کھچاؤ اور پانی کے اس عظیم ریلے سے وجود میں آیا۔ بحیرہ مردار اس عظیم طوفان کا وہ سب سے نچلا نشان ہے جہاں پانی قید ہو کر رہ گیا اور بعد ازاں یہی وہ مقام بنا جہاں قومِ لوطؑ کو عبرت کا نشان بنایا گیا۔

5۔ مسیحی محققین کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ لکڑی ڈھونڈ رہے ہیں۔ قرآنِ کریم نے اس کا حل سورہ اسراء کی پچاس ویں آیت میں دے دیا تھا کہ خواہ تم پتھر ہو جاؤ یا لوہا۔ سائنسی عمل "پیٹریفیکیشن" (نامیاتی مادے کا پتھر میں تبدیل ہونا) گواہ ہے کہ جب کوئی نامیاتی مادہ لاکھوں سال تک مخصوص معدنیات اور شدید دباؤ کے نیچے دبا رہے، تو اس کے ریشے ختم ہو جاتے ہیں اور ان کی جگہ لوہا، "سلیکا" (ایک قسم کی ریت) اور کیلشیم لے لیتے ہیں۔ جس طرح ہمیں آج پہاڑوں میں ایسے درختوں کے تنے ملتے ہیں جو دکھنے میں لکڑی ہیں لیکن مادی طور پر خالص پتھر بن چکے ہیں، اسی طرح حضرت نوحؑ کی کشتی بھی اب لکڑی کا ڈھانچہ نہیں رہی بلکہ وہ ایک دھاتی اور سنگی سانچہ بن چکی ہے جو پہاڑ کی کوکھ میں لوہے کی تہوں کی صورت میں محفوظ ہے۔

6۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمیں ان قدیم اور "عظیم الجثہ" (دیو قامت جسم والے) انسانوں کے ڈھانچے عام زمین کی سطح پر نہیں ملتے، کیونکہ لاکھوں سال کے ارضیاتی دباؤ اور سیلابی گارے نے انہیں سینکڑوں فٹ نیچے دفن کرکے یا تو پتھر میں بدل دیا ہے یا وہ لوہے اور کوئلے کی تہوں کا حصہ بن چکے ہیں۔ اب اگر ہمیں ان باقیات کو تلاش کرنا ہے، تو ہمیں "آثارِ قدیمہ" (پرانی تہذیبوں کے نشانات) کے روایتی مقامات کے بجائے لوہے، کوئلے اور چونے کی گہری کانوں میں جھانکنا ہوگا۔ جہاں آج ہم کوئلہ نکال رہے ہیں، ہو سکتا ہے وہ دراصل لاکھوں سال پہلے کے عظیم جنگلات یا بستیوں کا "کاربن" (نامیاتی مادہ) ہو جو "ری سیٹ" (عالمی بحالی) کے دوران پتھر بن گیا۔

7۔ طوفان کے بعد زمین پر ایک طویل اور شدید "برفانی دور" (زمین کا وہ وقت جب ہر طرف برف تھی) طاری ہوا جس میں انسانیت نے بقا کی سب سے بڑی لڑائی لڑی۔ جس طرح ناموافق حالات میں ایک قد آور درخت اپنی جبلت برقرار رکھنے کے باوجود ظاہری طور پر چھوٹا رہ کر "بونسائی" (گملے میں اگایا جانے والا چھوٹا درخت) بن جاتا ہے، اسی طرح طوفان کے بعد بچ جانے والے انسانوں نے بقا کے لیے خود کو "جینیاتی" (وراثتی ساخت) طور پر محدود کر لیا۔ بڑے جسم کو زیادہ توانائی اور خوراک چاہیے تھی جو اس "برفانی دور" (شدید سردی کا وقت) میں میسر نہیں تھی، چنانچہ انسان "بونسائی" (چھوٹے قد کا جاندار) بن کر غاروں اور قدرتی پناہ گاہوں میں روپوش ہوگیا تاکہ کم سے کم توانائی میں زندہ رہ سکے۔

8۔ مسیحی "ٹائم لائن" (زمینی ترتیب) کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ حضرت ابراہیمؑ کے دور میں موجود عظیم آبادیوں کی وضاحت نہیں کر پاتی۔ ہمارا مفروضہ اس معمے کو حل کرتا ہے کہ طوفانِ نوح اور حضرت ابراہیمؑ کے درمیان لاکھوں سال کا فاصلہ ہے۔ اس طویل عرصے میں انسان دوبارہ اپنی اصل قد و قامت کی طرف لوٹا اور پرانی تہذیبوں کے کھنڈرات پر نئے شہر آباد ہوئے۔ مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں اپنے خاندان کو چھوڑتے وقت حضرت ابراہیمؑ کا یہ اطمینان کہ یہاں سے قافلے گزرتے ہیں، اس بات کی دلیل ہے کہ پرانی تہذیبوں نے بین الاقوامی تجارتی شاہراہیں دوبارہ استوار کر لی تھیں۔

9۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم تاریخ کو آٹھ ہزار سال کے تنگ دائرے سے نکال کر لاکھوں سال کی وسعت میں دیکھیں۔ طوفانِ نوح محض ایک لوک داستان نہیں، بلکہ زمین کا وہ "جغرافیائی آپریشن" (زمین کی چیر پھاڑ) تھا جس نے پرانی دنیا کو دفن کرکے نئی دنیا کی بنیاد رکھی۔ اگر ہم اپنی تحقیق کا رخ لکڑی سے لوہے اور پتھر کی طرف پھیر دیں، تو ہمیں وہ تمام نشانات مل جائیں گے جنہیں سائنس آج تک قدرتی چٹانیں کہہ کر نظر انداز کر رہی ہے۔

نوٹ: یاد رہے یہ ایک مفروضہ ہے جو صرف عیسائی ٹائم لائین کا رد کرتا ہے اور جدید محققین کو دعوت تحقیقات دیتا ہے۔۔ کیونکہ آج تک پڑھی جانے والی تمام تفاسیر اسی عیسائی ٹائم لائین کے تحت واقعات کی تشریح کرتی ہیں۔۔ جن کی وجہ سے سائنس انھیں رد کرتی ہے اور جدید تعلیمیافتہ طبقہ مذاق بناتا ہے۔

Check Also

Kahani Pardesiyon Ki (2)

By Shair Khan