Jang Ki Fatah Mubarak
جنگ کی فتح مبارک

آج شام لبرٹی چوک جانا ہوا اور وہیں پھنس گیا۔ لبرٹی چوک کو خوب سجایا جا رہا تھا۔ پولیس کی بھاری نفری آل اطراف موجود تھی۔ چوک میں اسٹیج تیار ہو رہا تھا۔ میں نے شام چار بجے لبرٹی کے پارکنگ پلازہ میں گاڑی پارک کر دی اور نیچے اُتر کر لیمپس کی ایک دکان پر چلا گیا۔ بیگم ساتھ تھی۔ اس نے کچھ لیمپس وغیرہ دیکھنے تھے۔ لبرٹی لیمپس والے کافی وسیع ورائٹی رکھتے ہیں اور ان سے کچھ نہ کچھ گھر کے لیے لیتا رہتا ہوں۔
پارکنگ پلازہ سے باہر نکلا تو انکشاف ہوا ارد گرد کی دکانیں بند کرا دی گئی ہیں۔ وہیں دکان کا ایک ملازم گھوم رہا تھا اس نے پہچان لیا اور بولا کہ آپ میرے ساتھ آ جائیں۔ وہ ہمیں لے کر دکان میں لے گیا۔ ریسپشن پر مینجر صاحب بیٹھے تھے جو جانتے ہیں۔ میں نے سلام دعا کے بعد پوچھا کیا ہو رہا ہے؟ ہنستے ہوئے بولے "موتیاں آلیو، سال پہلاں تُسی ہی جنگ جتائی سی، بس آج اوسی سلسلے وچ رونقیاں لگیاں ہوئیاں"۔ مجھے یہ تو سمجھ آ گئی کہ دس مئی کی تقریب ہے لیکن میں نے انہیں کہا "تُسی جس طرحاں موتیاں آلیو آخیا اے مینوں تہاڈے تے شک جیہا پے ریا اے"۔ بولے "شاہ جی، تُسی اُچے بندے او، سانوں پچھو آئے روز لبرٹی چوک کج نہ کج ہوندا رہندا تے شامت ساڈی آ جاندی اے، کم ساڈا متاثر ہوندا اے"۔ خیر وہ جنگ کی سالگرہ کا ذکر خندہ پیشانی سے کرتے رہے۔
لیمپس لے کر نکلے تو بھیانک انکشاف ہوا کہ لبرٹی کے اردگرد سب ذیلی راستے قناتیں لگا کر بلاک کر دیے گئے ہیں۔ پارکنگ پلازہ سے نکل کر پولیس والے کو کہا کہ سر جی مجھے جانے دیں آپ کی مہربانی۔ اس نے صاف انکار کر دیا اور بولا کہ گاڑی پارک کرکے پیدل چلے جاؤ، رات بارہ کے بعد آ کر لے جانا۔ یہ سُن کر میرا بلڈ پریشر ہائی ہوگیا۔ میں نے پھر سے اسے عرض کی، وہ پھر انکاری رہا۔ اسی اثناء میں ایک اور پولیس والا آ گیا۔ اس نے میری معصوم صورت پر ترس کھایا اور قنات ہٹوا کر میری گاڑی نکلوا دی۔ آزو بازو کے سب روڈز پر ٹریفک جام ہو رہی تھی۔
ٹریفک جام سے بمشکل گاڑی نکلی تو بیگم صاحبہ نے اطلاع دیتے کہا "لائم لائٹ پر پچاس فیصد فلیٹ سیل لگی ہوئی۔ اگر آپ پانچ ہزار مجھے دے دیں تو ایک سوٹ آ جائے گا باقی میں خود ڈال لوں گی"۔ میں پہلے ہی خریداری کے بلز، ٹریفک کی صورتحال اور پولیس والے کے رویے پر تپا ہوا تھا۔ میں نے ہوں ہاں کیے بنا گاڑی کی رفتار بڑھا دی۔ یہ دراصل میری زندگی کی ایک اور اسٹریٹجک غلطی تھی۔ وہاں سے واپڈا ٹاؤن گیا۔ واپڈا ٹاؤن سے ایک کام بھگتا کر جیسے ہی نکلا ٹریفک وارڈن نے آگے آ کر گاڑی روک لی۔
سیٹ بیلٹ نہ لگانے پر اس نے مجھے پانچ ہزار کا چالان ٹھوک دیا۔ غلطی اپنی تھی سو چالان دینا تھا۔ آن لائن اسی وقت چالان بھرا۔ گاڑی چلی تو برابر والی سیٹ سے آواز آئی "بہت اچھا ہوا، میں کہتی ہوں وہ آپ کا دس ہزار کا چالان کرتا۔ یہی پانچ ہزار مجھے دیے ہوتے تو آپ کا چالان نہ ہوتا"۔ میں منہ بند کیے سنتا رہا۔ گھر پہنچا تو جنگ لگ گئی۔ ایک گھنٹہ گولہ باری ہوئی۔ میرے سب اڈے تباہ ہو گئے۔ ابھی پندرہ منٹ پہلے پانچ ہزار نقد ہرجانے کی ادائیگی کے عوض سیز فائر ہوا ہے۔ انشااللہ کل بیگم صاحبہ سوٹ لے لیں گی۔ آپ سب کو، لبرٹی چوک والوں کو اور صاحب لوگوں کو جنگ کی فتح مبارک۔ میں ابھی دلی و مالی طور پر زخمی ہوں مبارک جیسا کچھ محسوس نہیں کر پا رہا۔

