Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Kitab Tehzebon Ki Maa: Boo e Gul, Nala e Dil Aur Dood e Chiragh e Mehfil (24)

Kitab Tehzebon Ki Maa: Boo e Gul, Nala e Dil Aur Dood e Chiragh e Mehfil (24)

کتاب تہذیبوں کی ماں: بوئے گل، نالۂ دل اور دودِ چراغِ محفل (24)

زندگی کبھی ایک سیدھی لکیر نہیں ہوتی۔ یہ خوشبو، آہ، دھواں، روشنی، اندھیرا، ہجرت، یاد، شکست اور امید کے بے شمار موسموں سے مل کر بنتی ہے۔ بعض لوگ زندگی گزارتے ہیں اور بعض لوگ زندگی کو محسوس کرتے ہیں۔ جو لوگ زندگی کو محسوس کرتے ہیں، وہ اپنے اندر ایک پوری کائنات رکھتے ہیں۔ ان کی خاموشی میں داستانیں ہوتی ہیں، ان کی مسکراہٹوں میں شکستگی چھپی ہوتی ہے اور ان کے لفظوں میں برسوں کی جلتی ہوئی راتوں کا دھواں ہوتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں میں ایک نام شورش کاشمیری کا بھی ہے، جن کی شخصیت محض ایک صحافی، ادیب یا خطیب کی شخصیت نہیں تھی بلکہ ایک پورا عہد ان کے وجود میں سانس لیتا تھا۔ ان کی گفتگو میں آگ بھی تھی اور آنسو بھی، ان کے قلم میں بغاوت بھی تھی اور محبت بھی۔ شاید اسی لئے جب انہوں نے اپنی خود نوشت سوانح کا نام "بوئے گل نالۂ دل دودِ چراغِ محفل" رکھا تو یہ محض ایک ادبی ترکیب نہ رہی بلکہ پوری زندگی کا استعارہ بن گئی۔

شورش کاشمیری سے جب پوچھا گیا کہ انہوں نے اپنی خود نوشت کا یہ نام کس مناسبت سے رکھا ہے تو ان کا جواب اپنے اندر ایک پورا جہان رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "بوئے گل" ان کا بچپن تھا، جو آہوئے رمیدہ کی طرح اڑنچھو ہوگیا۔ اس ایک جملے میں بچپن کی پوری نفسیات سمٹ آئی ہے۔ بچپن واقعی خوشبو کی طرح ہوتا ہے۔ اسے پکڑا نہیں جا سکتا، اسے روکا نہیں جا سکتا۔ وہ چند لمحوں کے لئے انسان کے گرد مہکتا ہے اور پھر وقت کی ہوا اسے اڑا لے جاتی ہے۔ انسان جب پلٹ کر دیکھتا ہے تو صحن خالی ہو چکے ہوتے ہیں، درخت بوڑھے ہو چکے ہوتے ہیں، مٹی کی خوشبو بدل چکی ہوتی ہے اور ماں کی آواز صرف یادوں میں باقی رہ جاتی ہے۔ بچپن کے دن انسان کے وجود میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں مگر ان کی واپسی ممکن نہیں ہوتی۔ شاید اسی لئے بڑے بڑے فلسفی اور شاعر بڑھاپے میں جا کر بچپن کو سب سے زیادہ یاد کرتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ زندگی کی سب سے سچی دولت وہی تھی جو بے خبری کے عالم میں ان کے ہاتھوں سے نکل گئی۔

پھر شورش کاشمیری نے کہا کہ "نالۂ دل" ان کی جوانی تھی جو زندگی کے ترکش سے تیر کی طرح نکل گئی۔ جوانی دراصل انسان کی سب سے بے رحم عمر ہوتی ہے۔ اس میں خواب بھی سب سے زیادہ ہوتے ہیں اور زخم بھی سب سے گہرے لگتے ہیں۔ انسان اس زمانے میں دنیا فتح کرنا چاہتا ہے، محبتوں کو ہمیشہ کے لئے محفوظ کر لینا چاہتا ہے، اپنے نظریات کو آسمان پر لکھ دینا چاہتا ہے، مگر وقت اسے مہلت نہیں دیتا۔ جوانی کا زمانہ تیر کی مانند گزرتا ہے۔ پلک جھپکتی ہے اور انسان آئینے میں سفید بال تلاش کرنے لگتا ہے۔ یہی وہ عمر ہوتی ہے جس میں انسان سب سے زیادہ لڑتا ہے، سب سے زیادہ ٹوٹتا ہے، سب سے زیادہ محبت کرتا ہے اور سب سے زیادہ دھوکے کھاتا ہے۔ شورش کاشمیری جیسے حساس آدمی کے لئے جوانی صرف عمر کا ایک حصہ نہیں تھی بلکہ ایک مسلسل نالۂ دل تھی۔ ایک ایسا داخلی شور جو کبھی لفظوں میں ڈھلتا تھا، کبھی تقریروں میں اور کبھی خاموشی میں۔ ان کے اندر جو آگ تھی، وہ محض سیاسی اختلاف کی آگ نہیں تھی بلکہ اس احساس کی آگ تھی کہ انسان اپنے خوابوں سے مسلسل محروم کیا جا رہا ہے۔

ان کی تشریح کا سب سے گہرا حصہ "دودِ چراغِ محفل" ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان سانحات و حادثات کا نچوڑ ہے جنہیں مرحوم جوانی کے دوش پر اٹھائے پھرتا ہوں۔ یہ جملہ پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی تھکا ہوا مسافر صدیوں کا سفر طے کرکے کسی ویران سرائے میں بیٹھ گیا ہو۔ چراغ جب جلتا ہے تو روشنی دیتا ہے مگر اسی کے ساتھ دھواں بھی پیدا کرتا ہے۔ زندگی بھی یہی کرتی ہے۔ انسان دوسروں کے لئے مسکراتا ہے، روشنی بانٹتا ہے، محفلیں آباد کرتا ہے مگر اندر ہی اندر جلتا رہتا ہے۔ لوگ اس کی روشنی دیکھتے ہیں، اس کا دھواں نہیں دیکھتے۔ شورش کاشمیری نے اپنی زندگی کے اسی دھویں کو لفظوں میں محفوظ کیا۔ یہ دھواں ان ناکامیوں کا بھی تھا جو انہیں ملیں، ان دوستوں کی بے وفائیوں کا بھی تھا جو وقت کے ساتھ بدل گئے، ان سیاسی کشمکشوں کا بھی تھا جنہوں نے انہیں مسلسل بے چین رکھا اور ان خوابوں کا بھی تھا جو حقیقت کی دھوپ میں جل گئے۔

اصل میں بڑی خود نوشتیں صرف واقعات کا مجموعہ نہیں ہوتیں، وہ روح کے زخموں کی تاریخ ہوتی ہیں۔ انسان جب اپنی زندگی لکھتا ہے تو وہ صرف یہ نہیں بتاتا کہ اس نے کیا دیکھا، بلکہ یہ بھی بتاتا ہے کہ اس نے کیا محسوس کیا۔ شورش کاشمیری نے اپنی زندگی کو تین استعاروں میں سمیٹ دیا۔ خوشبو، آہ اور دھواں۔ یہی تو پوری انسانی زندگی ہے۔ بچپن خوشبو کی طرح بیت جاتا ہے، جوانی آہوں میں گزر جاتی ہے اور بڑھاپا دھویں کی مانند فضا میں تحلیل ہونے لگتا ہے۔ انسان آخرکار یادوں کا ایک بوسیدہ صندوق بن جاتا ہے۔ اس کے پاس کچھ تصویریں، کچھ خط، چند آوازیں اور چند نام باقی رہ جاتے ہیں۔ باقی سب کچھ وقت نگل جاتا ہے۔ مگر جو لوگ اپنے دکھ کو لفظوں میں ڈھال دیتے ہیں، وہ وقت کے ہاتھوں مکمل طور پر شکست نہیں کھاتے۔ ان کے لفظ آنے والی نسلوں کے دلوں میں دھڑکتے رہتے ہیں۔

شورش کاشمیری کی اس تشریح میں ایک اور عجیب سچائی بھی پوشیدہ ہے کہ انسان کی پوری زندگی دراصل ایک تدریجی جدائی ہے۔ پہلے بچپن جدا ہوتا ہے، پھر جوانی، پھر دوست، پھر خواب، پھر طاقت، پھر آواز اور آخر میں خود انسان دنیا سے جدا ہو جاتا ہے۔ لیکن کچھ لوگ اپنی جدائی کو ایسا حسن عطا کر دیتے ہیں کہ وہ فنا ہو کر بھی باقی رہتے ہیں۔ شورش کاشمیری انہی لوگوں میں سے تھے۔ ان کے لفظ آج بھی زندہ ہیں کیونکہ ان میں مصنوعی چمک نہیں بلکہ جلتے ہوئے دل کی حرارت ہے۔ وہ اپنی "طویل تلخیوں کی نعشِ خونچکاں" کو الفاظ میں کفنا کر چلے گئے، مگر ان کے یہ الفاظ آج بھی پڑھنے والے کے دل میں ایک عجیب اداسی، ایک عجیب روشنی اور ایک عجیب بیداری پیدا کرتے ہیں۔ یہی بڑے ادیب کی اصل پہچان ہوتی ہے کہ اس کا دکھ صرف اس کا ذاتی دکھ نہیں رہتا بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ دکھ بن جاتا ہے۔

Check Also

Sarkari Naukri Kyun Chori?

By Khateeb Ahmad