Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Peer Intizar Hussain Musawir
  4. Neeli Bar Ki Aag

Neeli Bar Ki Aag

نیلی بار کی "آگ"

بورے والا، پنجاب جنوبی پنجاب میں ساہیوال سے پاکپتن تک پھیلے نیلی بار کے اس خطے میں جب 1857ء کی جنگِ آزادی کی بازگشت سنائی دیتی ہے، تو ذہن میں پہلا نام رائے احمد خان کھرل کا آتا ہے۔ لیکن تاریخ کے اس ہنگامے میں ان کے وہ گمنام ساتھی کہیں گم ہو گئے جنہوں نے مزاحمت کی سب سے بڑی قیمت اپنی پہچان اور وراثت، کی صورت میں چکائی۔ آج، تقریباً پونے دو سو سال بعد، لڈن اور بورے والا کے درمیانی علاقوں میں موجود چند بوسیدہ عدالتی نقلیں ایک ایسی کہانی سناتی ہیں جو نہ صرف نوآبادیاتی دور کے انتقام کو بے نقاب کرتی ہے بلکہ آج کے معاشی تفاوت کی جڑوں تک بھی لے جاتی ہے۔

نیلی بار کا یہ علاقہ ہمیشہ سے اپنی سرکش طبیعت اور غیر ملکی تسلط کے خلاف مزاحمت کے لیے مشہور رہا ہے۔ 1857ء میں جب دہلی سے شروع ہونے والی چنگاری پنجاب تک پہنچی، تو یہاں کے قبائل نے انگریز کے خلاف علمِ بغاوت بلند کر دیا۔ رائے احمد خان کھرل کی قیادت میں ہونے والی اس مزاحمت کو کچلنے کے لیے برطانوی راج نے صرف گولی کا استعمال نہیں کیا، بلکہ ایک ایسا نفسیاتی اور معاشی نظام وضع کیا جس نے آنے والی کئی نسلوں کو بے بس بنا دیا۔ اس نظام کا اصل نشانہ وہ ہاشمی خاندان بنے جو اس وقت نہ صرف روحانی مراکز کے امین تھے بلکہ مجاہدین کے لیے پناہ گاہ اور افرادی قوت کا اصل ذریعہ بھی تھے۔ انگریز بخوبی جانتا تھا کہ جب تک ان خاندانوں کی جڑیں زمین اور عوام میں مضبوط ہیں، بغاوت کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں۔

مقامی روایات اور خاندانی یادداشتوں کے مطابق، 1857ء کی جنگ کے فوراً بعد ملتان کے ریکارڈ روم میں لگنے والی ایک پراسرار، آگ نے اس خطے کی تقدیر بدل کر رکھ دی۔ یہ آگ محض ایک اتفاق نہیں تھی بلکہ یہ ان تمام دستاویزی ثبوتوں کو مٹانے کی سازش معلوم ہوتی ہے جو مقامی قبائل اور ہاشمیوں کے حقِ ملکیت کو ثابت کرتے تھے۔ جب ثبوت راکھ ہو گئے، تو زمینوں کی ازسرِ نو تقسیم کا وہ عمل شروع ہوا جس کا فائدہ صرف انگریز کے وفاداروں کو پہنچا۔ ایک ایسی ہی دستاویز، جو اس راکھ سے بچ کر آج بھی حقیقت بیان کر رہی ہے، 18 جولائی 1858ء کے قریب کی ہے (جس کی نقل مصنف کے پاس محفوظ ہے)۔ یہ دستاویز اس وقت کے اسسٹنٹ کمشنر منشی شام لعل کی عدالت کی ایک ایسی کارروائی کی نشاندہی کرتی ہے جہاں زمینی حقوق کا فیصلہ وفاداری اور بغاوت، کی بنیاد پر کیا جا رہا تھا۔

اس کہانی کا سب سے سنگین اور تاحال نظر انداز کیا جانے والا پہلو وہ شناخت کشی، ہے جسے جان بوجھ کر تاریخ کا حصہ بنایا گیا۔ جب انگریزوں اور ان کے مقامی پیٹھو، مخبروں کا جال اس خطے میں ہر طرف پھیل گیا اور ہاشمی خاندانوں کے جوانوں کو چن چن کر شہید کیا جانے لگا، تو بقا کی ایک ہولناک جنگ شروع ہوئی۔ روایات بتاتی ہیں کہ اس کڑے وقت میں مائیں اپنے معصوم بچوں کو لے کر جنگلوں اور بیابانوں کی طرف نکل گئیں تاکہ کسی طرح قبیلے کا نام اور نسل بچائی جا سکے۔

انہی کٹھن حالات میں ان خاندانوں کو اپنی اصل پہچان چھپانی پڑی۔ تاریخ کے اس جبر نے انہیں چاولی، (خدمت گار اولاد) جیسے مقامی القابات میں مقید کر دیا۔ یہ محض ایک لقب کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ ایک سوچی سمجھی سماجی تنزلی تھی تاکہ ان کی علمی، روحانی اور ہاشمی وجاہت کو عوامی نظروں میں کم کیا جا سکے۔ ان ماؤں نے اپنے کم سن بچوں اور بوڑھوں کو بچانے کے لیے اس عارضی شناخت کو قبول تو کیا، لیکن اس کی قیمت یہ چکانی پڑی کہ آنے والی نسلیں اپنی اصل وراثت اور زمینوں سے محروم کر دی گئیں۔ انگریز کی یہ پالیسی نہایت کامیاب رہی، ان کی پہچان کو مقامی رنگ، دے کر انہیں ایک عام کاشتکار قبیلے کے طور پر پیش کیا گیا، جس کا مقصد ان کے معتقدین کے حلقے کو محدود کرنا اور انہیں معاشرے کے پسماندہ طبقے میں شامل کرنا تھا۔

1857ء کے بعد برطانوی راج نے انعام و اکرام، کی ایک ایسی سیاست شروع کی جس نے پنجاب کے سماجی ڈھانچے کو جڑوں سے ہلا کر رکھ دیا۔ منشی شام لعل جیسے مقامی افسران کو یہ ٹاسک دیا گیا کہ وہ ان خاندانوں کی فہرست بنائیں جنہوں نے تحریکِ آزادی کے ہیروز کو پناہ دی یا ان کا ساتھ دیا۔ ریکارڈز بتاتے ہیں کہ بعض سرپنچوں نے، جو اس وقت انگریز کے وفادار بنے ہوئے تھے، انتظامیہ کے ساتھ مل کر ان ہاشمی خاندانوں کی زمینوں پر حقِ ملکیت جتایا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ زمینیں جو نسلوں سے ہاشمیوں کے پاس تھیں، وفاداری کے صلے میں ان پیٹھو خاندانوں کو الاٹ کر دی گئیں، جبکہ حقداروں کو ان کی اپنی ہی زمینوں سے بے دخل کرکے دربدر کر دیا گیا۔

آج کا پنجاب ایک عجیب اور ہولناک تضاد کی تصویر پیش کرتا ہے۔ ایک طرف وہ خاندان ہیں جنہوں نے 1857ء میں دھرتی کے بیٹوں کے خلاف مخبری کی اور بدلے میں ملنے والی جاگیروں کے بل بوتے پر آج بھی سیاسی اقتدار کے ایوانوں میں براجمان ہیں۔ دوسری طرف وہ ہاشمی ہیں جنہوں نے غیرت کا سودا نہیں کیا، جنہوں نے رائے احمد خان کھرل کے ساتھ مل کر انگریز کے خلاف صف آرائی کی اور سب کچھ ہار دیا۔ بورے والا کے قریب بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ کا مزار آج بھی ان قربانیوں کا گواہ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مزارات کی یہ روحانی عظمت ان نسلوں کا پیٹ بھر سکتی ہے جنہیں انگریز دور کے منشیوں اور غدار سرپنچوں نے قلم کے وار سے بے زمین کر دیا تھا؟ یہ وہ خاندان ہیں جنہوں نے پناہ بھی دی، ساتھی بھی دیے اور آخر میں خود کو تنہا پایا۔

نیلی بار کی مٹی میں دبا یہ المیہ آج بھی ایک غیر جانبدارانہ سماجی اور تاریخی نظرِ ثانی کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ محض ایک خاندان کا دکھ نہیں، بلکہ ایک پورے خطے کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی کی داستان ہے جس کے اثرات آج بھی معاشی عدم مساوات کی صورت میں موجود ہیں۔ کیا منشی شام لعل کی قلم سے لکھی گئی وہ ناانصافی اب تاریخ کا اٹل فیصلہ بن چکی ہے؟ یا پھر ان ہاشمی خاندانوں کی نسلوں کو کبھی وہ پہچان اور حق واپس ملے گا جس کی گواہی ملتان کے جلے ہوئے ریکارڈ روم کی راکھ آج بھی دے رہی ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو نیلی بار کی ہواؤں میں آج بھی گونج رہا ہے اور ایک منصفانہ جواب کا منتظر ہے۔

Check Also

Kitab Tehzebon Ki Maa: Novel Maa Aik Kitab, Aik Ehad, Aik Inqilab (18)

By Asif Masood