Jab Qaumen Sawal Karna Chor Dein
جب قومیں سوال کرنا چھوڑ دیں

یہ زوال توپ و تفنگ کی شکست سے نہیں آتا، یہ وہاں جنم لیتا ہے جہاں اذہان نے سوال کرنے کی جرأت ترک کر دی ہو۔ جب عقل، روایت کی غلام بن جائے اور شعور، مصلحت کے ہاتھوں گروی رکھ دیا جائے تو قومیں زندہ لاشوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ ایسے معاشرے میں فکر چراغ نہیں رہتی، محض دھواں بن جاتی ہے اور دھواں سمت نہیں دیتا، صرف آنکھوں میں جلن چھوڑ جاتا ہے۔
کہاوت ہے کہ "ٹھہرا ہوا پانی بدبو پیدا کرتا ہے"، قوموں پر بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ جہاں فکری روانی رک جائے، وہاں جمود تعفن میں ڈھل جاتا ہے۔ ہمارے ہاں ذہنوں پر تالے ہیں اور ان تالوں کی کنجیاں خود انہی ہاتھوں میں ہیں جو تاریکی سے مفاد کشید کرتے ہیں۔ یہاں دانش کو گستاخی اور خاموشی کو دانائی سمجھا جاتا ہے، یہی وہ الٹا پیمانہ ہے جو زوال کو وقار کا لبادہ اوڑھا دیتا ہے۔
فلسفہ کہتا ہے کہ انسان کی قدر اس کے سوال سے متعین ہوتی ہے، مگر یہ معاشرہ جوابوں کی لاشیں اٹھائے پھرتا ہے، بے جان، بے معنی اور بوسیدہ۔ "اندھا وہ نہیں جس کی آنکھ نہ ہو، اندھا وہ ہے جو دیکھنا نہ چاہے"، ہم نے اجتماعی طور پر نہ دیکھنے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ اس حلف کا صلہ فکری بانجھ پن، اخلاقی کھوکھلا پن اور تہذیبی انحطاط کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔
نئی نسل کو خواب کے بجائے سراب دیا گیا ہے اور مقصد کے بجائے مصروفیت۔ „جس کے پاس سمت نہ ہو، اس کے لیے ہر راستہ غلط ہوتا ہے"، یہی حال آج کے نوجوان کا ہے۔ وہ معلومات کے انبار تلے دبا ہوا ہے، مگر حکمت سے محروم، الفاظ اس کے پاس بہت ہیں، مگر معنی نایاب۔ یوں لگتا ہے جیسے شعور کو قسطوں پر بیچ دیا گیا ہو اور بدلے میں سہولت کی زنجیریں تھما دی گئی ہوں۔
اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے فکری بونے، قوم کو فکری دیو بننے سے اس لیے روکتے ہیں کہ "بیدار ذہن تخت نہیں مانگتے، جواب مانگتے ہیں"۔ چنانچہ یہاں سوچ کو مذہب، روایت یا حب الوطنی کے نام پر سولی پر چڑھا دیا جاتا ہے۔ یہ وہ سماج ہے جہاں سچ بولنا خودکشی اور جھوٹ بولنا حبِ وطن کہلاتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے: "جو قومیں خود کو بدلنے سے انکار کر دیں، وقت انہیں مٹا دیتا ہے"۔ سوال یہ نہیں کہ ہم زوال کا شکار ہیں یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس زوال کو پہچاننے کی اخلاقی جرأت بھی رکھتے ہیں؟ کیونکہ پہچان کے بغیر اصلاح محض خوش فہمی ہوتی ہے اور خوش فہمیاں قوموں کو نہیں بچاتیں۔

