Sarkari Hospitals Aur Awam Ki Umeedein
سرکاری ہسپتال اور عوام کی امیدیں

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں صحت کی سہولیات کسی بھی ریاست کی کارکردگی کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں سرکاری ہسپتالوں کی حالت ایسی نہیں جیسی ایک مہذب معاشرے میں ہونی چاہیے۔ عوام کی ایک بڑی تعداد انہی ہسپتالوں پر انحصار کرتی ہے، مگر اکثر اوقات انہیں وہ سہولیات میسر نہیں آتیں جن کی انہیں اشد ضرورت ہوتی ہے۔
حال ہی میں بورے والا کے (ٹی ایچ کیو) تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں پیش آنے والا ایک ذاتی مشاہدہ اس حقیقت کو مزید واضح کرتا ہے۔ 31 مارچ کی رات تقریباً 10: 30 بجے شدید سر درد کے باعث ایمرجنسی وارڈ کا رخ کیا، جہاں مریضوں کا بے پناہ رش تھا مگر صرف دو ڈاکٹرز موجود تھے۔ یہ منظر نہ صرف افسوسناک تھا بلکہ ہمارے صحت کے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان بھی تھا۔
ایمرجنسی وارڈ کسی بھی ہسپتال کا سب سے حساس شعبہ ہوتا ہے، جہاں ہر لمحہ قیمتی ہوتا ہے۔ مگر جب وہاں عملہ ہی ناکافی ہو تو مریضوں کو بروقت طبی امداد فراہم کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ ایسے حالات میں نہ صرف مریض اذیت کا شکار ہوتے ہیں بلکہ ان کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔
یہ مسئلہ صرف ایک ہسپتال تک محدود نہیں بلکہ ملک کے بیشتر سرکاری ہسپتال اسی طرح کے مسائل سے دوچار ہیں۔ کہیں ڈاکٹرز کی کمی ہے، کہیں ادویات نایاب ہیں اور کہیں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک عوام ان مسائل کا شکار رہیں گے؟
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ صحت کے شعبے کو اولین ترجیح دے۔ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور نرسنگ اسٹاف کی تعداد بڑھائی جائے، جدید طبی آلات فراہم کیے جائیں اور ایمرجنسی سروسز کو بہتر بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک مؤثر مانیٹرنگ سسٹم بھی قائم کیا جائے تاکہ کسی بھی قسم کی غفلت یا بدانتظامی کو فوری طور پر روکا جا سکے۔
دوسری جانب، ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ ڈاکٹرز اور طبی عملہ اپنی محدود سہولیات کے باوجود دن رات محنت کر رہے ہیں۔ ان کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں، مگر جب نظام ہی کمزور ہو تو انفرادی محنت بھی مکمل نتائج نہیں دے پاتی۔
یہ وقت ہے کہ ہم سب مل کر اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھیں اور اس کے حل کے لیے آواز اٹھائیں۔ صحت ایک بنیادی انسانی حق ہے اور کسی بھی شہری کو اس سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر آج ہم نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو کل حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ سرکاری ہسپتال عوام کی آخری امید ہوتے ہیں۔ اگر یہی امید کمزور پڑ جائے تو معاشرے میں بے چینی اور مایوسی بڑھتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان اداروں کو مضبوط بنایا جائے تاکہ ہر شہری کو معیاری اور بروقت علاج میسر آ سکے۔

