Wednesday, 25 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Nouman Ali Bhatti
  4. Sahafat Ka Haq Ada Karna

Sahafat Ka Haq Ada Karna

صحافت کا حق ادا کرنا

صحافت محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک مقدس ذمہ داری ہے۔ یہ وہ طاقت ہے جو معاشرے کی آنکھ، کان اور زبان بنتی ہے۔ ایک صحافی سچ کو سامنے لانے، ظلم کو بے نقاب کرنے اور عوام کی آواز کو ایوانوں تک پہنچانے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا آج ہم واقعی صحافت کا حق ادا کر رہے ہیں؟

ماضی میں صحافت کو ایک مشن سمجھا جاتا تھا۔ صحافی اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر سچ لکھتے تھے، حق کے لیے کھڑے ہوتے تھے اور ہر قیمت پر دیانتداری کو ترجیح دیتے تھے۔ ان کے قلم میں طاقت بھی تھی اور سچائی بھی۔ مگر آج کے دور میں صحافت کئی چیلنجز کا شکار ہو چکی ہے۔

آج میڈیا کے بیشتر ادارے ریٹنگ، مفادات اور دباؤ کی سیاست میں الجھ چکے ہیں۔ سچ کے بجائے سنسنی کو ترجیح دی جاتی ہے، تحقیق کے بجائے جلدی خبر دینے کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور حقیقت کے بجائے بیانیہ بیچا جا رہا ہے۔ اس سب کا سب سے بڑا نقصان عام انسان کو ہوتا ہے، جو سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔

صحافت کا بنیادی اصول غیر جانبداری اور سچائی ہے۔ ایک صحافی کا کام کسی خاص گروہ، جماعت یا شخصیت کی حمایت کرنا نہیں بلکہ حقیقت کو سامنے لانا ہے۔ جب صحافت جانبدار ہو جائے تو وہ اپنا اصل مقصد کھو دیتی ہے اور پھر وہ عوام کی رہنمائی کے بجائے انہیں گمراہ کرنے لگتی ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ صحافیوں کو آج کئی خطرات کا سامنا ہے۔ سچ بولنا آسان نہیں رہا، دباؤ، دھمکیاں اور مالی مسائل اس پیشے کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود وہی صحافی کامیاب ہے جو ہر حال میں حق کا ساتھ دے، چاہے اس کے لیے اسے قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے۔

ڈیجیٹل دور نے صحافت کو ایک نئی شکل دی ہے۔ اب ہر شخص کے ہاتھ میں موبائل ہے اور ہر کوئی خود کو صحافی سمجھتا ہے۔ سوشل میڈیا نے معلومات کو تیز تو کر دیا ہے، مگر اس کے ساتھ جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈے کا سیلاب بھی آ گیا ہے۔ ایسے میں اصل صحافت کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ سچ کو جھوٹ سے الگ کرے اور عوام تک درست معلومات پہنچائے۔

صحافت کا حق ادا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم سچ کو مقدم رکھیں، تحقیق کو ترجیح دیں اور ہر خبر کو ذمہ داری کے ساتھ پیش کریں۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایک غلط خبر نہ صرف کسی فرد بلکہ پورے معاشرے کو متاثر کر سکتی ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ صحافت کو دوبارہ اس کے اصل مقام پر لایا جائے۔ اسے کاروبار کے بجائے ایک خدمت سمجھا جائے اور صحافیوں کو وہ آزادی دی جائے جس کے بغیر سچ سامنے نہیں آ سکتا۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ صحافت کا حق صرف اسی وقت ادا ہو سکتا ہے جب قلم بکنے کے بجائے سچ کے لیے اٹھے، جب خبر مفاد کے بجائے حقیقت پر مبنی ہو اور جب صحافی اپنے فرض کو عبادت سمجھ کر انجام دے۔

Check Also

Sahafat Ka Haq Ada Karna

By Nouman Ali Bhatti