Petrol Bomb Gir Gaya
پیٹرول بم گر گیا

وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ایک بار پھر عوام پر "پیٹرول بم" گرانے کے مترادف ہے۔ سرکاری اعلان کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 23 پیسے فی لیٹر اضافہ کرکے اسے 458 روپے 40 پیسے فی لیٹر مقرر کر دیا گیا ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے 49 پیسے اضافہ کے بعد نئی قیمت 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے۔ یہ اضافہ آج رات 12 بجے سے نافذ العمل ہو چکا ہے اور اس کے اثرات فوری طور پر ہر شہری کی زندگی میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔
یہ صرف قیمتوں کا اضافہ نہیں بلکہ ایک ایسا معاشی جھٹکا ہے جس نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ خاص طور پر جب حکومت کی جانب سے کسی قسم کی واضح سبسڈی فراہم نہیں کی جا رہی، تو یہ بوجھ براہِ راست عوام پر منتقل ہو جاتا ہے۔ پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے شہریوں کے لیے یہ اضافہ کسی قیامت سے کم نہیں۔
سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ وہ ہے جو روزانہ کی بنیاد پر کماتا اور کھاتا ہے۔ رکشہ ڈرائیور، ویگن چلانے والے، ڈیلی ویجز مزدور اور چھوٹے ملازمین، سب ہی اس اضافے کے بعد شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ ایک طرف آمدنی محدود ہے، دوسری طرف اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔
ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے اثرات تو اور بھی زیادہ خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ ملک میں زیادہ تر ٹرانسپورٹ اور زرعی مشینری ڈیزل پر چلتی ہے۔ جب ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو گندم، سبزی، پھل اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ یوں مہنگائی کا ایک نیا طوفان جنم لیتا ہے جس کا کوئی فوری حل نظر نہیں آتا۔
سبسڈی نہ ہونے کی وجہ سے صورتحال مزید سنگین ہو جاتی ہے۔ ماضی میں حکومتیں کچھ نہ کچھ ریلیف فراہم کر دیتی تھیں تاکہ عوام کو مکمل بوجھ نہ اٹھانا پڑے، مگر اب ایسا دکھائی دیتا ہے کہ حکومت نے مکمل طور پر یہ بوجھ عوام کے کندھوں پر ڈال دیا ہے۔ یہ پالیسی نہ صرف عوامی مشکلات میں اضافہ کرتی ہے بلکہ حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے کو بھی بڑھاتی ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ اس فیصلے کی بنیادی وجہ ہیں۔ مگر عوام کا سوال یہ ہے کہ کیا اس کا حل صرف قیمتیں بڑھانا ہی ہے؟ کیا ملک میں کوئی ایسی پالیسی نہیں بنائی جا سکتی جو عوام کو ریلیف دے سکے؟
یہ وقت ہے کہ حکومت سنجیدگی سے متبادل توانائی کے ذرائع پر توجہ دے۔ الیکٹرک گاڑیاں، سولر انرجی اور پبلک ٹرانسپورٹ کے بہتر نظام کو فروغ دے کر نہ صرف پیٹرول پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے بلکہ عوام کو بھی مہنگائی سے کچھ حد تک بچایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب عوام کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ غیر ضروری سفر سے بچنا، کار پولنگ کو فروغ دینا اور ایندھن کے استعمال میں احتیاط برتنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگرچہ یہ اقدامات مسئلے کا مکمل حل نہیں، مگر وقتی طور پر کچھ ریلیف ضرور فراہم کر سکتے ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی اور عوام کو کسی قسم کا ریلیف نہ ملا تو یہ مہنگائی نہ صرف معیشت بلکہ سماجی استحکام کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ حکومت کو فوری طور پر سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے، ورنہ عوام کا صبر جواب دے سکتا ہے۔

