Sunday, 29 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Nouman Ali Bhatti
  4. Nojawan, Driving License Aur Helmet Ki Ahmiyat

Nojawan, Driving License Aur Helmet Ki Ahmiyat

نوجوان، ڈرائیونگ لائسنس اور ہیلمٹ کی اہمیت

ہمارے معاشرے میں نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ سمجھے جاتے ہیں۔ انہی کے جذبے، توانائی، سوچ اور عمل سے مستقبل کی سمت کا تعین ہوتا ہے۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہمارے بہت سے نوجوان سڑکوں پر اپنی زندگی اور دوسروں کی جان کو غیر ضروری خطرات میں ڈال رہے ہیں۔ موٹر سائیکل یا گاڑی چلانا آج ایک ضرورت بن چکا ہے، لیکن اس ضرورت کے ساتھ ذمہ داری، قانون کی پابندی اور حفاظتی شعور بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ خاص طور پر ڈرائیونگ لائسنس اور ہیلمٹ جیسے بنیادی اصولوں کو نظر انداز کرنا ایک سنگین سماجی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔

روزانہ سڑکوں پر ہم دیکھتے ہیں کہ کم عمر یا بغیر لائسنس نوجوان موٹر سائیکلیں دوڑاتے نظر آتے ہیں۔ بعض اوقات ایک ہی موٹر سائیکل پر تین تین افراد سوار ہوتے ہیں، رفتار تیز ہوتی ہے، کانوں میں ایئر فون لگے ہوتے ہیں اور سر پر ہیلمٹ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ یہ صرف قانون شکنی نہیں بلکہ اپنی زندگی کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے۔ نوجوانی جوش کا نام ضرور ہے، مگر یہ جوش اگر ہوش سے خالی ہو تو حادثے، معذوری اور پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں دیتا۔

ڈرائیونگ لائسنس دراصل ایک سرکاری کاغذ سے کہیں بڑھ کر ایک ذمہ داری کی سند ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے والا فرد ٹریفک قوانین سے واقف ہے، سڑک کے اصول جانتا ہے اور ہنگامی حالات میں درست ردِعمل دے سکتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں بہت سے نوجوان اسے غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ بعض لوگ یہ سوچتے ہیں کہ گاڑی چلانا آ گئی تو لائسنس کی کیا ضرورت ہے، حالانکہ اصل مسئلہ صرف گاڑی چلانا نہیں بلکہ محفوظ انداز میں چلانا ہے۔

اسی طرح ہیلمٹ کا استعمال بھی ہمارے نوجوانوں میں ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ کئی نوجوان صرف اس لیے ہیلمٹ نہیں پہنتے کہ ان کے خیال میں اس سے ان کی شخصیت یا بالوں کا اسٹائل متاثر ہوتا ہے۔ کچھ اسے گرمی یا بے آرامی کا بہانہ بنا لیتے ہیں۔ مگر ایک لمحے کی یہ لاپرواہی پوری زندگی کا دکھ بن سکتی ہے۔ حادثے کے وقت سر کی چوٹ سب سے خطرناک ہوتی ہے اور ایک معیاری ہیلمٹ کئی قیمتی جانوں کو بچا سکتا ہے۔ یہ محض ایک چیز نہیں بلکہ زندگی کی حفاظت کی ڈھال ہے۔

افسوسناک پہلو یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر بھی بعض اوقات نوجوان خطرناک اسٹنٹس، ون ویلنگ اور تیز رفتاری کو بہادری سمجھتے ہیں۔ دوستوں میں داد لینے یا ویڈیو بنانے کے لیے وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ ایسے رویے نہ صرف ان کے اپنے لیے بلکہ سڑک استعمال کرنے والے دوسرے لوگوں کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔ ہمیں نوجوان نسل کو یہ سمجھانا ہوگا کہ اصل بہادری قانون کی پابندی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے میں ہے، نہ کہ لاپرواہی میں۔

والدین کا کردار بھی یہاں بہت اہم ہے۔ اکثر گھروں میں کم عمر بچوں کو موٹر سائیکل دے دی جاتی ہے، حالانکہ نہ ان کے پاس لائسنس ہوتا ہے اور نہ ہی مکمل سمجھ۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو صرف سواری نہ دیں بلکہ سڑک کے آداب، قوانین اور حفاظتی اصول بھی سکھائیں۔ جب گھر سے شعور ملے گا تو باہر معاشرہ بھی بہتر ہوگا۔

حکومت اور ٹریفک پولیس کی ذمہ داری اپنی جگہ، مگر اصل تبدیلی شعور سے آتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں ٹریفک قوانین، روڈ سیفٹی اور ہیلمٹ کی اہمیت پر باقاعدہ آگاہی پروگرام ہونے چاہئیں۔ اسکول اور کالج کی سطح پر نوجوانوں کو بتایا جائے کہ ایک لمحے کی غلطی ان کی پوری زندگی بدل سکتی ہے۔ اگر ہم اپنی نئی نسل کو قانون کی پاسداری اور اپنی جان کی قدر سکھا دیں تو حادثات میں بڑی حد تک کمی ممکن ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان ہیرو بننے کے بجائے ذمہ دار شہری بننے کی کوشش کریں۔ لائسنس حاصل کرنا، ہیلمٹ پہننا، رفتار کو قابو میں رکھنا اور ٹریفک اشاروں کی پابندی کرنا کسی کمزوری کی علامت نہیں بلکہ باشعور ہونے کی نشانی ہے۔ ایک مہذب قوم کی پہچان اس کے سڑکوں کے نظم و ضبط سے بھی ہوتی ہے۔

نوجوان اگر چاہیں تو وہ صرف اپنی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی سوچ بدل سکتے ہیں۔ جب ایک نوجوان ہیلمٹ پہنتا ہے، لائسنس بنواتا ہے اور قانون کی پابندی کرتا ہے تو وہ دوسروں کے لیے بھی مثال بنتا ہے۔ یہی مثالیں رفتہ رفتہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لاتی ہیں۔

آخر میں یہی کہنا مناسب ہوگا کہ ڈرائیونگ لائسنس اور ہیلمٹ نوجوانوں کے لیے بوجھ نہیں بلکہ زندگی کی ضمانت ہیں۔ جو نوجوان اپنی جان کی قدر کرتا ہے، وہی اپنے خاندان کے خوابوں اور اپنے مستقبل کی حفاظت بھی کرتا ہے۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو یہی شعور دینا ہوگا کہ سڑک پر احتیاط ہی اصل دانشمندی ہے۔

Check Also

Waqt: Zindagi Ka Ghair Maree Sarmaya

By Asif Masood