Friday, 20 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Nouman Ali Bhatti
  4. Eid Ul Fitr Ki Amad, Akhri Roza Aur Intizar

Eid Ul Fitr Ki Amad, Akhri Roza Aur Intizar

عیدالفطر کی آمد، آخری روزہ اور انتظار

رمضان المبارک اپنی آخری گھڑیوں میں داخل ہو چکا ہے۔ ایک روزہ باقی ہے اور اس کے بعد عیدالفطر کی خوشیاں ہماری دہلیز پر ہوں گی۔ یہ وہ لمحات ہیں جن میں دل عجیب سی کیفیت کا شکار ہوتا ہے، ایک طرف رمضان کے رخصت ہونے کا غم اور دوسری طرف عید کی آمد کی خوشی۔ یہی امتزاج اس مہینے کو اور بھی یادگار بنا دیتا ہے۔

آخری روزہ محض ایک دن نہیں بلکہ پورے رمضان کا نچوڑ ہوتا ہے۔ اس دن انسان اپنے پورے مہینے کا جائزہ لیتا ہے کہ اس نے کیا کھویا اور کیا پایا۔ کیا ہم نے واقعی صبر سیکھا؟ کیا ہم نے دوسروں کے درد کو محسوس کیا؟ کیا ہماری عبادات میں اخلاص تھا؟ یہ سوالات ہمیں خود احتسابی کی طرف لے جاتے ہیں، جو کہ رمضان کا اصل مقصد ہے۔

جیسے جیسے عید قریب آتی ہے، گھروں میں تیاریوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ بازاروں میں رونق بڑھ جاتی ہے، بچے نئے کپڑوں کے لیے پرجوش نظر آتے ہیں اور خواتین گھریلو تیاریوں میں مصروف ہو جاتی ہیں۔ مگر ان سب سرگرمیوں کے درمیان ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ عید کی اصل خوشی عبادت کے بعد حاصل ہوتی ہے، نہ کہ صرف ظاہری تیاریوں سے۔

اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ عید سے پہلے صدقۂ فطر ادا کیا جائے تاکہ معاشرے کے غریب اور نادار افراد بھی اس خوشی میں برابر کے شریک ہو سکیں۔ یہ ایک ایسا خوبصورت نظام ہے جو ہمیں احساس دلاتا ہے کہ ہماری خوشی اس وقت مکمل ہوتی ہے جب ہمارے اردگرد موجود ہر شخص مسکرا رہا ہو۔

آخری روزہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ زندگی میں ہر اچھی چیز کا اختتام ہوتا ہے، لیکن اس کے اثرات ہمیشہ باقی رہتے ہیں۔ رمضان ہمیں جو سبق دے کر جا رہا ہے، اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم ان اسباق کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لیں۔ اگر ہم نے اس مہینے میں صبر، برداشت اور نیکی کو اپنایا ہے تو عید کے بعد بھی ان خوبیوں کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔

آج کے دور میں جہاں مصروفیات اور مادی چیزوں نے ہمیں گھیر رکھا ہے، عید کا پیغام ہمیں سادگی اور خلوص کی طرف واپس بلاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے رشتہ داروں، دوستوں اور خاص طور پر ان لوگوں کو یاد رکھیں جو تنہا ہیں یا مشکلات کا شکار ہیں۔ ایک فون کال، ایک ملاقات یا ایک چھوٹا سا تحفہ بھی کسی کے لیے بڑی خوشی کا باعث بن سکتا ہے۔

عیدالفطر صرف خوشی منانے کا دن نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا موقع ہے کہ اس نے ہمیں رمضان جیسے بابرکت مہینے تک پہنچایا اور عبادت کی توفیق دی۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہیں۔

کل جب ہم آخری روزہ رکھیں گے تو ہمیں چاہیے کہ اسے پورے خلوص اور جذبے کے ساتھ مکمل کریں۔ زیادہ سے زیادہ عبادت کریں، دعا کریں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔ کیونکہ یہی وہ لمحات ہیں جو ہماری زندگی کو بدل سکتے ہیں۔

آخر میں، عید کی آمد ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی آتی ہے اور ہر صبر کے بعد خوشی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس عید کی حقیقی خوشیوں سے نوازے اور ہمیں ایک بہتر انسان بننے کی توفیق عطا فرمائے۔

Check Also

Multan, Bahawalpur, Kabul Se Tehran Tak

By Rauf Klasra